Some PTI leaders were informed about the check-up of PTI founder, says Minister of State | Express News

ہرن

Well-known member
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف Bairist Aqeel Malik نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کو بانی پی ٹی آئی کے چیک اپ کے حوالے سے بتایا گیا تھا لیکن ان میں سے کسی نے اسپتال جانے کی ذمت نہیں کی، جو کہ اُس وقت نہیں تھا جب بانی پی ٹی آئی کو چیک اپ کیا گیا تھا۔

وزیر مملکتی Bairist Aqeel Malik نے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے روزانہ کی بنیاد پر میڈیکل چیک اپ ہوتے ہیں، جس کا مقصد ترجح انصاف والوں کے سیاسی چور بیچنے کی کوشش کرنا ہوتا ہے اور یہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

وزیر مملکتی Bairist Aqeel Malik نے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے کوئی تشویش کی بات نہیں ہے، وہ بالکل خیریت سے ہیں، اڈیالہ میں چیک اپ کے لیے آلات نہیں تھے اس لیے پوزلے لے گئے، اُن کی جان کو خطرے کی کوئی صورتحال نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ بانی نے خود کہا ہے کہ وہ علاج کے لیے تیار ہیں، رضا مندی سے ہی یہ علاج کیا گیا، صحت کے حوالے سے کوئی ایسی غیر معمولی صورتحال نہیں تھی کہ اہل خانہ کا آگاہ کیا جاتا، بانی کے ساتھ ہونے والے علاج کی وضاحت بھی اُنہوں نے دی ہے، جو کہ اُس وقت نہیں تھا جب بانی پی ٹی آئی کو چیک اپ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے بانی کو دانت، کاندھے اور دیگر تکالیف بھی ہو چکی ہیں، جو کہ اُس وقت نہیں تھا جب بانی پی ٹی آئی کو چیک اپ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے، پی ٹی آئی والے اپنی سیاسی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو گے، انہیں اپنے رویے پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب سے وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرتے ہوئے تھے انہوں نے اس وقت کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنانے والا پایا۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی پر 14 ہزار لوگ رجسٹر کیے گئے ہیں جو کہ جس میں سے 6 ہزار لوگوں کا تعلق Tierah سے نہیں ہے، یہ 6 ہزار لوگ تو کوالیفائی ہی نہیں کرتے ہیں اور انہوں نے ایسے لوگوں کی رجسٹریشن کی تاکہ آئندہ کے 8 فروری کے احتجاج کے لیے انہیں استعمال کیا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ساتھ 90 ہزار کی آبادی ہے جس میں صرف دو نادرا کے سینٹرز قائم کیے گئے، اُنہیں سے مزید سینٹرز کی رجسٹریشن مانگی گئی تھی لیکن وہ اس پر ایک بھی طور پر راضی نہ ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق 14 ہزار لوگوں کو رجسٹر کیا گیا ہے جس میں 6 ہزار لوگوں کا تعلق Tierah سے نہیں ہے، یہ بھی اُن کی ناکامی کا ایک اور Beispiel ہے کہ وہ اس بات کو صریح طور پر انہیں واضع کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اس پر کبھی ایک بھی وقت نہیں دیا، اُنہوں نے جس میڈیا پر وزیر اعلیٰ کے پی نے جھوٹ بولا ہے وہ سچائی نہیں ہے اور وہ اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،

انہوں نے بتایا کہ اگر وزیر اعلیٰ آن بورڈ نہیں تھے تو پی ٹی آئی نے قیمتی پیسے کس لیے دیے؟ اُن کی اپنی کابینہ نے رقوم مختص کیں، اس قسم کو سیاسی مقاصد کے استعمال پر لگانے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ تیراہ میں ملٹری آپریشن کرنا ہے، فلور آف دی ہاؤس اور میڈیا پر وزیر اعلیٰ کے پی نے جھوٹ بولا۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے 6 ہزار لوگوں کو رجسٹرڈ کرکے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے سسٹم میں ایسے لوگ شامل کیے تاکہ اُن کے فنڈز کا استعمال انہوں نے ایسی صورتحال میں کر دیا جاسکے کہ عوام کے ٹیکس سے بھی انہیں فائدہ ہوس۔

