پاکستان کے خلاف اپنی جنگ میں بھارت کو ایک چھوٹی فوجی شکست، ابھرتی ہوئی جنگی حلم نے فرانس کی فوجی کمپنی سے لڑاکا طیاروں کے حوالے کی تقریبات جاری رکھی ہیں۔ بھارت کو ابھرتی ہوئی جنگی کہانی میں ایک اور قدم بڑھنا ہوا ہے، جس سے اس کا فوجی خطرہ ناخوشہیوں سے پھلتا رہے گا۔
شخصیت کے معاملات کے بغیر، بھارتی وزارت دفاع اور فضائیہ نے فرانس کی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن سے 100 سے زیادہ رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری پر دستخط کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس نے دوسری جانب ان کے معاشرتی اور فوجی تنازعات میں بھی ساتھی ہونے والے فوجی معاشیاتی نظام کی وجہ سے اسے منصوبہ بندی کرنے پر زور دیا تھا۔
بھارت کا یہ اقدامہ پچاس سالوں سے چل رہے تعاقب میں ہوا ہے، جس نے فرانس کو اس کی فوجی کمپنیوں سے بھارتی فوجی افواج کے لیے لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی اجازت دی تھی۔
بھارت کے ڈیفنس پروکیورمنٹ بورڈ نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ دیا، جس نے کچھ مہینوں قبل میگاوینج کے بھی اقدامات کیے تھے۔
اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے، اس معاہدے پر تبادلہ خیال اور قیمتوں پر بات چیت ہونے کے بعد نئی دہلی سے حتمی منظوری ملنی پائیگی۔
بھارت میں موجود 36 رافیل طیاروں کے علاوہ ابھرتی ہوئی جنگی حلم نے لڑاکا طیاروں کے معاہدوں پر ایک اور قدم بڑھایا، جس سے اس کی فوجی طاقت میں اضافہ ہوگا۔
مگر یہ تھیڈیٹکس تو کچھ ہوا کرکے رہ گئی ہے، ایسے میگاوینج کی پیشگی پرستوں کو اور بھی متاثر کر دی گئی ہے، اب یہ رافیل لڑاکا طیاروں کا معاملہ تو ہو گیا ہے لیکن اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ François Truffaut ki film Daisies ki tarah se, zindagi bhi thodi hi aisa hi rahti hai
بھارت کو ایسے لڑاکا طیاروں کا بڑا سٹاک مل گیا ہے جو اسے اور اس کی فوجی طاقت پر مزید یقین دیلانے والے ہیں
اس معاہدے سے فرانس نے بھارت کو ایک بڑا پیسہ دیا ہے، لیکن یہ سچ کہیں اور بھی ہو گیا ہے کہ اس معاہدے نے فوجی تنازعات میں اور معاشی نظام میں بھی مزید تنگاتنگ رکاوٹا ہو گيا ہے
بھارت کی یہ رائفیل خریداری کافی مشق اور تجربات کے بعد ہوئی، حالانکہ اس سے پہلے بھیFranco Indian Relations ke through kai dostiyan hui hain, abhi bhi kuch toh bas batao .
France ko lagta hai ki yeh rafael kharidari unki defense market mein ek bahut big deal hai, aur isse unki export ki market mein bhi mazbooti milegi. Lekin, Bharat ke liye, abhi tak kya benefit milega? 36 rafael already hain, to ab kuch aur kyun add kar rahe hain?
Bharatiya defense industry ke bare mein, to koi baat toh nahi hai ki yeh rafael kharidari unki growth ko boost karogi, lekin isse pahle bhi kai doston ke saath kuch choti-choti dostiyan hui hain. Aur ab yeh rafael kharidari unke defense budget mein bhi ek big role dengegi? Toh time will tell us
میں بتاتا ہوں کہ یہ فرانسیسی کمپنی دوسری جانب بھی ایک چھوٹی فوجی شکست کو اپنے لیے فراہم کر گئی تھی، اس طرح وہ بھی اپنے معاشی نظام کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ میں نے اچانک یاد آئی کہ پچاس سال پہلے فرانس نے بھارت کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے، اور اب وہ اپنی فوجی کمپنیوں سے انہی لڑاکا طیاروں کا معاوضہ کرنے والی ہیں۔ یہ معاہدے میں تو یقین رکھنا مشکل ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ بھارت کو اپنی فوجی طاقت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اس معاہدے نے میرے خیال میں ایک اہم قدم کھڑے کر دیا ہے، اس سے بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ فرانس کی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن نے انہیں رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کی فوجی صلاحیتوں میں مزید ترقی ہوگئی ہے اور اس کی فوجی طاقت کو اضافہ ہوا ہے۔
بھارت کو یہ لڑاکا طیارے ملنے سے پہلے اس کا خیال ہونا چاہیے کہ وہ ان ریفائیئشنز کی کس قسم کی ضرورت ہے اور ان کی خریداری سے اس کے لیے کیا فائدہ ہوگا؟ یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ اسی طرح کے معاہدوں کو کس قسم کے تنازعات میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے بھارت کے فوجی لیے کیا ناخوشیوں پہنچائی جا سکتی ہیں?
