Sindh Nurses Leaving Countries | Express News

ای سپورٹس پرو

Well-known member
صوبہ سندھ میں سرکاری اور نجی نرسنگ کالجوں سے باہم بھرپور تنازعہ ہو رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنی قومیں چھوڑ دیتی ہیں، جس سے ان میں وفاقیت کی بھرپور کمی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے اس حوالے سے سرکاری ملازمت پر نرسوں میں خاصی بھرپور دباؤ ہے، جس کے باعث ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں اور گلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک کو چھوڑ دیتی ہیں، جس سے ان میں وفاقیت کی بھرپور کمی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے اس حوالے سے سرکاری ملازمت پر نرسوں میں خاصی بھرپور دباؤ ہے، جس کے باعث ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں اور گلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک کو چھوڑ دیتی ہیں، جس سے ان میں وفاقیت کی بھرپور کمی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے اس حوالے سے سرکاری ملازمت پر نرسوں میں خاصی بھرپور دباؤ ہے، جس کے باعث ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں اور گلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک کو چھوڑ دیتی ہیں، جس سے ان میں وفاقیت کی بھرپور کمی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے اس حوالے سے سرکاری ملازمت پر نرسوں میں خاصی بھرپور دباؤ ہے، جس کے باعث ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں اور گلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک کو چھوڑ دیتی ہیں، جس سے ان میں وفاقیت کی بھرپور کمی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے اس حوالے سے سرکاری ملازمت پر نرسوں میں خاصی بھرپور دباؤ ہے، جس کے باعث ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں اور گلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک کو چھوڑ دیتی ہیں، جس سے ان میں وفاقیت کی بھرپور کمی نظر آتی ہے۔
 
اس تنازعے کو حل کرنے کا ایک طریقہ یہ کہ सरकٹ سندھ اور نجی کالجوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گیا ہے، اور یہ کہ ان نرسوں کو بھی وفاقیت کی فریڈم کی خواہش کے لیے ایک دوسرے ممالک میں سفر کرنے کی اجازت دی جائے۔ لہٰذا governments اور نجی کالجوں کو ایک دوسرے سے مل کر کام کرنا ہو گا، تاکہ ان کے فارغ التحصیل نرسوں کو بھی ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک چھوڑنے کی ضرورت نہ ہونی پائے۔ 🤝
 
یہ تو ایک اچھا مقام ہے کہ لوگ اپنے ملکوں میں یہ کام کریں، لیکن اس معاملے میں انہیں سچائی سے بات کرنی چاہئے کہ وہ نرسوں کو ملازمت فراہم کر رہے ہیں اور انھیں ایسی شرطات نہیں لگائی جاسکیں جس سے وہ اپنے ملک چھوڑ کر عارضی ملازمت کے لیے باہر جانا پڑے.
ایسی شرطات نہیں لگائی جانی چاہئیں جس سے لوگ اپنے ملک کے خلاف ہونے والی تنقیدوں کو بھاگتے ہیں اور ان میں وفاقیت کی کمی دیکھ لیا جاسکے.
 
ایسا لگتا ہے کہ نرسوں کی ملازمت پر پابندی ہی ایسی وجہ کیے جا رہی ہے جو انھیں اپنے ممالک سے باہر نہ رہنے پر مجبور کرتی ہے، جو کہ وفاقیت کے حوالے سے بھی ایک اہم problème ہو گیا ہے
 
بھانے یہ ملازمت ایک اہم کाम ہے، لیکن ان نرسوں کو یہ لگتا ہوگا کہ وہ اپنے ملک کی سرزمین سے کھدتے ہوئے کہیں دوسرے ممالک میں اپنی زندگی کھونے والی بھی ہیں۔ یہ بہت ہی پراشناک ہے کہ سرکاری ملازمت کی وہ پالیسی اچھی سے نہیں ہے۔
 
تمام نرسین کا ملازمت کی خواہش ایک ہی ملک سے نہیں کرتے, اب بھی ان میں وفاقیت اور ملکیت کا حقدار ہونے کا احترام کس کو دیکھائی دے گی؟
 
اس تنازعے کا جواب ایک اچھی ملازمت کی تلاش میں نرسوں کو ملنے کی ضرورت ہے! انہیں اپنی قومیں چھوڑ کر غیر ملکوں کی طرف بڑھنا پڑ رہا ہے، یہ وفاقیت کے حوالے سے ایک بڑا问题 ہے!
 
