تیراہ کے آپریشن پر حکومت کی سازش اس طرح بھرپور تھی جیسے انہوں نے اس وقت سے اپنی زندگی کا مقصد بدل دیا ہوتا تھا، اس کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ کوئی آپریشن نہیں ہو رہا، لیکن کہیں سے اور کہیں سے یہ بات چیلانی جاری ہے۔ شفیع جان کی اِس مایوس کن بیانیے سے حکومت نے بھرپور تعلقات قائم کیے تھے، لیکن اس میں بھی کچھ یقینی باتوں کی کمی ہے جیسا کہ وہاں کئی آپریشن ہوئے، یا اس وقت پر کوئی آپریشن نہیں تھا۔
جب انہوں نے اِس بات کی تصدیق کی تھی کہ دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا، تو انہوں نے لوگوں کو یوٹرن لینے کا مطالبہ کیا تھا اور اب وہ اِس کے نتیجے پر چل رہے ہیں، اور اس میں ان کی زندگی بھی شامل ہوگئی ہے۔
اس صورتحال میں شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے اور سرد موسم میں ممکنہ جانی نقصان کا الزام صوبائی حکومت پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی تھی، تاہم بروقت اقدامات سے اس منصوبے کو ناکام بنایا گیا ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ آپریشن بعد آپریشن سے یوٹرن لینے کی اِس پالیسی نے انہیں اتنی پریشان کیا ہے کہ اب وہ لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر اِس دuniya سے باہر ہی جانا چاہتے ہیں، لیکن وہاں کئی لوگ یہاں کی زندگی کے لئے جانتے ہیں۔
آج انہوں نے کہا کہ اتوار کو جرگہ بلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے عوام کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں گے اور ان کو یہ نافذ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو سمجھیں، لیکن حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آئی بی اوز کہنے سے حقائق بدلے جا سکتے ہیں اور یہ نافذ کر سکتی ہے کہ کرم اور باجوڑ کے لیے دو، دو ارب روپے جبکہ مزید چار ارب روپے بھی جاری کیے جائیں گے اور آئندہ بھی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
شفیع جان کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ تاریخی سطح پر متاثرہ افراد کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور سہیل آفریدی کی قیادت میں مؤثر فیسلی ٹیشن جاری ہے، لیکن یہ بیانیہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگر حقائق تسلیم نہ کیے گئے تو اتوار کو پیدا ہونے والی صورتحال برداشت کے قابل نہیں ہوگی۔
اس وقت تک آئی بی اوز کی پالیسیوں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے، لیکن اس کا جواب دہی سے ملنے کی بجائے شفیع جان کی اِس مایوس کن بیانیے میں دکھائی دیا گیا ہے۔
اس صورتحال میں یوٹرن لینے کی پالیسی نے سب کو اتنی پریشان کیا ہے کہ اب لوگ اِس دنیا سے باہر جانا چاہتے ہیں، لیکن وہاں کئی لوگ یہاں کی زندگی کے لئے جانتے ہیں۔
جب شفیع جان نے اِس بات کی تصدیق کی تھی کہ دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا، تو اب انہوں نے لوگوں کو یوٹرن لینے کا مطالبہ کیا تھا اور اب وہ اِس کے نتیجے پر چل رہے ہیں، اور اس میں ان کی زندگی بھی شامل ہوگئی ہے۔
اس صورتحال میں آئی بی اوز کی پالیسیوں کا جواب دہی سے ملنے کی بجائے شفیع جان کی اِس مایوس کن بیانیے میں دکھائی دیا گیا ہے، لیکن یہ بات کوئی نہیں سمجھ سکتی کہ وہ کیسے آئیڈنٹیٹی لینے کی اِسی پالیسی سے بچ نہ سکیں?
