شہری پراپرٹی پر قبضے سےمتعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں،دنوں میں فیصلہ ہوگا: مریم نواز - Daily Ausaf

زرافہ

Well-known member
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق پنجاب میں شہری زمین اور پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست جمع کرائی جائے گی، دنوں میں فیصلہ ہوگا۔

انھوں نے اعلان کیا کہ زمین کےOriginal مالک کا ہی قبضہ ہوگا اور اس سے متعلق کسی بھی فرد کو انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر فوری اور صاف قبضہ نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بعد ملک میں ہر مرلے، ہر کنال اور ہر ایکڑ پر صرف اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا۔

شہری زمین یا پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست جمع کرائی جائے گی، دنوں میں فیصلہ ہوگا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ زمین کے مقدمات میں فیصلے پر فوری قبضہ دیا جائے گا اور کوئی سفارش نہیں چلے گی۔

انھوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ زمین کےOriginal مالک کا ہی قبضہ ہوگا اور اس سے متعلق کسی بھی فرد کو انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر فوری اور صاف قبضہ نہیں دیا جائے گا۔
 
یہ واضح ہے کہ شہر میں زمین کی ملکیت کو ایسا سیکھنا چاہئے جیسا کہ شہریں اپنے گھروں کی صحت کو دیکھتے ہیں اور یہ بات بھی اس پر فائز ہونا چاہئے کہ ہر ملکیت والا اس سے لائحہ دوایا پاتا ہو اور اپنے حقائق کو دیکھتا ہو
 
اس کو دیکھتے ہی سے تو یہ بھی پتا چلا کہ شہری زمین پر قبضے میں آئی ایس آف ویلو سے متعلق کسی بھی بات نہیں ہوتی، دیکھتے ہی سے پتا چلا کہ وہاں کی آمریسی اور برطانیہ میں رہنے والے لوگوں کو بھی اسی طرح کے قبضے سے نجات مل گی، یہ سب ایسا لگتا ہے کہ ان پالیسیوں پر معطلی ہو چکی ہے اور مریم نواز کی جانب سے کی گئی تمام announcements کو دیکھتے ہی سے یہ بھی پتا چلا کہ اس کا مفادات کا ہدف وہی ہے، ان پالیسیوں پر معطلی ہونے کی صورت میں تو یہ سب ایسے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو اس معاملے سے نکل گئے ہیں اور وہاں کے زمینداروں کو تو یہ سب اُس کی ملکیت پر قبضے سے رکاوٹ بنائے گا، ایسا لگتا ہے!
 
جب تک کہ شہر کی زمینوں پر قبضے نہیں ہوتی رہے، وہ لوگ سچ میں بھی نہیں ہوتے ۔ مریم نواز کی بات سے یہ بات بھی صاف ہو گئی ہے کہ زمین کا اصل مالک ہی اس پر قبضہ کرے گا، نہیں تو ملک بھر میں حالات کو خراب کردیا جائے گا। یہ بات اچھی ہوگی کہ تمام درخواستیں دنوں میں جمع کی جائیں گی اور فیصلے ہونے پر قبضے کا کام ہوا کرے گا۔
 
یہ واضح ہوگا کہ پنجاب میں شہری زمین پر قبضے کے مामलے میں فیصلہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لہذا اگر آپ اپنی زمین کی وضاحت چاہتے ہیں تو اٹھارہ دنوں کے اندر اپنا دعویٰ جمع کرائے گا 🕒️، اس سے قبل یقین رکھیے کہ وہ سبسKrption پر قبضہ نہیں کریں گے، یہ صرف اسی کی ہوگی جس کو اس زمین کاOriginal مالک سمجھا جائے گا، مگر یہ بات ضرور دیکھ لیں کہ وہ کون سا فرد ہوگا، اس پر قبضہ دیا جائے گا اور کوئی بھیIndustrial یا Government مقامات پر فوری اور صاف قبضہ نہیں کریں گے 😐
 
ایک چیلنج بن گیا ہے کہ شہری زمین اور پراپرٹی کس کی ملگیں کرے گا؟ یہ ایک واضح بات ہے کہ کوئی بھی فرد اپنے قبضے سے انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر فوری اور صاف قبضہ نہیں کر سکے گا، یہ صرف زمین کے اصل مالک ہی کی ملگیں کر سکتے ہیں۔
اس بات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ ایک مرلے، کنال یا ایکڑ کا قبضہ صرف اصل مالک ہی ہوگا، یہ ہر کس کو مل سکتا ہے نہیں۔ اس بات پر کھپت ہے کہ اس میں کسی بھی فرد کو انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر فوری اور صاف قبضہ دیا جائے گا؟
 