اس سرکاری اور نجی تنازعہ کا ایک اور اسٹۈف نہیں ہو سکتا! یہ بات واضح ہے کہ ان نرسوں کی قومیں اس لئے چھوڑ رہی ہیں کیونکہ وہ اپنی ملازمت کے لیے غیر ملکوں میں جانے والی تھیں، اور اب ان کو ایسا نہیں کرنا پڑ رہا ہے، یہ تو صحت کی ذمہ داری کے حوالے سے ایک بڑا معاملہ ہو گا! 💉
 
یہ تو کافی دیر سے ایسا ہو رہا ہے۔ سرکاری اور نجی نرسنگ کالجوں میں بھی ایسی پریشانی ہو رہی ہے جیسے پہلے بھی تھی، لیکن اب وہ بھی اپنی خود سے کچھ Different ہونے لگے ہیں اور ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں میں ملازمت کے لیے اپنے ممالک چھوڑ کر واپس آئے ہیں۔ یہ سچ بھی رہا کہ یہ حکومت سندھ کی طرف سے اس حوالے سے ملازمت پر خاص دباؤ پڑنے کے باعث ہو رہا ہے جو اس وقت تک سستا نہیں پگا سکا۔
 
ماحول کو صاف کرنا ہوتا ہے چل رہے نرسوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال ہی بھی کیا جا سکتا ہے؟ انہیں ایسا محسوس کرنا پڑ رہا ہوتا ہے جیسے ان کی زندگی ایک دھلے پتھروں کی لڑائی میں لچکپٹ رہے ،۔
 
یہ بہت گھریلو معاملہ ہے، نرسوں کو ہمیشہ اس کا اہداف یاد رکھنا چاہئے کہ وہ عوام کی ساتھی کے طور پر کام کر رہی ہیں، ان کی خواہشوں کو یقینی بنانے کے لیے بھی انہیں اہم دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میں ایک سلیپ ٹیسٹ کی تجربت کرتا ہوں کہ جب بھی آپ نئے دن کو شروع کرتے ہیں تو پہلے 15 منٹ میں آپ اپنے آپ کو یقینی بناتے ہیں، اس لیے اگر آپ نے صبح جالدی سوایا ہے اور فوری نیوز دیکھی ہے تو وہ پہلے 15 منٹ کے دوران آپ کو یقینی بناتا ہے۔
 
اس تنازعہ کا یہ پہلا دن نہیں ہوگا، ہر صوبے میں اسی طرح کی Problemeion aa rahi hain, government ko to naya raast chunna padega, jisse logon ko koi matbuaat na mile.

nursing college mein dabaav ka matlab yeh hai ki woh un logon ko apne doston se door kar deta hai jo overseas jaakar milti hain. ye toh ek bada problem hai, jisase bachon aur aikjanaa ko khatra ho sakta hai.

government ko issey to samajhna padega aur koi solution find karne ki koshish karni chahiye, jisse log apne deshon mein miltay rahin aur khushi ka anand le saken.

toh mere man mein ek sankalp hai ki har koi apne desh ko samajhe aur unke liye kuchh zaruri solution dena chahiye.
 
اس سرکاری اور نجی تنازعہ کی news تو بالکل ایک گم گئی ملازمت کا حال ہیں۔ جس میں لوگ اس وقت اپنے ممالک کو چھوڑ کر غیر ملکوں کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے بھاگتے ہیں تو یہ صرف ایک ایسا حال ہی ہوتا ہے جو پوری دuniya کو دیکھ رہا ہو، لگتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ملازمت کی خواہش سے زیادہ اس وقت سندھ کی سرکاری ملازمت کی خواہش کو پورا کرنا شروع کیا ہوگا۔
 
یہ تو ایک بڑا مظالم ہے! نرسوں کے خاتمے سے ہمارے ملک میں وفاقیت کی جھلیاں پڑ رہی ہیں...

جب ان کے فارغ التحصیل نرسیں غیر ملکوں اور گلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے ممالک کو چھوڑ دیتی ہیں، تو یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ آسٹریلیا یا امریکا میں وہ نرسمت کو اس طرح سے چھوڑ کر کیوں رہی ہیں؟

انہی نرسوں کی جگہ ملک کے لئے اسے بدلنا چاہیے، اس لیے انہیں اپنے ممالک میں سے بھی ملک پر ایسے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے جو ملک کو فائدہ پہنچائے...

