سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں حسیب جمالی نے 2679 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ سرفرازمیتلو کو 2604 ووٹ ملیا۔
جنرل سیکرٹری کی نشست پر فریدہ منگریو 2582 ووٹوں سے کامیاب ہوئیں، جبکہ بیرسٹر عمران علی مٹھانی نے 1463 ووٹوں سے دوسرا نمبر حاصل کیا اور موجودہ سیکرٹری مرزا سرفراز احمد کو 1257 ووٹ میں تیسرا نم्बर دیا گیا۔
نائب صدر طاہر اقبال ملک نے 1483 ووٹوں سے منتخب ہوئے، جب کہ اعزازی ٹریezierرار نعمت اللہ شاہ کو 3066 ووٹ ملیں۔
وکلا برادری کے مطابق حسیب جمالی نے پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دی ہے، جس سے آئینی ترمیم کے مخالفین کی کامیابی ہوئی ہے۔
نوجوان وکلا نے ان انتخابات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پی ٹی آئی کے حامی تصور جاتے ہیں، حالانکہ اس فتح کی ایک بھی وڈی ترتیب نہیں تھی جو حسیب جمالی کو اپنے پروفائل میں سہارا دیا ہے۔
حسیب جمالی سے پہلے اس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بھی کامیاب رہ چکے ہیں، اور وہ شعبہ قانون سے تعلق رکھنے والے اہم خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔
ابھی یہ بات نہیں چلی کیوں کے ان ایسوسی ایشن کے انتخابات میں صرف پی ٹی آئی کے امیدوار ووٹ حاصل کر رہے ہیں؟ یہ بھی بات یقیناً نہیں تھی کہ سندھ کی ایک ایسوسی ایشن میں صرف ایک اور سیاسی حریک کے امیدوار ووٹ حاصل کر رہے ہیں۔
جنرل سیکرٹری کی نشست پر فریدہ منگریو کو 2582 ووٹس سے بھاگتے ہوئے کامیاب کر دیا گیا تاکہ ان کے آپنے حلف لگا سکیں اور اب تو وہ جس پتی کا حلف آرہی ہیں وہ نئے عہد میں بھی ان کی حلف لگانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
اس ایسوسی ایشن میں یوں سے پتے کا خیل کیا جا رہا ہے تو اس کی آگے کی طرف دیکھ کر ابھی بھی یہ بات معما بن گئی کہ سیاسی حریک کی پورتی کی کوئی آگے کی طرف دیکھتی ہے؟
تجربہ کار LAWYERS کی بات آئی تو یہ سچ بھی ہے کہ پیٹنٹ لائرز ایسوسی ایشن میں ہمارے سولسٹ ایمبیدڈنگ کی کامیابی ہوئی ہے، لیکن یہ بات تو بھی رہتी ہے کہ ان्हوں نے اچھا پریشر بنایا ہے تاکہ وہ اپنے ٹیم کے ساتھ ساتھ ایسے امیدوار کو شکست دے سکے جسے وہ محض اسٹرکچرلے سے نہیں ملا پاتے انٹیگریٹڈ کیوں کیا نہیں، اور اب یہاں انھوں نے پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے ساتھ ایک حسیب جمالی جیسے امیدوار کو شکست دیا ہے، اور اس طرح آئینی ترمیم کے مخالفین کی کامیابی ہوئی ہے، لیکن یہ بات بھی رہتی ہے کہ انہوں نے ہماری سولسٹ کیوں نہیں لائی تھی؟
شادی کی ایک منظر میں بھی سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا یہ انتخابات رخا ہے! حسیب جمالی کو 2679 ووٹ حاصل کرکے انہیں کامیابی ملے گی اور اس سے آئینی ترمیم کے مخالفین کی کامیابیت ہوئے گی۔
لارڈ سیرفرسٹم نے دیکھا ہوگا کہ یہ اہلکار ایسوسی ایشن میں نوجوان وکلا کی بہت عمدہ تائید ہوئی گی! وہ ایسے ایسوسی ایشن میں کامیاب رہتے ہیں جہاں پی ٹی آئی کے حامی تصور جاتے ہیں، حالانکہ اس فتح کی وڈی ترتیب نہیں تھی!
