اپنی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص کیسے کرتے ہیں؟ یہ سوال مریضوں کو لگتا ہے، لیکن اس سے قبل آپ کا سر کس طرح آپ کی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کے خطرے کو واضح کرتا ہے؟
اس سوال کو جواب دینے کے لیے ایک تحقیق کرائی گئی تھی جس کی وجہ سے اب ہمیں یہ بات بھی پتہ چلی ہے کہ آپ کا سر تباہ کن اعصابی بیماریوں کے خطرے کو ظاہر کر سکتا ہے اور یہ تعین کرسکتا ہے کہ آپ کو زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص کیسے کی جائے؟
اس تحقیق میں ایک ایسا گروپ شامل تھا جس میں تقریباً 700 عمر پھولے راہباؤں تھے، جو ایک ایسی زندگی بھی رہنے کے انداز کی تھیں جس سے ان کے دماغ کو نقصان پہنچتا تھا اور وہ اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے۔
اس تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ ان رہباؤں میں سے تقریباً 17 فیصد اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے، ایک بات یہ بھی نہیں تھی کہ وہ صحت مند غذا، مضبوط سماجی تعلق اور کم نقصان دہ عوامل سے محفوظ رہتے تھے۔
اس تحقیق سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ ان رہباؤں میں سے جن کی تعلیمی سطح کم تھی، ان میں ڈیمنشیا کے امکانات چار گنا زیادہ تھے۔ اس طرح ایک اور بات بھی سامنے آئی کہ وہ راہباؤں جس کی تعلیمی سطح زیادہ تھی، ان میں ڈیمنشیا کے امکانات کم تھے۔
اس تحقیق سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ دماغی پوسٹ مارٹم جیسے دماغی پری Sharٹی کے باعث ان رہباؤں میں سے تقریباً 60 فیصد اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے، جو صرف ایک ایسے گروپ کو ہی نہیں بلکہ پوری عمر کے دوران ان تمام رہباؤں کو ہی آگے لے جاتا تھا.
اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا ڈیمینشیا کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ انسان کے پاس دماغی خلیات (برین سیلز) کی تعداد کم ہوتی ہے اور جب یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں تو دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس تحقیق کے بعد میرا خیال ہے کہ جیسے وہ راہباؤں جو زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص پاتے تھے، اس سے میرا خیال بھی ہوتا ہے کہ لوگ جیسے وہ کچھ گزara بھی بہت آسان نہیں ملتا اور پھر وہ اپنی زندگی کے آخری حصے میں دیر سے ڈیمنشیا کی تشخیص کرنے لگتے ہیں، وہ لوگ جو صحت مند رہتے ہیں انھوں نے کچھ گزara پہلے ہی اس کی تشخیص کرلی ہوت۔
میں اس تحقیق سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ یہ بات سبھی کے لئے اچھی ہے کہ اگر ہم اپنی عمر کے آخر میں دماغی بیماریاں نہیں پاتے تو، وہ وقت ہمیں ایسی چیزوں سے محفوظ رکھتا جیسے صحت مند غذا اور مضبوط سماجی تعلقات۔ اس کے لئے بھی یہ تحقیق بہت اچھی ہے۔ میں صرف ایک سuggesyon دیتا ہوں کہ ہمیں اس سے پہلے اپنے دماغ کو کیسے محفوظ رکھنا چاہیں، یہ بات بھی سبھی کے لئے اچھی ہے کہ ہمیں ایسی زندگی جیننے کی کوشش کرنی چاہیں جس سے ہمارا دماغ ٹھیک رہے۔
اس تحقیق سے ہمارے پاس ہمیں ایسا ایک سوال کھیلتا ہے کہ کیا آپ اپنی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص جانتے ہیں؟ مگر یہ سوال تو پوچھنا ہی نہیں کہ آپ کا سر ڈیمنشیا کے خطرے کو ظاہر کر سکتا ہے، اس سے پہلے آپ کی زندگی کے آخری حصے میں کیسے جانتے ہیں؟
