سندھ حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی پیپلزپارٹی نے مختلف شعبوں میں نمایاں اقدامات کیے ہیں اور صوبے میں نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔
صحت کے شعبے میں سندھ حکومت نے نمایاں اقدامات کیے ہیں، جس کے تحت نظام صحت کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ پہلی بار علاج کے لیے سائبر نائف ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی اور جناح اسپتال کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ عوام کو مفت صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور کینسر جیسے مہنگے ترین علاج بھی بلا معاوضہ دیے جا رہے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی سندھ حکومت نے نمایاں اقدامات کیے ہیں، جس کے تحت صوبے میں تیس جامعات کام کر رہی ہیں جو اس وقت دس تھیں۔ گمبٹ میڈیکل کالج قائم کیا گیا ہے اور ایک لاکھ اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی عمل میں لائی گئی ہے۔
سندھ نے 2022 کے تاریخی سیلاب کا سامنا کیا، جس میں ہزاروں اسکول متاثر ہوئے اور اکیس لاکھ گھر تباہ ہوئے۔ لیکن حکومت نے اس مشکل وقت میں وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی مکمل حمایت حاصل رکھی۔ اس کے بعد سندھ میں سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا گیا ہے اور متاثرین کے لیے اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر جاری ہے۔
لگتا ہے ان کٹیو سندھ کی حکومت نے ایسی چیز کر دی ہے جو لوگوں کو خوش کرے اور وہ بھارتیہ پیپلز پارٹی (پیピ) پر اعتماد کرتے ہیں۔ سندھ میں نظام صحت اور تعلیم میں مہمات تو شروع ہوئی ہیں، لیکن یہ بھی دیکھنا محتاج ہے کہ عوام کی ترجیحات کیا ہیں؟ وہ لوگ جو بے روزگاری اور مزدوروں کو بھرنے والے مسائل سے نمٹ رہے ہیں، انکی باتسات بھی ہوئی ہو گی? پی پی نے کہا ہے کہ عوام کی مینڈیٹ پر حکومت آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ یہ سچ ہے یا پھر یہ کہیں بھی سب کچھ ہو گیا ہے؟
سندھ حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے میں خاص طور پر صحت کے شعبے میں ان کے اقدامات سے بھاگ رہا ہوں مفت صحت کی سہولتیں فراہم کرنا اس وقت تک نہیں ہوا جب تک کہ سندھ حکومت نے اپنی پوری توجہ اس پر مرکوز نہیں رکھی اور ایسے مہنگے ترین علاج بھی بلا معاوضہ دیے جا سکیں۔ تعلیم کے شعبے میں بھی ان کے اقدامات نے صوبے کو ایک نئی دھارہ دی ہے، آج کی دس تیس Jameoں پر وہ اس وقت تک نہیں تھیں جتنی اب ہیں اور گمبٹ میڈیکل کالج کا قیام سندھ کے تعلیمی نظام کو ایک نئی جان دی ہے۔ #SindhGovernment #HealthcareReforms #EducationRevolution
یہ سمجھنا آسان نہیں کہ سندھ کی حکومت کو ان تمام کاموں میں کتنی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے، جو انہوں نے مفت صحت کی سہولتوں اور تعلیم کی اقدامات کرتے ہوئے کیا ہے؟ یہاں تک کہ جب 2022 کے سیلاب کا سامنا کیا گیا تو حکومت نے وفاقی سطح پر بھی مدد کی اور اب اس کے بعد سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جو کہ عوام کو اپنی زندگی میں خوشحال بنانے کا ایک بڑا اسٹیپ فراز ہے!
میری یادوں میں پیدل ریکشن کرنا بہت مشق تھا، اس وقت یہ بھی نہیں تھا کہ فوری وائس یا ایمبسمبل کی ضرورت ہوتی تھی، حالانکہ سندھ حکومت کے ذریعے صحت کے شعبے میں کیا گیا ہے وہ سب سے اچھا ہے، گم بھلائیوں کو کم کرنے کی پوری توجہ دی گئی ہے اور عوام کو مفت صحت کے کپڑے مل رہے ہیں...
ایک نہا کرنے کے بعد بھی آپ جگمگاتے ہو، ایسی ہی آپ اور آپ کی بیوی ایک لاکھ اساتذہ کو پانے میں فخر رہتے ہیں...