ایسے تو کیا نہیں ہوا ہوگا؟ شہری زمین پر قبضے سے متعلق DC Office میں_REQUEST جمع کرائی جائے گی، تو اس میں کیسے فیصلہ ہوگا؟ ابھی بھی لوگ اپنے گھروں کے بارے میں فیکس کریں گے تو یہ کیسے چلے گا؟ یا وہ آپ سے کہتے ہوں گے کہ ایک روز میرا گھر کچھ نہیں رہ جائے گا تو یہ کیسے چلے گا؟ اب تو ہمیں بھی سارے ویلوں میں اپنی زمین کی کھان پین کی صورت کو محفوظ کرنا ہوگا
 
ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے آخری برتاؤ سے پہلے بھی یہ بات پر غور کیا تھا کہ شہری زمین پر قبضے کے حالات ساف رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب تک کے مظالم اور بدلوں میں ان کا کوئی حل نہیں آ سکا، لیکن یہ بات اس وقت پر آری ہوگी کہ وزیر اعلیٰ کی نئی پالیسی کو ایک صاف طریقے سے لागू کیا جائے گا۔ فوری اور صاف قبضہ نہیں ہونے والا ہے، یہ بات سچ ہے لیکن اس کی پیروی کرنے کے امکانات بھی ہیں?
 
یہ بات کوئی بات نہیں ہے کہ پنجاب میں شہری زمین اور پراپرٹی پر قبضے کی समस्यہ بڑھتی چلی رہی ہے 🤯۔ اگر ڈی سی آفس میں درخواست جمع کرائی جاتی ہے تو یہ ایک بڑا قدم ہوگا اس کے بعد ملک بھر میں لوگ اپنے حقوق کی واپسی کا اہداف دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بات تھوڑی سے سچائی پتی ہے کہ اس کے لئے پورے ملک میں ایک ہی فریم ورک ہونا چاہیے اور اس کو اس طرح بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کوئی بھی فرد انہیں حاصل نہیں کر سکا۔
 
عہد میں یہ اعلان ہوا کہ شہری زمین پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست جمع کرائی جاگی اور فیصلہ دنوں میں ہوگا۔ لیکن اس سے پہلے یہ سوال تھا کہ کیا یہ معاملات انڈسٹریل مقامات پر بھی ہوگی یا نہیں؟ اور انڈسٹریل مقامات پر قبضے کی بات کروتی وقت ایسی س्थیت بن گیا دی گئی کہ اس میں کوئی بھی شخص فوری اور صاف قبضہ کر sakta hai؟
اس پر یہ بات بھی پوچھنی چاہیے کہ اس فیصلے سے جو کچھ انڈسٹریل مقامات کو متاثر ہوئی گا یا نہیں؟ اور اس معاملے میں کوئی بھی فرد کو فوری اور صاف قبضہ کر sakta hai یا پھر کچھ روکی گئی؟
مریم نواز کی باتوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت تک نہیں ہوگا جتنا کہ اس کے بعد کسی کا بھی قبضہ روک دیا جا سکے؟
 
یہ واضع ہی ہے کہ مریم نواز کو انسپائرٹ کرنا پڑتا ہے؟ زمین پر قبضے کی ایک ڈی سی آفس بنانے سے کیا اس کا بچہ پیدا ہوگا؟ اور فوری قبضے پر بات کرنے والے لوگ نہیں ہوتے تو کسے کوئی کھیل رہا تھا?

اس کی بیان کرتے ہوئے کہ زمین کے اصل مالک کا قبضہ ہونا چاہیے، یہ تو کہہ لوگ تھے کہ وہ کس کو فوری قبضہ دیتے؟ اور انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر اس سے متعلق کوئی بھی فرد کو قبضہ نہ دیا جائے گا، ہم تو اچھا لگاتے ہیں کہ زمین کا ڈی کیو سی بھی اچھا چلاتا ہے؟
 
🤔 میں تو سمجھتے ہوں کہ شہری زمین اور ملکیت پر قبضے سے متعلق ایسا ڈی سی آفس قائم ہونے والا ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ کس طرح ان درخواستوں کو جمع کرایا جائے گا؟ اور فیصلے پر کوئی انتباہ نہیں دی گئی تھی کہ اس میں فوری قبضہ کیسے ہوگا؟ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ملکیت کی ایسی سرکاری منزلیں قائم ہونے والی ہیں کہ وہ فوری طور پر قبضہ کر سکیں؟ یا یہ بھی یقینا نہیں کہ زمین کے اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا؟
 