اس حکومت کے ساتھ تو اس بات کا لافازہ کچھ ہوتا ہے کہ انہوں نے شفیع جان کی اِس مایوس کن بیانیے میں ایک اور کامیاب معاہدہ کیا ہے، لیکن یہ معاہدہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ انہوں نے اس کے لئے کچھ کہنا ہے، نہ یہ کہ وہ کیا ہوا ہے۔ جب کوئی بات چیت کرتا ہے تو وہ اپنی جان لڑتا ہے اور اب انہوں نے بھی اس طرح ہی کہا ہے کہ وہ یہاں سے باہر جانا چاہتے ہیں، لیکن اگر انہوں نے اپنی زندگی کی دیکھ بھال کی تو اس صورتحال میں سے کچھ نہ ہوتا۔
مگر یہ بھی جاننا چاہیے کہ شفیع جان کی بیانیے میں ساتھ ساتھ 24 گزسٹ کو اس وقت تک کئی آپریشن کیا گیا تھا جس کا مطلع عام لوگوں نہیں تھا، ایک اور بات یہ بھی ہے کہ شفیع جان کی ایسی پالیسی پر چلتے ہوئے ان کا آپریشن ٹرانسفرنس پر بھی ساتھ ملتا جاتا ہے اور اس طرح کئی مظالم پیدا ہوتے ہیں، یوٹرن لینے کی پالیسی میں 50 فیصد تیز رفتار تبدیلی کی گئی ہے، لہذا یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ یہ شفیع جان کے لئے یوٹرن سے متعلق پالیسی نہیں بلکہ ایسا ایجنڈا ہے جس میں ان کے لئے دوسرا موقع فراہم کیا گیا ہے، اور یوٹرن سے متعلق پالیسی اس بات پر منحصر ہے کہ شفیع جان کو نئی زندگی کے لئے کیسے تیار کیا جائے؟
اس مایوس کن بیانیے سے بعد وہاں ہی رہے گئے ہوںگے، اِنھوں نے اس کے لئے پوری دہائی گزار دی تھی، جبکہ اب وہاں سے چلے جانے والے لوگوں کو وہیں بھی رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہوگی، انھیں اب اپنی زندگی میں سہارا لینا پڑے گا…
جب انہوں نے یوٹرن لینے کا مطالبہ کیا تھا تو وہ لوگوں کی زندگی کو بدلنا چاہتے تھے، ابلوں میں سے ایک ہی نہ رہا!
انہیں پata ہونا چاہیے کہ اپنے لوگوں کو دھोखا دینا ایسا ہے جیسے کسی گول گندھی میں ہاتھ ڈالنا!
شفیع جان کا یہ بیانیہ اس طرح ناکام ہونے والا تھا جیسے ایک ریل گیم میں کوئی سائنسدان ریل کو چلانا چاہتا ہو!
اب وہ لوگ جو اس دuniya کی زندگی کے لئے اچھے ہیں ان پر حکومت نے بھرپور دباؤ پڑایا ہے، لیکن شفیع جان نے ان کو یوٹرن لینے کی پیمانے پر اپنی زندگی کا مقصد بدل دیا!
انہیں اس صورتحال سے باہر جائیں، یوں سے لوگ ان کی جانیں چھونے میں مایوس نہ ہوں!
اس کے بعد شفیع جان کی یہ بیانیے میں اِس معاملے سے بھرپور تعلقات ہیں، لیکن اس میں کچھ نئی باتوں کا بھی جھنکا ہے۔ پہلے انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بدلا ہوتا تھا، اب وہ بھی اس کا مقصد بدلا ہوتے ہیں، مگر یہ بات تو یقینی ہے کہ وہاں کئی آپریشن ہوئے تھے اور اب بھی اس کے نتیجے پر انھوں نے لوگوں کو کیا ہے، یہ بات تو یقینی نہیں ہے کہ وہ جانتے ہیں یا نا جانتے ہیں۔ شفیع جان کی اِس پالیسی سے انھوں نے لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر اِس دuniya سے باہر جانا چاہتے ہیں، لیکن وہاں کئی لوگ یہاں کی زندگی کے لئے جانتے ہیں، یہ بات تو دھمکیوں کے ساتھ بولی جا رہی ہے کہ وہاں کس طرح کے آپریشن ہوئے اور اب تک انھوں نے کیا، یہ بات تو کسی کی ذمہ داری سے باہر نہیں رہی۔
اس صورتحال میں شفیع جان کی بات سے بھرپور تھی کہ آپریشن بعد آپریشن یوٹرن لینے کی پالیسی نے انھیں اتنی پریشان کیا ہے کہ وہ لوگ اِس دuniya سے باہر چاہتے ہیں، لیکن یہ بھی کہیں سے اور کہیں سے بات چیلانی جاری ہے۔ میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو اِس کے خلاف لڑ رہے ہیں، ان کی بات سے سمجھنے والے ہیں۔
اس کیا کیا ہوا، انہوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے کی بات کی تھی لیکن اس کے بجائے لوگوں کو یوٹرن لینے پر مجبور کیا گیا، اور اب وہ ایسے حالات میں ہیں جہاں انہیں اپنی زندگی چھونے کی تشویق دی جا رہی ہے...