بلاول بھٹو زرداری کی بات سونے لگ رہی ہے ، پیپلزپارٹی کو دیکھتے ہوئے یہ تو کچھ نئے لائے ہیں ، آپ ہی گویا کہتے ہیں کیوں کہ سندھ میں نظام صحت کو مضبوط بناتے ہوئے، اور کینسر جیسے مہنگے ترین علاج بھی دیا جارہا ہے ، یہ تو ایک نئی سڈی ہوگئی ہے اور عوام کو فریں ہیٹھ لانے کا مौकہ دیا جاسکتا ہے
اگلی بات تعلیم کی ہے ، دس جامعات سے تیس آگئی ہیں یہ تو ایک بڑا قدم ہے، گمبٹ میڈیکل کالج کا قیام اور لاکھوں اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی ، آپ سے بتایے کہ یہ کس حد تک یقینی ہوا گیگئی؟
اور سب سے آخری بات سیلاب اور ہاؤسنگ منصوبے سے لے کر دیکھتے ہوئے پیپلزपارٹی کو ان کے ساتھ رہا ہے ، اس میں یہ بھی بات ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی مکمل حمایت حاصل رکھی تھی، آپ سے بتایے کہ پیپلز پارٹی نے ان کے ساتھ کیسے عمل کیا؟
اس کیوۂ؟ یہ بھی دیکھیں کہ صوبے میں سیلاب کا سامنا کرنے کے بعد 21 لاکھ گھر تعمیر نہیں ہوئے بلکہ اب تک اس کی پہچان کیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ نہیں کامیاب ہو سکا؟ اور گمبٹ میڈیکل کالج بھی قائم ہونے پر 1 لاکھ اساتذہ کی بھرتی کرنے والی حکومت نے اب تک انki فوری کیا کیا؟ یہ بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ صحت کے شعبے میں سائبر نائف ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی تو اس کا فائدہ کب تک لینا چاہیں گے؟ عوام کو مفت صحت کی سہولتیں دیکھتے ہوئے اور کینسر جیسے مہنگے ترین علاج بھی دیکھتے ہوئے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ یہ سارے کام انki نہیں کر رہے بلکہ پیپلزپارٹی کی آنے والی حکومت نے انki بھرتی کیا ہے اور انki منصوبے شुरू کردیا ہے؟
اس پچھلے سال سندھ حکومت نے بہت سارے کام کیے ہیں، خاص طور پر شعبہ صحت میں۔ مفت صحت کا ایک نیا نظام متعارف کرایا گئا ہے اور علاج کے لیے سائبر نائف ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔ یہ بھی نازک بات ہے کہ جناح اسپتال کو عالمی معیار پر اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، جو ایک بڑا شاندار کارنامہ ہے۔ لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس سے ابھی پورے ملک میں نہیں کہا جا سکتا، کھوبنے والی پائیوں کی طرف نظر رکھنی چاہئیے۔
ایک بڑی نانٹ ہوا! سندھ حکومت کی کارکردگی کی دیکھتے ہوئے میں بھوت بھات کر رہا ہوں... سب سے پہلے صحت کے شعبے میں انnapurna ٹیکنالوجی لائے گئے، جو آج تک ہماری اپنی ٹھیک سے نہیں تھی... اور اب جناح اسپتال کی واپسی نہیں ہوسکتی تو کچھ ایسا نہیں ہوگا!
اور تعلیم کے شعبے میں گمبٹ میڈیکل کالج قائم ہوا... ایک لاکھ اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی عمل... یہ ایک جہیل کا کام نہیں!
سندھ کے سیلاب کی واقعت کو دیکھتے ہوئے میں دilon میں سوتا رہتا ہوں... لیکن اس بعد سے حکومت نے سب سے بڑی ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا ہے... اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر جاری ہے!
ایسا ہی لگتا ہے کہ سندھ حکومت نے ہر شعبے میں اپنی پوری قوت و طاقت پیش کی ہے... اور اب میں اس پر بھروسہ کر سکتا ہوں!
