Sindh matric uniform examination syllabus and model paper not ready | Express News

پورے صوبے میں میٹرک کی سطح پر سلیبس ایگزامینیشن پیٹرن تبدیل کرنے کے بعد، محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے "یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس" اور ماڈل پیپر کے اجراء میں تاخیر ہوگئی ہے جس سے امتحانات دینے والے طلبا ناواقف ہیں۔ اس لیے 10 لاکھ کے قریب طلبہ اپنے امتحانی پرچوں کی ترتیب اور اسٹریکچر سے واقف نہیں ہیں۔

سندھ میں اس بار نویں اور دسویں کلاسز کو پڑھانے والے ہزاروں اساتذہ کا یہ جاننا ہے کہ امتحانی پرچے کس طرح آئیں گے لیکن وہی نہیں اور لاکھوں طلبا کی جانب سے بھی ایسی صورتحال تھائی ہے جس سے امتحانات لینے والی اتھارٹی میں بحرانی کیفیت پڑ رہی ہے۔

ناواقف طلبوں کی وجہ سے محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے نویں اور دسویں جماعتوں کے "یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس" کو ان کے ذیلی ادارے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپرومنٹ پروجیکٹ (एस ایس آئی پی) کو جاری کرنے میں رکایا ہے جو اس طرح کے معاملات میں تاخیر لائے بھرے ہوئے ہیں۔

ایکسپریس نے اس سلسلے میں ایس ایس آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو سے رابطہ کی کوشش کی لیکن انھوں نے فون ریسیور نہیں کیا۔

اس ادارے کی ایک اور افسر عطا حسین لاکھ سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ایک اور ذیلی ادارے DCAR کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے امتحانی پرچوں کو بھی "یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس" کے تحت تیار کرنے میں تاخیر لائی ہوئی ہے اور انٹرمیڈیٹ میں بھی اس بار کچھ مضامین کے امتحانی پرچوں "ایس ایل او" کی بنیاد پر تیار کرنے میں تاخیر لائی گئی ہے جس کے ماڈل پیپر ابھی آنے باقی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ایک اجلاس میں ہونے والے ایس ایس آئی پی نے نویں اور دسویں کے ماڈل پیپر امتحانی بورڈز کے لیے آن جاری کردیں گے۔

اس بار سال 2026 کے میٹرک کے سالانہ امتحانات مارچ میں منعقد ہونے ہیں اور اس لحاظ سے امتحانات میں اب ڈیڑھ ماہ کا وقت باقی ہے۔
 
ابھی میٹرک کے لیے ایس لینے والی طالب علموں کو یہ خبر مل گئی ہے کہ انہیں اچھے سے پہلے نہیں پڑھایا گیا، اور ایس لینے کی ایسی صورت میں بھی تو نئی تائیر ہوگی۔ ایسے میڈیا کے ذریعے کبھی واضح نہیں ہوتا کہ اسکول ماہرین انہیں وہ مضمون پڑھائیں گے یا نہیں، اور اب یوں واضح ہوگیا ہے کہ جسے نئے میڈیا نے "تخریب" کا نام دیا گیا ہے وہاں سے اچھی تائیر پڑھنے والے طلبہ کو بھی نہیں ملا۔
 
اس معاملے کی ایس پہلی بار جب سمجھ آئی، تو مجھے یہ سوچنا تھا کہ اس میں کوئی ناقصی لگی۔ اب محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے ڈلیٹ میگ ڈونو نے کیا، تو یہ بھی ایسا تھا کہ اس سے کوئی نتیجہ نہ ملتا ہے! لاکھوں طلبے کی ایک جانب سے اور ہزاروں اساتذہ دیسی جانب سے ایسا معاملہ جس کا جواب یہ ہے کہ ڈیڑھ ماہ کا وقت ہی باقی ہے! یہ بتاتی ہے کہ اس سال سے منسلک معاملات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور پھر بھی وہی ادارے کم از میں تاخیر لانے پر ہار گئے ہیں! یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے پوری فیکلٹی، طلباء اور آپسی معاشرہ متاثر ہوا ہوگا۔
 
کیا یہ کچھ محض ایک بدلाव کی بات ہو رہی ہے؟ تاخیر سے ناواقف طلباء کیسے اچھی طرح سے تیار ہوسکتے ہیں؟ یہ تو ایسا محض نہیں رہ سکتا! 🤔
 
اس معاملے کی تاخیر کا یہ کوئی نئا رہنما نہیں، پچیس اور پچاس میٹرک کے بعد بھی یہی بات چیت ہوتی جا رہی ہے۔ ایس آئی پی نے نئا معالج کرنا چاہتے ہوئے تو اس سے پہلے ان کا بھی اچھا تجربہ تھا، تو یہ وہاں تاخیر کیسے آئے؟ اور انٹرمیڈیٹ میں بھی ایس لیے تاخیر کی وجہ سے کچھ مضامین "ایس ایل او" پر بھی اس طرح کا معالج کرنے کا منصوبہ ہو گیا، یہ تو بھرپور معاونت ہے نہیں؟
 
ہمیشہ کے بعد ایسے معاملات میں بھی تاخیر لانا ایسے ہی ماحول بن جاتا ہے جو کسی بھی ادارے کو انتظامیت سے کام کرنے کی استعداد سے منع کرتا ہے! یہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا ایسا تو بن گیا ہے جس پر اہم معاملات میں تاخیر لانا بھی آسان ہو چکا ہے!