یہ تحقیق ایک بھی گہری بات سامنے لاتی ہے کہ عمر پھولے رہباؤں میں سے 17 فیصد اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے ہیں، یہ بات بھی بتاتی ہے کہ ان رہباؤں میں سے جو تعلیمی سطح کم رکھتے ہیں ان کی ڈیمنشیا کی تشخیص کا امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے، اس طرح یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دماغی پری شارت جیسے نقصان دہ عوامل کی وجہ سے بھی ڈیمنشیا کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، یہ صرف ایک بات یہ نہیں کہ جب سر اور دماغ چھوٹے ہوتے ہیں تو دماغ کی خلیات کم ہو جاتی ہیں اور نقصان پہنچتا ہے، اور اس نتیجے میں ڈیمنشیا کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے
یہ سوال ہمیں ایک اہم پہلو پر فوک دیتا ہے کہ ہمارے جسم میں اور اس سے منسلک سر کی اہمیت کیا ہے، یہ سوال ہمیں ایسے پہلو کو بھی توجہ دلاتا ہے جو ہماری زندگی کے آخری حصے میں اس سے منسلک ہوتا ہے، یہ سوال ہمیں ایسے پہلو کو بھی توجہ دلاتا ہے جو ہماری زندگی کے آخری حصے میں اس سے منسلک ہوتے ہیں، یہ سوال ہمیں اس بات پر Reflection کرنے کو بھی دیتا ہے کہ ہم کس طرح اپنی زندگی کے آخری حصے میں خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
یہ سوال واضح طور پر آتا ہے لیکن کسی بھی کی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کا خطرہ اس طرح ظاہر نہیں ہوتا کہ آپ کا سر ایک تباہ کن اعصابی بیماری سے منسلک ہو جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر آپ کی زندگی میں نقصان دہ عوامل کم ہوتے ہیں تو آپ اس خطرے سے بھگتے نہیں۔
اس کھانے کی چیتنیوں پر دیکھ رہا ہوں... تھیڈ اور لیمنڈس کے ساتھ کھائے ہوئے پپارچچوں کا معشوق... آپ جانتے ہیں کہ اس کھانے کی چیتنیوں کو کس قدر دیکھنا ہے? اور ان کے ساتھ پکایا جانا ہے? یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کھانے کی چیتنیوں میں ایسا مکسچر ہوتا ہے جو آپ کو ایک نئے عطیہ میں لے جاتا ہے...
یہ investigación دکھایتی ہے کہ دماغی بیماریوں کا خطرہ سر کی समसاتوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے اور یہ تعین کرسکتا ہے کہ ڈیمنشیا کیسے پڑتا ہے۔ لاکھوں عمر پھولے رہبوؤں میں سے تقریباً 17 فیصد اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے، جو ان کے دماغ کو نقصان پہنچاتے تھے۔
یہ investigation بھی دکھاتی ہے کہ سر اور دماغ کی صحت ایسے بڑے کारकوں سے متاثر ہوتی ہے جن کو ہم کمزور سمجھتے ہیں، جیسے تعلیم کا کم درجہ اور دماغی پری شॉरٹٹی جیسے نقصانات۔
اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈیمنشیا کی تشخیص کैसے کی جائے، اور یہ دوسرے کारकوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو انسان کی دماغی صحت میں نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتیجے میں نے سمجھا کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا ڈیمنشیا کے خطرے سے بہت زیادہ جوڑا ہے، اور یہ بات بھی درست ہے کہ ان رہبوؤں میں جس کی تعلیمی سطح کم تھی، وہ ڈیمنشیا کے امکانات چار گنا زیادہ تھے۔
لेकिन یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے ان رہبوؤں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے ہیں، اور یہ بات بھی نہیں ہو سکتی کہ وہ ان پری Sharٹی سے محفوظ رہتے تھے جو ان کے دماغ کو نقصان دہ بناتا ہے۔
اس تحقیق کا نتیجہ ہمیں اس بات پر یقین دلاتا ہے کہ تobaہر اعصابی بیماریوں سے پہلے سر اور دماغ کی صورت حال بھی ہمیشہ ایک حوالہ ہوتا ہے، جس سے ہمیں ان کی زندگی کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص کیسے کرنی پڑتی ہے اور یہ بھی ایک حوالہ بنتا ہے کہ کیا ہمیں اس سے قبل یہ سمجھنا چاہئیے کہ ہمارا سر تباہ کن اعصABI بیماریوں کے خطرے کو ظاہر کر سکتا ہے؟
یہ بات بھی سوچنی چاہئیے کہ ڈیمنشیا کی تشخیص میں سر کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے؟ جب یہ تعین ہوتا ہے کہ آپ کا سر تباہ کن اعصابی بیماریوں کے خطرے سے لگپگ ہے تو ڈی این اے کی مہم شروع کرنا بہت ضروری بن جاتا ہے