اسٹینڈ پائنٹ سے حکومت نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے، لیکن یہ بات پہلے سے تھی کہ وہ اس کی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ شفیع جان کی بیانیے سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد بدل لئی تھا اور اب وہ لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر اس دuniya سے باہر جانا چاہتے ہیں، لیکن وہاں کئی لوگ یہاں کی زندگی کے لئے جانتے ہیں۔
مگر یہ بات تو یقینی ہے کہ حکومت نے دہشت گردی کو ختم کرنے کی وعدوں سے لوگوں پر دباو بھی رکھا ہے اور اب انہیں اپنی زندگی میں یہ وعدے پورا کرنا ہوگا۔
شفیع جان کے بیان سے یہ بات اب بھی پتہ چلی گئی ہے کہ انہیں تین ارب روپے میں جانی نقصان کی تصدیق کی جا رہی ہے، اور اس لیے وہ لوگوں کو یوٹرن لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟
شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا تجربہ گاہ بنائی جا رہی ہے، لیکن وہ یہ بات کو بھی کبھرایا گیا ہے کہ اس صورتحال میں شفیع جان کو سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی زندگی بھی شامل ہوئی ہے؟
انہوں نے کہا ہے کہ آپریشن سے پہلے ایسے آپریشن ہوئے تھے جو شفیع جان کو اتنی تنگ آ گئے تھے کہ اب وہ لوگ اِسی دنیا سے باہر چاہتے ہیں؟ اور یہ ان کی زندگی میں تو نہیں آئی ہے بلکہ یہ ان کے جانے دھنnes ہیں!
اتوار کو جرگہ بلانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے، لیکن شفیع جان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آئی بی اوز یہ نافذ کر سکتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو سمجھیں؟
سہولت فراہم کی گئی ہے اور سہیل آفریدی کی قیادت میں مؤثر فیسلی ٹیشن جاری ہے، لیکن شفیع جان نے یہ بات بھی کہی ہے کہ اگر حقائق تسلیم نہ کیے گئے تو اتوار کو پیدا ہونے والی صورتحال برداشت کے قابل نہیں ہوگی؟
اس سارے واقعے پر حکومت کی سازش پر بات کرنا صرف لافाजا ہے، اور ابھی تک کوئی بات یقینی نہیں کی جاسکتی کہ یہ آپریشن کبھی ہوا اور کبھی نہ ہوئی؟ شفیع جان کی بیانیے سے بھی حکومت کو کوئی فائدہ نہ ملا، انہوں نے صرف اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں لائے ہیں، لیکن اس صورتحال کو حل کرنے میں یہ کامیاب نہیں ہوئے۔
جن لوگوں کی زندگی اس آپریشن سے متاثر ہوئی ہے وہ ابھی بھی ایسا ہی رہتے ہیں اور انہیں کوئی جائیداد نہیں ملتی جو ان کے لیے اس صورتحال سے باہر لائی جا سکتی ہو۔
اس بات پر مجھے یقین ہے کہ اِس جگہ کی زندگی کو سمجھنے کے لئے شفیع جان کو ایک چوتھی طرف سے بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے، حالانکہ وہاں کی حکومت اس کی اِسی پالیسی پر چل رہی ہے۔
اس ماحول میں شفیع جان کی بیانیے سے لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک پھرستا دیکھ رہے ہیں، یقینی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس صورتحال سے لچک بھی ہار دی ہے اور اب وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کیسے بدلنا ہے؟ اُسی طرح جب وہ کہتے تھے کہ دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا تو اب انہوں نے ایسا ہی کہہ رہے ہیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس صورتحال سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے اور اب وہ لوگوں کو یوٹرن لینے کا مطالبہ کرتے تھے تو اب انہوں نے اپنی زندگی کو بھی یوٹرن کیوٹ پر چھوڑ دیا ہے