اس سال کی میٹرک امتحانات کے لیے لاکھوں طلبا ان کے امتحانی پرچوں کو سمجھنے میں تاخیر سے گزردے ہیں اور اب ان کی یہ پہلی امتحان کی تیاری شروع کرنا ہے!

اس سلسلے میں ایس ایس آئی پی کا پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو کو ملا نہ لگ رہا ہے اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانی پرچوں میں بھی تاخیر لائی گئی ہے!

مگر ایسے معاملات میں تاخیر لانے والا محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا ان کو عذاب کرنے کا اہل نہیں ہوا!
 
ایس ایس آئی پی کی تاخیر نے محکومہ اسکول ایجوکیشن سندھ کو بھی ایک بڑی ٹھیلے میں پڑا ہوا ہے، طلبوں کے لیے یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے وہ گمراہ ہو رہے ہیں اور ان کی ایمٹنانی تیاری میں تاخیر لائی گئی ہے۔
 
اس سلسلے میں کیا ان لوگوں کی ملازمت تین سال تک جاری رہے گی؟ اور اس سے کیسے بھی نکلتا ہے کہ منصوبے پر کام کرتے وقت ایسی پورٹفولیو کو تیار کرنا مشکل ہو جائے۔

ایس ایس آئی پی کی جانب سے انٹرمیڈیٹ میں امتحانی پرچوں کو "یونیفارم ایگزامیشن سلیبس" کے تحت تیار کرنے کی تاخیر، یہ بھی ایک واضح پہل ہے جو اس وقت کے وزیر تعلیم پر لگائے گئے الزامات کا ایک اہم حصہ ہو گیا۔

ماڈل پیپر کو ڈیلیی لانے میں بھی یہ پہل، دوسری اور تیسرى ہو رہی ہیں جو اس کے بعد کیسے کیا جائے گا، اس پر کچھ سے کچھ بات چیت ہونی ہوگی اور اس وقت تک کس کی ملازمت جاری رہے گی۔
 
ایس ای سی پی کی ایسی پالیسی ہوئی ہے جس سے طلبا اور اساتذہ دونوں کو مشکل حالات میں مبتلا کیا گیا ہے، چاہے وہ میٹرک کا امتحان دھونے والی بستی ہو یا نہیں۔ انہیں اس بات کو سننا پڑ رہا ہے کہ ایک بار فوری اور دوسری بار بعد میں، یہ سارے معاملات واقف نہیں ہو گئے ہیں۔ اس پر ایس ای سی پی کو اپنی پالیسی کا تجزیہ کرنا چاہئے اور اس طرح ایس ای ایف کی بجائے ایک عالمی سطح پر یونیارم ایگزامینیشن سلیبس کا مقصد واضح کرنا چاہئے، تاکہ نوجوانوں کو اس کے بارے میں علم ہو اور ان کے لیے تیاری کے لئے وقت مل سکتا ہو۔
 
بھاگ پھاگ کر کچرے کو پھیلاتے ہوئے یہ جاننا تو محتاج نہیں ہے کہ اس سال سندھ میں میٹرک کی سطح پر امتحانات اور اس کے لیے تیار کیے جانے والے پرچوں پر تاخیر ہوئی ہے۔ واضح بات یہ ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے ایسا کرنا چاہا ہوتا تو انہوں نے پہلے بھی ساتھ ساتھ تیار کیے جانے والے پرچوں کو اپنی مدد سے جاری کیا ہوتا۔ اور یہ بات واضح ہے کہ اس سال نئے ماڈل پیپر کا اعلان بھی ابھی ہوا ہے۔

اس سال سندھ میں امتحانات لینے والے طلبہ اور اساتذہ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ انہیں اپنے بچوں کو انام دیا جائے گا۔ ایسا نہیں، یہ کھیل ہے۔

ٹھیک ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے ایک اور ذیلی ادارے کو اس سلسلے میں جاری رکایا ہو، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کی تاخیروں پر کس طرح اثر پڑتا ہے۔
 
یہ بتاؤ ڈیڈ، یونیفرم ایگزامینیشن سلیبس کے تحت اس سال 10 لاکھ طلبوں کی امتحانی ترتیبات بہت تاخیر سے پہنچ گئی ہیں... یہ تو معقول نہیں تھا، کبھی دیکھا ہو گا کہ امتحانات سے منسلکہ ہوئے ماحول کی صورتحال کو اس طرح کے معاملات میں چیلنج کرنے میں کس حد تک محکمہ اسکول ایجوکیشن کا کام ناکام ہوتا ہے... اور اب وہ ماڈل پیپر بھی ٹائمنگ سے آنے کے لئے اپنے ماحول کو چیلنج کر رہا ہے... یہ تو کام کے موقف میں دوسری ایک پائی گئی! 😕
 
بےشبہ اس صورتحال کی طرف نظر دیتے ہیں تو لگتا ہے کہ یہ معاملات کم نہائیں سوف حل ہون گے! جب تک ناواقف طلبا کو ایک سو سے زائد امتحانی پرچوں کی ترتیب اور اسٹریکچر سے واقفی ہونا پڑتا ہے تو محکمہ اسکول ایجوکیشن کا کام آسان نہیں ہوتا!
 
بھائی ان امتحانات کی تیاری کیسے کرنے پڑے گی? ایس ایس آئی پی نے نایاب پرچوں کی جانب سے کوئی نتیجہ کیا ہے یا پھر کچھ تاخیر کا بھی معاملہ ہے؟ ڈی سی آر کے اسافر کی ایسی صورتحال تھی کہ ان کا ایک ماڈل پیپر ابھی آنا باقی ہے تو کس طرح ان پرچوں سے ڈیرے نتیجے ملے گے؟
 
واپس
Top