تو یہ بات واضح ہے کہ بھارت نے ایک اور قدم بڑھایا ہے، اب ان کی فوجی طاقت میں کوئی پہلے نہیں تھی جس سے وہ اس بات پر یقین کرتا تھا کہ وہ جواب دہ کر اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اب ان کی فوجی طاقت میں اضافہ ہونے سے اس کو ایک خطرہ بننے والی حیثیت حاصل ہوگی، لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ بھارت نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ فرانس کی کمپنی سے لے لیا تھا، جو اس میں ان کی فوجی طاقت میں اضافہ ہونے کا مطلب ہے۔
عجيبے کا بھارتی وزیر دفاع نے پچاس سالوں سے چل رہے تعاقب کے بعد اور اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد، اس کا یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ وہ فرانس کی کمپنیوں سے لڑاکا طیارے خریدنا چاہتا ہے۔
یہ بھی عجوبت ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے، نئی دہلی نے حتمی منظوری ملنی پائی ہوگی۔
بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ ہونے کا اس معاہدے سے بھی کوئی نتیجہ نہیں ملتا، لیکن یہ دیکھنا ہی کافی عجیب ہوگا۔
بھارت کی جانب سے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری نے دوسری جانب فرانس کو ایک اچھی بھاگ رچایا ہوگا، لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ بھارت کی فوجی کوششوں پر یہ معاہدہ نکلتا ہے، اس میں کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس سے فرانس کے معاشی نظام کو نقصان پہنچے گا।
بھارت نے یہ رافیل طیارے کیسے پائے? ان کو پائے جانے والے معاشی تنازعات کے بعد میگاوینج کی بات کیا تھی؟ اور ڈسالٹ ایوی ایشن سے لڑاکا طیاروں کا معاہدہ ہوا تو یہ کیسے ساتھی ہوا؟ ان سارے सवالوں کے جواب دیتے ہوئے، بھارت کی فوج کو ابھرتی ہوئی جنگی حلم نے کیسے بڑھا دیا ہے؟ یہ سب انچارجیں جس کی وجہ سے ابھرتا ہوا اور لڑاکا طیاروں کی خریداری میں ایک قدم بڑھایا گیا ہے؟
بھارت کی یہ نئی جنگی کہانی تو انھیں پچاس سالوں سے چل رہے تعاقب میں دیکھنا تھا، لیکن 100 سے زیادہ رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری پر دستخط کرنے کا مشورہ دیا گیا تو وہ نئی دہلی میں جس بھی معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں انھیں اچھی طرح سمجھنے کا وقت لگتا ہے، مگر پہلے سے یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ فرانس کی کمپنیوں میں کیوں اور کیسے معاشیاتی نظام ہے؟
بھارت کے اس اقدامے پر توجہ دے کر، یہ سوچنے لگتا ہے کہ بھیڑ کی فوجی طاقت نے پوری دنیا کو دیکھنا ہوگا…
اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے، یہ سوچتا ہوں کہ اس میں کیا اقدامات کیے گئے تھے، جس سے ابھرتی ہوئی جنگی حلم کو مزید بڑھایا جا رہا ہے…
فوجی معاشیاتی نظام کے بارے میں یہ سوچنا نہایت اہم ہے، جس سے ہمیں اس پر دیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے…
بھارت کا یہ قدم پچاس سالوں سے چل رہے تعاقب میں ہوا ہے، جس نے فرانس کو اس کی فوجی کمپنیوں سے بھارتی فوجی افواج کے لیے لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی اجازت دی تھی…