یہ بہت دکھ کا وقت ہے۔ شفیع جان کی بات سے یہ محسوس ہوتا ہے، اپنی زندگی کے لئے جینیں پریشان کیا گیا ہے اور اب وہ لوگ کہیں سے بھی کچھ نہ کچھ کہتے رہنے دیتے ہیں، لیکن جس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی کو ضائع کر دیا ہوتا ہے وہ اِس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں ہو گا۔
دنیا کی ناکام پالیسیوں سے ان کے جسم اور دل دونوں پر زبردست پریشانیاں لگتی ہیں، لیکن وہ یہ نہیں دیتے کہ وہ اپنی زندگی کو چھوڑ کر اِس دنیا سے باہر جانا چاہتے ہیں بلکہ وہ اپنے ملک کی یہی پالیسیوں سے کامیاب نہیں ہوتے رہتے۔
شفیع جان کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسا کہتے ہوئے اپنے لوگوں کی محبت اور حمیصے سے کہیں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، اور وہ یہ جان بھی دیتے ہیں کہ اس وقت کو سبکو ان لوگوں کا لئے ایک اہم کامیاب منصوبہ بنانے کی پوری تھیٹر پر ترغیب دی جائے گے، لیکن یہ تو ان کے لیے ایک مشکل وقت ہوگا۔
اس شفیع جان کی بیانیے سے governments کی سازش بھی پتا چلا، انہوں نے دہشت گردی کو ختم کرانے پر اِس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ لوگ یوٹرن لینے والا سلسلہ بنایا کریں گے، لیکن اب وہ ایسا ہی نہیں کر رہے اور وہاں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
آج کے شفیع جان کی بیانیے سے انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد بدل لیا ہوتا تھا، اب وہ لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر اِس دuniya سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی مایوس کن صورتحال ہے، لیکن وہاں بھی کچھ اچھائیوں کی لہر بھی موجود ہے جیسا کہ شفیع جان نے بروقت اقدامات سے تجربہ گاہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔
اس صورتحال میں حکومت کی سازش پتائی چلی ہے، شفیع جان نے کہا ہے کہ کوئی آپریشن ہو رہا تھا لیکن اب وہ اِس بات سے انکار کر رہے ہیں۔
جب شفیع جان نے یوٹرن لینے کی پالیسی کی تصدیق کرتے ہوئے تھے تو اب وہ لوگ اسے اِس لئے منكر کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے اپنی جاسوسی پالیسی کو اِس لئے چلایا تھا، لیکن اس صورتحال میں وہاں بھی کچھ اچھائیوں کی لہر ہے۔
شفیع جان کی یہ بیانیے سے پتا چلا ہے کہ آپریشن پر حکومت نے مایوس کن تعلقات قائم کیے تھے اور اب وہ لوگ اسے منکر کر رہے ہیں، لیکن شفیع جان نے کہا ہے کہ آپریشن بعد آپریشن سے یوٹرن لینے کی اِس پالیسی نے انہیں اتنی پریشان کیا ہے کہ اب وہ لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر اِس دuniya سے باہر جانا چاہتے ہیں۔
اس حقیقت سے پریشان ہوتا ہے کہ شفیع جان کی یہ بیانیے میں کیا حقائق نکلن گے؟ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا جارہا ہے، لیکن یہ تو بھی حقیقی طور پر کیسے ہوگا؟ اس صورتحال میں شفیع جان کی بات سے انہیں ناقص معائنہ لگ رہا ہے، یا یہاں تک کہ وہ آپریشن کا حقدار ہیں؟