🤦‍♂️ یہ ڈی سی آفس کیسے کام کرتی ہے؟ کتنے دنوں میں فیصلہ ہوتا ہے؟ یہ سوال پہل سے ضروری ہیں کیونکہ ہر ایک کو جاننا چاہئے کہ اس نے اپنی زمین پر قبضہ کرائی ہو۔ لیکن یہ بھی بات یقینی ہے کہ انڈسٹریل مقامات پر فوری اور صاف قبضہ نہیں دیا جائے گا؟ اس سے اس بات کو بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ ڈی سی آفس کتنے سے ملتا ہے؟ 🤑
 
ایسی بات تو بالکلFair Hai, ایک بار فیصلہ ہوجاتا ہے تو ملک بھر میں یہ سب ہم آئے گا کہ ہر مرلے میں اصل مالک کی ہی قبضہ ہوگی اور کوئی بھی فرد انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر فوری قبضہ نہیں کرتا گا 😊

ایسا لگتا ہے که وزیر اعلیٰ مریم نواز کی یہ decison Pakistan ki Progress ke liye ek Important step hai, jab tak yeh sab sahi se nahi hojata, to koi bhi cheez apne ghar ko chun laga gya tha 😔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ ایک دھچکنے والی بات ہوگی اور اس سے ملنے والے لوگوں کے لیے بڑی problem hoga. abhi to koi bata nahi raha hai ki iske peeche kya kaaran hai, kyunki aaj tak koi bhi solution nahi aayi thi. mera khayal hai yeh ek political move tha aur iske peeche government ya koi industry ki company hai.
 
🌞 اچھا ہے، پنجاب میں شہری زمین اور پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست جمع کرائی جا رہی ہے، یہ بات کوئی نہیں چاہتا کہ زمین پر انساف کا راستہ ہو گا۔ اس سے لوگ ایک نئی ایسی دuniya کا مطالعہ کرن گے، جہاں زمین کے مالک کی جانب سے ایسے معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے جو پچھلے عرصے سے دیر بھری ہوئی ہیں۔ یہ بات تو صحت مند ہے، مگر اس کی تکمیل اس وقت ہوگی جب لوگ اپنے فیکٹرز کے انداز میں کام کریں گے، ایک دوسре پر انحصار نہیں کریں گے اور ایسی منافقت سے بھاگتے ہوئے نہیں رہیں گے جن کا نتیجہ ملک کو پٹنے لگے۔
 
البتہ، اس کے بارے میں بات کرنا تھوڑا ایسا اچھا ہوتا جو کہ ہر ایک کی زمین یا پراپرٹی کو بھی اس سے الag کیا جائے، سبک و سربند نہیں رہنا چاہئے۔

اس وقت دوسرے رہو ہے کہ سرکاری اداروں کو کسی بھی Individual کو ایسا فائدہ نہ دیا جائے جس سے وہ ہر کسی سے موافقت حاصل کر سکتا ہو، ایک فری مارکیٹ کا احترام ہو گا۔
 
یہ واضح ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی یہ announcement ہے کہ ہم اپنی شہری زمینوں پر قبضے سے نکلنا چاہتے ہیں اور ابھی تک کے طور پر اسے ایک problem رہا ہے، ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ زمین کے original مالک کو اپنی lands پر قبضہ ہو اور اس سے قبل کوئی ایسا person قبضہ نہیں کرے جو industry ya government offices par, yeh to understand karo. 😊
 
ایک بہت ہی بڑی خوشی ہوگئی ہۈ، اس سے قبل ہمیں زمین پر قبضہ کے ملازمتوں میں لڑنا پڑتا تھا تو اب یہ سب ختم ہو جائے گا… پچاس سال کی نوجوانی میں ہمیں مل کر زمین کا معاملہ سمجھتے، ساکوں سے بات کی جائی، سب کو ایک دھندلا سمجھنا چاہئے، لیکن اب یہ سب کوڑھی ہو گئی ہے…
 
یہی نہیں ہوگا؟ یہ کیسے ممکن ہوگا کہ وہ انڈسٹریل یا سرکاری مقامات پر فوری اور صاف قبضہ نہ دی جائے گا؟ کیا ایک شخص کو پھر سے کہیں سے بھی مل کر فوری قبضہ لینے کی اجازت دی جائے گی؟ یہ کیسے چل سکتا ہے؟ مریم نواز کی منصوبہ بندی میں کیا کوئی ثبوت یا تجزیہ ہے؟
 
واپس
Top