اللہ کی Blessings ان انتخابات میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں وہ توہتے دل کو اچھی نہیں سکتے ہیں، حسیب جمالی بھی آپ کو خوش کرتے ہیں اور ان کے یہ فاتحہ آپ کو اچھا محسوس کرائے گا۔ لیکن جبکہ سندھ ایسوسی ایشن کے انتخابات میں سرفرازلو کو 2604 ووٹ ملا تو اس پر بھی پہلے یہ بات چکائی جا سکتی ہے، وہ انہیں بھی اپنی نئی جگہ پر اچھی کامیابی حاصل کرائے گا۔
یہ بات بہت کہوں کی گئی، حسیب جمالی نے ایسا منٹ میچ کھیلا ہے جس سے وہ اپنے پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے اسکواڈ میں ملوث تھے، اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے بچوں نے کس طرح سے اس معاملے میں حصہ لیا اور ان کی ماں کی موٹر سیڈ لگنے کا یہ ریکارڈ کیسے بن گیا؟
یہ انٹیلیجنس ہے کہ حسیب جمالی نے سندھ ایسوسی ایشن کے انتخابات میں ایسا منچ دیا ہے جیسا اس کی امیدواری کی ضرورت تھی اور وہ پی ٹی آئی کے بھرپور حامی رہتے ہیں لेकिन ان کا فٹ سے فٹ منچ نہیں ہوا، یہ تو بات سمجھائی جا سکتی ہے لیکن ان کی اس فتح سے کوئی رکاوٹ نہیں پہنچی۔
اس انتخابات میں حسیب جمالی کو کامیابی ملی، لیکن یہ بات بہت اچھی نہیں کیوں کہ انہوں نے ایسا پورا کرنا ہويا جو اس سے قبل کسی نے بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کی حمایت سے ان کو شکست دی گئی، اور یہ بات بھی چالاکانہ ہے کہ انہوں نے ان تحریکوں کی حمایت کی کہ اب آئینی ترمیم پر ان کی رائے ہو جائے۔ حالانکہ نوجوان وکلا کا اہم کردار تھا، لیکن اس فتح کو کسی بھی طرح سے اپنے پروفائل میں سہارا لینا نہیں چاہئیے۔
اس ایسوسی ایشن کے ساتھ ساتھ حسیب جمالی کے باوجود یہ بات بھی یقینی نہیں کہ انہوں نے پوری طاقت کو اپنے پاس لیا ہے۔ مرزا سرفراز احمد اور عمران علی مٹھانی کے ووٹ بھی دیکھا جانا چاہئیے، اور ان میں سے کسی نے بھی حسیب جمالی کو اس طاقت میں نظر انداز نہیں کیا۔
ایسا لگتا ہے کہ اس ایسوسی ایشن کی elections میں پیٹی لائرز کے لیے واضح کامیابی ہوئی ہے، جبکہ سندھ کی سیاست میں ان کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے اور اس کی کامیابی کے لئے پی پی ایل اور مسلم لیگ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے حسیب جمالی کو واضح طور پر پیٹی لائرز کی حمایت سے دیکھنا ہوگا، اور اس کے نتیجے میں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کی بھی کامیابی ہوئی ہے، جس سے واضح طور پرPolitics کے لئے ایک معضلہ پیدا ہوا ہے۔
اس سے پہلے بھی حسیب جمالی نے پیٹی لائرز کی حمایت کرتا دیکھا تھا، اور وہ اپنے شعبہ قانون سے تعلق رکھنے والے اہم خاندان کے چشم و چراغ ہیں، اس لیے ان کی فتوحات پر حیرت ہوگئی ہے۔
عزیز بھائیو! اہمیت کا ایک اچھا نمٹنا دیکھا گیا ہے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں ۔ حسیب جمالی نے جیت کے بھی نہیں پھوکنے دیا، بلکہ انہوں نے بہت سے معزز افراد کی حمایت حاصل کرکے فوری فتح حاصل کی ۔ پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے امیدوار کو شکست دیا گیا، جو ایک بڑی دھچکا تھا۔
اس میں نوجوان وکلا کو بھی اپنا کردار ادا کیا ہے جس کا معینہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی تصورات ہوگئے ۔ لیکن اچھے نتائج نہیں لائے گئے جس کی وجہ سے حسیب جمالی کو اپنے پروفائل میں فخر کا سہارا لیا جا سکتا ہے ۔
ایسے میں! حسیب جمالی نے ایسوسی ایشن میں بڑا فخر حاصل کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی وکلا کو لڑائیوں میں لگن نہیں تھی، لیکن ان्हوں نے جیت کا سہارا اپنے پروفائل میں لیا ہے اور اب وہ ایک اچھی بڑی فیملی نیل ہونے والی ہیں!
یہ ٹیکنالوجی کس قدر بے مثال ہے! اب یہ لوگ کیسے چुनتے ہیں؟ پھر یہ حسیب جمالی نے کیسے زیادہ ووٹ حاصل کیا؟ وہ پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے ساتھ کیسے جڑے ہوئے؟ ان میں سے کون سی دوسرے رکن اس ایسوسی ایشن میں کس طرح حصہ لیتے ہیں?