اس کول میرا خیال ہے انہوں نے بہت زیادہ دباؤ لگایا ہے...
 
یہ تو انفرادی ملازمتوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن اس تنازع کا ایک پہلوان ہوتا ہے جو سندھ کی یہ معیشت کو متاثر کرتا ہے ، نرسوں کی ملکی قومیں چھوڑنا اس معاشرتی نظام میں بھی وفاقیت کی کمی دکھائی دے رہا ہے، ان سے پूछوں کہ ان کے پاس وفاقت کس چیز سے متاثر ہوتی ہے اور یہاں تک کہ انھیں اپنے ملک کو چھوڑنا پڑتا ہے وہ نہیں بتاسکتے کہ کیے گئے معاملات میں ان کی ملکی قومیں کس سے متاثر ہوتی ہیں
 
اس معاملے کی کوشش کرتے وقت غلطی سے یہ سوچا جاتا ہے کہ نرسوں کو ملک چھوڑنے کا ایسا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قومیں اور ملک کی فیکنس کھو دیں?

میں سے اس کی تلافی ہے، نہ صرف یہ دوسرے ممالک میں ملازمت کی خواہش کے لیے ملک چھوڑنے والی نرسوں کو وہاں اور وہاں کی ماحولیات، معاشرے، اور قومیٹی کا تجربہ کرنا ہوتا ہے جو وہ اپنے ملک میں نہیں ملا سکتے!

اس لیے یہ پورا معاملہ ہلکی اور بھرپور سمجھنا چاہیے، جس کے بدولت نرسوں کو ملک میں ہی اپنے ماحولیاتی اور معاشرتی تجربے کی تلاش کرنی چاہئیں اور اس لیے وہ ملک کی فیکنس کھونے کے بجائے، انہوں نے اپنے ملک میں ہی ایسے معاشرتی اور ماحولیاتی کیریئر کو تلاش کیا جیسا وہ دوسرے ممالکو میں حاصل کر سکتے تھے! 🤔
 
اس تنازعے کا خیال کرنا ہی اس قدر مشکل ہے، کہ یہ سچائی نہیں کہ وہ لوگ جس ملازمت میں مشغول ہوئے انھوں نے اپنے ملک کی پناہ چاڑھی، بلکہ انھوں نے اپنی بھائی دادی کا خاندان تھوٹ دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ اور ملک کے درمیان ایک عجیب تنازعہ شروع کر چکے ہیں۔

اس سے ہی نہیں پوچھنا ہے کہ ان ملازمت کی سہولت کی وجہ سے لوگ اپنے ملک میں یقینی بناتے ہیں، لیکن اب اگر وہ اسی ملازمت سے باہر نکل جائیں تو انھوں نے اس کی شادی کرلی ہوئی ہے! یہ عجیب کیا ہے؟
 
اس حوالے سے بہت گھنٹا ملازمت کرتے رہو، اب نرسوں کی یہ خواہش ہی ہو گی جس کی نہیں پوری کرنا چاہئے۔
 
سرکاری اور نجی کالجوں کا یہ تنازعہ تو غلطیوں پر مبنی ہے، ملازمت کی خواہش سے لوگ اپنے ممالک کو چھوڑ دیتے ہیں؟ یہ سچائی کیسے رہی؟ اب بھی انہیں وفاقیت کی بات سمجھ نہیں آ رہی ، مگر یہ ایک واقعت ہے اس تنازعہ سے.
 
یہ بہت غمزنہ ہے۔ کیا یہی نرسوں کو اپنی ملکیت سمجھنے کی آزما نہیں ہے؟ ان کے فارغ التحصیل بننے کے بعد بھی وہ اپنے ممالک کی طرف سفر کرتی ہیں، جیسے یہ ان کا ملک نہیں ہے! یہاں تک کہ سندھ کو بھی سرکاری ملازمت پر ایسا دباؤ ڈالا جاتا ہے جو لوگوں کی قوم پرستی کو پورا نہیں کر سکتا، اور یہ کتنا بدلہ لیا جائے گا! 😩
 
واپس
Top