انہوں نے بتایا کہ اگست 2025 میں ایک اور جrgہا جاسکا جو ڈی سی نے خط لکھا تھا، صوبے کی کابینہ نے فیصلہ کر لیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کیا اور اب وہ اپنی کارستانیاں عوام کے سامنے رکھیں گی،

انہوں نے بتایا کہ ایکسپریس نیوز سے پوچھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق پر الزام تراشیاں شرمناک ہیں، اور انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی کی معاملات میں حائل نہ ہون۔

انہوں نے بتایا کہ اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ جب یہ jeroga آئی گا تو ضرور بلائیں، یہ اتوار کو بلانے جا رہے ہیں اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاق کے ساتھ جو کوارڈینیشن ہے اس کی ضرورت ہے۔
 
🤕 پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں میں سے ایک بیارست اqeل ملک کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو چیک اپ کیا گیا تھا، جس نے اُنہیں اسپتال جانے کی ذمت نہ دی۔ یہ تو واضح طور پر ان کے پہلے ہی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں کو جھوٹا بتایا تھا اور اُنہیں ناکامی میں ڈالیپڑتھا۔

اس بات کا بھی کچھ احساست ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی تشویش نہیں اور وہ بالکل خیریت سے ہیں، لیکن جب انھوں نے کہا کہ وہ علاج کے لیے تیار ہیں تو یہ بات قابل احترام نہیں۔

یہ بھی بات قابل غور ہے کہ پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے، لیکن ایسے معاملات میں جھوٹ پکڑنے سے بچنا چاہیے اور فوری کریئٹسم نہیں کیا جا سکتا۔
 
اس وقت کچھ باتوں پر فیکس ہو گیا ہے، پی ٹی آئی نے بھرے دباؤ میں کیا، اور انہوں نے 14 ہزار رجسٹرڈ ہوئے لوگ کو اپنی فخر کہتے ہوئے استعمال کرنا شروع کیا ہے، لیکن یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ Tierah سے نہیں ہیں، انہوں نے اپنی خود کو فیکٹری کی طرح استعمال کرنا شروع کیا ہے، اور وہ تمام اسکالرز کو اپنے لئے اپنے فنڈس بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ تو کچھ اچھا نہیں ہو گا ان کی سیاسی کوششوں میں، پی ٹی آئی کو اپنی ساتھیوں کی صورتحال پر توجہ دینا چاہیے نہ تو اس طرح کے جسمانی علاج سے وہ اپنے صحیح اور سچے لोगوں کو بھی چھڑکاوٹ دیتے ہیں،
 
ملازمت پر کچھ باتें ہیں، پی ٹی آئی کے چیٹ آپ کو ان سے بھی ملتی ہوں گی جو کہ میرے خلاف لگ رہی ہیں اور ان پر یہ کہنا تھا کہ جب سے وہ میڈیا سے بات کرنے لگے تو اُنہوں نے 90 ہزار کی آبادی میں سبز کو آسان کیا جو کہ میڈیا پر بھی پھیل رہا تھا، اسی طرح وہ اس بات کو بھی واضع کرنے لگے کہ 6 ہزار Tierah سے نہیں ہے جو کہ میڈیا پر بھی لگ رہا تھا اور انہوں نے واضح کیا کہ جب میرے خلاف کوئی الزامات لگائیں تو میری واجبیت ہی ہوسکتی ہے۔
 