اس-elections میں حسیب جمالی کی فتح تو کچھ اچھا لگتا ہے، لیکن یہ بات مجھے تھوڑی ناقص دکھائی دیتی ہے کہ اسے پیپلز لائرز فورم یا مسلم لیگ لائرز کی حمایت سے حاصل کرلیا گیا اور میں یہ سوچنا چاہتا ہوں کہ ان سے توتماؤت کس قدر بڑی حد تک نہیں تھی۔
اس ایسوسی ایشن کی نئی دلیہ کے پہلے نمبر کی جوڑی تو ہزاروں ووٹوں سے کم تھی، یہ تو لگتا ہے کہ انہوں نے شعبہ قانون سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی فوجی وکالت بڑی بڑی پیمانوں پر حاصل کرلی ہے، مگر ایسا کیا ہوا؟ شریک امیدوار تو ہزاروں ووٹوں سے شکست ہونے کے باوجود پکھو پھولتا ہوا آئیڈیپشین اور بھرپور جدوجہد کرتا ہے۔
یہ بات کچھ عجیب ہے، میں کہتا ہوں کہ حسیب جمالی کی فتح ایک بڑا اہتمام تھا، لہٰذا اس نے پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے حمایت میں کامیابی حاصل کی ہوگی ۔ لیکن دوسری طرف، یہ بات بھی تھی کہ جنرل سیکرٹری فریدہ منگریو نے بہت کم ووٹس سے جیتا ہوا ہے، اس کی صلاحیت کچھ عجیب ہے اور میں کہتا ہوں کہ نائب صدر طاہر اقبال ملک بھی بہت سے ووٹس سے جیت گیا ہوگی، لیکن میں اس بات پر ایک ہی opinion رکھتا ہوں کہ نئے سیکرٹری کو کیسے منتخب کیا گیا ہے؟ کیا یہ انتخابات بہت انفتاح تھے? اور میں اس بات پر ایک ہی opinion رکھتا ہوں کہ حسیب جمالی کی فتح نے پی ٹی آئی کے حامی تصور کو کیسے متاثر کیا ہوگا؟
ایسا لگتا ہے کہ حسیب جمالی کی فتح ایک بڑی بات ہے، لیکن آپ کو کھانے والا نہیں ہو گا! وہ پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے حمایت سے چلا کر ہاں پہنچ گئے تھے، جس سے ان کی فتح میں ایک بڑی وجہ ہے۔
مگر یہ بات بھی نہیں چلو کہ حسیب جمالی کو اس فتح سے ابھی تک کافی مایوس لگ رہا ہے، وہ سندھ میں ایک اہم خاندان کے بچے ہیں جو شعبہ قانون سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کی جگہ لینے کے لیے انھوں نے کئی سالوں سے کام کیا تھا۔
اب یہ دیکھنے کے لیے بھی تھکاء چکے ہیں کہ اس ایسوسی ایشن میں کتنے نوجوان وکلاء اور حامیوں کا کردار ادا کیا گیا ہے، اور اب یہ دیکھنے کے لیے بھی تھکاء چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے حامی تصورات کی ایسی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔
یہو یہو یہو … ایسے کروفتے نہیں تھے جیسے اب … انتخابات میں حسیب جمالی کو 2679 ووٹ حاصل ہوئے اور اس نے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا عہدہ حاصل کرلیا … مجھے یہی قیاس تھا کہ پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کے حمایت سے وہ کامیاب ہوگے … اب نوجوان وکلا ان انتخابات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے حامی تصور جتے ہیں … حالانکہ اس فتح کو کسی بھی طرح سے واضح نہیں کیا جا سکتا …
یہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حسیب جمالی کو اپنی جگہ پر بننے میں ایک پیپلز لائرز فورم اور مسلم لیگ لائرز کی حمایت کرنا پڑے ۔ اس طرح سے وہ پی ٹی آئی کے حامی تصور جاتے ہوئے اپنی جگہ پر بننے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس انتخابات میں نوجوان وکلا کا اہم کردار تھا اور ان کی کوششوں سے پی ٹی آئی کے حامی تصور جاتے ہوئے وہ کامیاب ہوا۔
اس ایسوسی ایشن میں جو نئے ریکارڈ بنائے گئے انہیں دیکھنا بھی دلچسپی ہے لیکن یہ بات بھی دکھائی دیتی ہے کہ اس ایسوسی ایشن میں پی ٹی آئی کی ناکاموں کی بھی کوشش تھی اور انہوں نے کیا انہیں اپنا موقع خواہ شہرت ہوئی۔
حسیب جمالی کو ابھی تو اس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بننے کا موقع ملا تھا اور وہ بھی کامیاب ہوا تھی لہذا یہ بات دکھائی دیتی ہے کہ نوجوان وکلوں کی ایسی طاقت ہے جو پرانے اور مہارت والوں کو خطرہ پہنچاتا ہے۔
elections ka yeh maza kaha ja raha hai , lekin yaad rakho, ye to sirf ek baar jana na hai. logon ki soch bhi badalti hai, aur koi bhi saans adhik aavashyak nahi hai. lakin agar hum isse samajhen, to yeh ek mahatvapurna mudda hai. yeh kaafi logon ko prabhavit kar sakta hai, jo apne vyaktigat jeevan ko badalne ki aur sochenge .
aur kya ye to sirf ek election nahin tha, lekin ek aisi cheez bhi thi jise har koi dekha. ek baar phir se logon ne apne aapko vyavasthit kar liya, aur isme humein kuchh naya dikhaiya. lekin fir bhi, yeh to sirf shuruat hai, aur humein aur bhi kuchh karna padega