گورنر سندھ نے گل پلازہ کا واقعہ جسٹیشل انکوائری کے لیے مطالبہ کیا ہے اور اس سے انکار کرنے پر میرے جذبات بھی متاثر ہو گئے ہیں۔
میری کوشش یہ ہے کہ وہ لوگ جو کیا تھا وہی کریں، جو اس معاملے میں ذمے دار ہیں ان کے ساتھ جسے وہ جانتے ہیں ان سے سوال کر لیں اور یہ دیکھیں کہ کسی نے روک کر دیا ہے یا نہیں؟
گورنر سندھ نے اس واقعے پر پریس کانفرنس کی اور کہا، میرے جذبات تھے میں بھی وہاں گیا۔ جب میں دیکھا کہ آگ بڑھ رہی تھی تو پھیل رہی تھی دو گھنٹے بعد بارے پچپان پر میں پہنچا۔
جب میں وہاں پہنچا تو ڈی آئی جی جنوبی، ڈی آئی جی ٽریفک کو فون کیا اور بتایا کہ گرو مندر پر ٹریفک جام ہے وہ کھلوا دیں اور لواحقین کو گلے سے لگایا۔
میں نے لواحقین کو نیوی حکام کو فون کیا، آرمی ، نیوی ، کے پی ٹی ، رینجرز کو سلام جنھوں نے پہنچ کر 22 جانوں کو ریسکیو کیا اور كور کمانڈر بھی واقعے کو مانیٹر کررہے تھے۔
گورنر سندھ نے بتایا کہ اس واقعے پر سیاسی رنگ نہ دیں اور یہ کیس بند نہیں ہوگا، یہ تاریخ میں لکھا جائے گا۔
یہ شہر مشتعل تھا ، لوگ مشتعل تھے ، زبان قابو میں رکھی ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ۔اگر سیاست کرنا ہوتی تو ہم سے بڑی Politics کرنے کی چالاکیاں کیسے کر سکتی ہیں?
انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے بعد politics ہورہی ہے ، سازشیں ہورہی ہیں اور یہ بھی کہا کہ جب تک ذمے دار اپنے اوپر سے ذمے داری نہیں ہٹاتے وہ کسی پر ملحہ ڈال کر اس کی سرخری کرتی رہتے ہیں اور کچھ لوگ آگ میں جل کر مر جائیں اور کچھ لوگ باہر معاشی طور پر مر جاتے ہیں۔
میری کوشش یہ ہے کہ وہ لوگ جو کیا تھا وہی کریں، جو اس معاملے میں ذمے دار ہیں ان کے ساتھ جسے وہ جانتے ہیں ان سے سوال کر لیں اور یہ دیکھیں کہ کسی نے روک کر دیا ہے یا نہیں؟
گورنر سندھ نے اس واقعے پر پریس کانفرنس کی اور کہا، میرے جذبات تھے میں بھی وہاں گیا۔ جب میں دیکھا کہ آگ بڑھ رہی تھی تو پھیل رہی تھی دو گھنٹے بعد بارے پچپان پر میں پہنچا۔
جب میں وہاں پہنچا تو ڈی آئی جی جنوبی، ڈی آئی جی ٽریفک کو فون کیا اور بتایا کہ گرو مندر پر ٹریفک جام ہے وہ کھلوا دیں اور لواحقین کو گلے سے لگایا۔
میں نے لواحقین کو نیوی حکام کو فون کیا، آرمی ، نیوی ، کے پی ٹی ، رینجرز کو سلام جنھوں نے پہنچ کر 22 جانوں کو ریسکیو کیا اور كور کمانڈر بھی واقعے کو مانیٹر کررہے تھے۔
گورنر سندھ نے بتایا کہ اس واقعے پر سیاسی رنگ نہ دیں اور یہ کیس بند نہیں ہوگا، یہ تاریخ میں لکھا جائے گا۔
یہ شہر مشتعل تھا ، لوگ مشتعل تھے ، زبان قابو میں رکھی ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ۔اگر سیاست کرنا ہوتی تو ہم سے بڑی Politics کرنے کی چالاکیاں کیسے کر سکتی ہیں?
انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے بعد politics ہورہی ہے ، سازشیں ہورہی ہیں اور یہ بھی کہا کہ جب تک ذمے دار اپنے اوپر سے ذمے داری نہیں ہٹاتے وہ کسی پر ملحہ ڈال کر اس کی سرخری کرتی رہتے ہیں اور کچھ لوگ آگ میں جل کر مر جائیں اور کچھ لوگ باہر معاشی طور پر مر جاتے ہیں۔