اس سندھ کی حکومت نے دیکھا ہے کہ وہ عوام کی زندگی میں بھی تبدیلی لائی ہے؟ اور اس لیے انہوں نے صحت اور تعلیم دونوں شعبے میں اچھی اقدامات کیے ہیں، اب سندھ کا نظام صحت بہتر بن گیا ہے اور عوام کو مفت صحت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے؟
تعلیم کے شعبے میں بھی انہوں نے بہت کام کیا ہے، اب 10 سے زیادہ جامعات موجود ہیں اور ایک لاکھ اساتذہ کو میرٹ پر اپنائی گئیے ہے، یہ سب عوام کی مدد کے لیے ہے؟
اس سندھ کی حکومت کو میں معزز سمجھتا ہوں کہ وہ اس وقت تک آئیڈی پائے رکھتے ہیں جب تک عوام کی زندگی میں بھی تبدیلی نہ ہو سکے...
بلاول بھٹو زرداری جی انہی کاموں سے پوریہند کے عوام کی زندگی میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ صحت اور تعلیم دونوں شعبے میں یہ اقدامات بہت فائدہ مند ہیں، لیکن اس پر توجہ دی جانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سندھ کی حکومت کو اپنے آبادی میں ترقی کی پالیسیوں پر فocal رکھا جائے، اور ان تمام اقدامات کی جانب سے عوام کو فوائد مل رہے ہیں۔
یہ تو نہیں ہوتا چلو کے سندھ میں ایسے بڑے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے جو انہیں پیروں پہننا پڑتے ہیں۔ واضح طور پر صحت کے شعبے میں سے ایک جس نے علاج کے لیے سائبر نیف ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، یہ تو بہت بھرپور بات ہے۔ لیکن کیوں یہ سب انہیں پہنچا رہا ہے کہ عوام کو مفت صحت کی سہولتیں دیتے ہوئے اور کینسر جیسے مہنگے ترین علاج بھی دیے جا رہے ہیں؟ یہ نہیں تو ایک سیلاب جس کا سامنا کیا گیا تھا اور اس وقت کے لیے حکومت نے کہا تھا کہ اس پر دباؤ ڈالو گے، اب یہ کیا انہیں ایک منصوبہ سے ہی اٹھنا پڑتا ہے۔
یہ سچائی بہت پریشان کن ہے کہ سندھ حکومت نے 2022 سیلاب کا سامنا کرنے کے بعد اپنی حکومت کی سلیب میں بہت کمی دیکھی ہے۔ وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی حمایت حاصل رکھنے کے باوجود یہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے بہت سارے معاملات میں ڈھنگ نہیں ڈالنا چاہیے، اور اب انہوں نے یہ کہا کہ پیپلز پارٹی کی قائم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کاموں کو اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے لیے بہت زیادہ خوشی نہیں۔
سندھ حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں پر بہت توجہ مرکوز کر رہی ہے، خاص طور پر صحت اور تعلیم کی پالیسیوں میں۔ شعبہ صحت کا انسوفیلٹی میڈیکل ٹیکنالوجی کو متعارف کرानا بہت اچھا move ہے، خاص طور پر علاج کے لیے سائبر نائف ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ اس میں عوام کو مفت صحت کی سہولتیں فراہم کرنا بھی ایک اچھا move ہے، جو کہ معیشت کے لیے بھی مفید ہوگا۔
تعلیم میں وہ اساتذہ کی بھرتی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جو اس وقت دس تھے اور اب لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ یہ ایک اچھا move ہے، جو کہ صوبے کو آگے بڑھانے میں مدد करے گا۔
لیکن اس سے قبل انہوں نے 2022 کے تاریخی سیلاب میں وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی مکمل حمایت حاصل کرنی ہوئی، جو ایک اچھا move ہے۔ اس سے بعد سندھ میں سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ شروع ہوا ہے جو کہ متاثرین کو اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر میں مدد دے گا۔
یہ کام سندھ حکومت نے سولہ سالوں میں کرنا ہے، تو کیا اس نے چار سال میں تیس جامعات قائم کرنے اور ایک لاکھ اساتذہ بھرتی کرنے کی وعدہ کیا تھی؟ مینڈیٹ لگا کر پیپلزپارٹی نے اپنی سیکھنے دہنیوں میں ہمیشہ کچھ چھپایا رہتا تھا، حالانکہ وہ انہیں اپنا مینٹر بناتے ہیں اور انہیں اچھا سابق دیتے ہیں۔