اس پوری بات پر مجھے شک کیا جائے گا کہ وزیر مملکتی نے انہیں بہت سارے دھوکے دیے ہیں، یہ کہ پی ٹی آئی کے چیک اپ میں وہ اس طرح پورے دن ٹرک راسٹ کرتے تھے جیسا کہ وہ اس وقت نہیں تھے جب ان کی صحت کو چیک اپ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے چوری والوں کو دھمتھا دیا جاسکتا ہے اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ روزانہ میڈیکل چیک اپ کر رہتے تھے، یہ سب کوئی بات نہیں ہے، یہ سارے لوگ ایک دوسرے پر لگی ہوئے ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے 6 ہزار لوگ Tierah سے رجسٹرڈ کیے تو اس پر انہوں نے اپنی جان بھی رکھی تھی، انہوں نے بتایا کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ 6 ہزار لوگ جو Tierah سے نہیں تھے انہوں نے کبھی بھی پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوا، لیکن انہوں نے اس پر اپنی جان کی بھی رکھی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے جھوٹ بولتے ہوئے اس بات کو اور سمجھایا ہے جو وہ پہلے نہیں کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اپنی جان کو بھی رکھی تھی اور اس بات پر انہوں نے اپنا یقین سمجھایا ہے کہ جس وقت وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے انہوں نے اپنی جان اٹھائی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اگر وزیر اعلیٰ پریشانی کی صورت میں ہوتے تو پی ٹی آئی نے اپنے چوری والوں کو وہی اچھی طرح سمجھتے تھے اور انہوں نے جس پریشانی میں وزیر اعلیٰ ہوتا وہ اسی کا بھی ساتھی رہتے، یہ سب کوئی بات نہیں ہے، یہ سارے لوگ ایک دوسرے پر لگی ہوئے ہوتے ہیں۔
 
پی ٹی آئی پر ایسے الزامات لگائے جا رہے ہیں جنہوں کا کوئی جائزہ نہیں اور وہ اپنی سیاسی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو گئے، انھوں نے پی ٹی آئی پر انتہائی نقصان دہ رویہ کی تائینات کی ہیں، انھوں نے بھی بتایا کہ اگست 2025 میں ایک اور جرجہا جاسکا جو ڈی سی نے خط لکھا تھا، اُن کا یہ کہنا کہ وفاق پر الزام تراشیاں شرمناک ہیں، کچھ اسی طرح کی حقیقت کے ساتھ ہیں لیکن وہ ان کو جانتے تھے کہ یہ کیسے پھیلایا جا سکے؟
 
ہمیشہ سے اس بات کو انکار کرنا مुशکل ہے کہ پی ٹی آئی کی قائم کردہ حکومت وفاق میں دھोखہ بھری پالیسیوں پر چلتی رہی ہے، اور اب وہ اپنی نئی پالیسیوں کو عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں۔

وزیر اعظم کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی قیمتی پیسے کو وفاق پر لگایا تھا، اور اس پلیٹ فارم پر 14 ہزار لوگوں کی رجسٹریشن ہوئی جو کہ یہ بھی 6 ہزار لوگ Tierah سے نہیں ہیں، اور ان میں سے صرف دو نادرا کے سینٹرز قائم کیے گئے تھے۔

اس طرح ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی جس پر 90 ہزار کی آبادی پر اِن کا اثر پڑتا ہے، لیکن انہوں نے جو کہ لوگ اپنی رجسٹریشن کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ اس کو کامیاب نہ کر سکا۔

اس بات کو بھی انکار کرنا مشکل ہے کہ پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے، اور ان کو اپنے رویے پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ بات سچ ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی قیمتی پیسے کو وفاق پر لگایا تھا، اور اس پلیٹ فارم پر 14 ہزار لوگوں کی رجسٹریشن ہوئی جو کہ یہ بھی 6 ہزار لوگ Tierah سے نہیں ہیں، اور ان میں سے صرف دو نادرا کے سینٹرز قائم کیے گئے تھے۔
 
سنی گئی یہ خبر کچھ غلط ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے جھوٹی رپورٹ میں یہ بات بھی شامل ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے Tierah سے لوگ رجسٹرڈ کرلیے تھے اور انہوں نے اس بات کو صریح طور پر واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ان میں سے جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ان کی rejسٹریشن غیر قانونی تھی اور وہ اس بات کو بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس بات پر غلط فہمی نہیں رکھتے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے رکنوں میں ایسی لوگوں کو شامل کرکے چھپانے کی کوشش کی ہے جو مقبولیت حاصل کرنے سے باہر ہیں، لیکن وہ اپنی ناکامی کو پہچاننا چاہتے ہیں اور اپنے رویے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
 
ہمارے ملک میں دہشت گردی، جور و چوری، دہشت گردی کے واقعے آدھر آدھر آ رہے ہیں، مگر یوں تو ہمارے شہروں میں بھی جسمانی انصاف نہیں ہوتا، اس کے خلاف مملکت لازمی اور ضروری اقدامات نہیں کر رہی ہے۔
 
واپس
Top