کراچی اور سندھ بھر میں ڈینگی کی تیز رفتار پھیلائی، اس کیسز میں مزید 232 کیسز رپورٹ ہوئی ہیں۔ کراچی میں سب سے زیادہ 127 کیسز رپورٹ ہوئی ہیں، جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہاں نوجوان اور لڑکیوں میں ڈینگی کی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
سندھ میں ڈینگی کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جس کے نتیجے میں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں نئے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس سے صوبہ بھر میں داخل مریضوں کی تعداد 44 ہوچکی ہے، جس کے بعد انہیں اور وہیں ٹیسٹ کرایا گیا۔
کراچی ڈویژن میں سرفہرست سرکاری اسپتالوں میں 17 نئے مریض داخل ہوئے ہیں اور حیدرآباد میں 9 نئے مریضوں کو دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی اور حیدرآباد میں سرفہرست نجی اسپتالوں میں بھی مزید مریض داخل ہوئے ہیں، جس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہاں لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں آتے تاکہ ان کو ٹیسٹ کرایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 2432 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 232 کی تعداد مثبت رپورٹ آئی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز کراچی کی لیبارٹرز میں 123 اور حیدرآباد میں 109 رپورٹس مثبت آئی ہیں، جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک کوئی ہلاکت ڈینگی سے نہیں رپورٹ ہوئی تھی۔
سندھ میں ڈینگی کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جس کے نتیجے میں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں نئے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس سے صوبہ بھر میں داخل مریضوں کی تعداد 44 ہوچکی ہے، جس کے بعد انہیں اور وہیں ٹیسٹ کرایا گیا۔
کراچی ڈویژن میں سرفہرست سرکاری اسپتالوں میں 17 نئے مریض داخل ہوئے ہیں اور حیدرآباد میں 9 نئے مریضوں کو دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی اور حیدرآباد میں سرفہرست نجی اسپتالوں میں بھی مزید مریض داخل ہوئے ہیں، جس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہاں لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں آتے تاکہ ان کو ٹیسٹ کرایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 2432 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 232 کی تعداد مثبت رپورٹ آئی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز کراچی کی لیبارٹرز میں 123 اور حیدرآباد میں 109 رپورٹس مثبت آئی ہیں، جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک کوئی ہلاکت ڈینگی سے نہیں رپورٹ ہوئی تھی۔