اگلے سوال یہ ہے کہ آپ کی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص کیسے کی جائے؟ تو اس پر تحقیق کرنا بھی ضروری ہوگا، کینسر یا دباؤ نا ہونے کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے، یہ بات محسوس ہوتا ہے
مگر آپ نے تھوڑی سی بات کہی جو مریضوں کے لیے ایک بڑا اچھا سائنسی ماحول ہے، لیکن یہ سوال جس پر تحقیق کی گئی تھی وہ بھی ضروری ہے، اس میں سر کا کردار کو بھی ظاہر کیا گیا ہوگا
یہ بات تو پتہ چلی ہے کہ ڈیمنشیا کی تشخیص میں سائنسی تحقیق اور کینسر کا ماحول بھی اہم ہوتا ہے، لیکن یہ بات تو ایک رہبؤ کو پہلی چال دیکھنے والا نہیں ہوگا
اگلے سوال یہ ہے کہ دماغی پری Sharٹی اور دماغی پوسٹ مارٹم کیسے ڈی این اے کی مہم کو متاثر کرتے ہیں؟ اور سر کا کردار یہ کیسے دیکھا جاسکتا ہے، یہ بات محسوس ہوتی ہے
اس تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دماغی پری Sharٹی اور دماغی پوسٹ مارٹم کیسے ڈی این اے کی مہم کو متاثر کرتے ہیں، اس سے ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ سر کا کردار یہ کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟
ایسا کرتے ہوئے جو لوگ سوشل میڈیا پر اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے ہیں، وہ اپنی زندگی کے آخری حصوں کو انفرادی طور پر برقرار رکھتے ہیں۔ اسے ایک چیلنج سمجھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
اس لیے، یہ واضح طور پر بات ہے کہ ڈیمنشیا کے امکانات کو کم کرنا ایک گروپ کے اندر ہی نہیں بلکہ تمام عمر کے لوگوں میں لازمی ہونا چاہئے۔ ان رہبؤں میں سے جو پچھلے اسٹڈی میں شامل تھے، وہ اب اپنی زندگی کے آخری حصوں کو بھی ایسی ہی طرح سے برقرار رکھتے ہیں جو ان्हیں ڈیمنشیا سے نجات دہندہ بناتے ہیں۔
یہاں تک کہ رہبؤں کو ڈیمنشیا کا خطرہ بھی ہوتا ہے، تو ان کی زندگی کے آخری حصے میں یہ ساتھ ہی چلتا ہے... میرا خیال ہے کہ اس کے لیے ان کو اپنے دماغی حالات کی وضاحت کرنی چاہئیے، انھوں نے بھی اپنے لئے یہ سوال رکھا ہوتا تو کیا اس سے پہلے ان کے دماغ کو نقصان پہنچا چکا تھا?
یہ تحقیق تو کافی اہم ہے لیکن اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہے، میتھودز جو یہ تجویز کرتا ہے وہ بہت پرانے ہیں اور سچائی کی طرف نہیں بلکہ تجرباتی proves پر مبنی ہیں، اس لئے کہ ماہرین انہیں ایسا نہیں سمجھتے جو یہ تجویز کرتا ہے اور یہ بھی بات بھی نہیں ہے کہ یہ تجویز کیسے اپنی زندگی میں لाई جا سکتی ہے؟
یہ سوال کیا جائے تاکہ آپ سے آپ کی زندگی کے آخر حصے میں ڈیمنشیا ہونے کا Risk کس طرح معلوم ہو؟ اس بات کو ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ آپ کا سر تباہ کن اعصابی بیماریوں کی خطرے کو دکھاتا ہے اور یہ تعین کرتا ہے کہ آپ کوlifetime میں ڈیمنشیا کی کیسے پڑی؟
ابھی ایک تحقیق ہوئی جو تقریباً 700 عمر پھولے راہبوں پر مشتمل تھی جن کے دماغ کو نقصان پہنچتا تھا اور وہ اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے
اس تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ ان رہبوں میں سے تقریباً 17 فیصد اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے اور یہ بات بھی نہیں تھی کہ وہ صحت مند غذا، مضبوط سماجی تعلق اور کم نقصان دہ عوامل سے محفوظ رہتے تھے
اس تحقیق سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ ان رہبوں میں سے جن کی تعلیمی سطح کم تھی، ان میں ڈیمنشیا کے امکانات چار گنا زیادہ تھے۔ اس طرح ایک اور بات بھی سامنے آئی کہ وہ راہبوں جس کی تعلیمی سطح زیادہ تھی، ان میں ڈیمنشیا کے امکانات کم تھے
اس تحقیق سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ دماغی پوسٹ مارٹم جیسے دماغی پری Sharٹی کے باعث ان رہبوں میں سے تقریباً 60 فیصد اپنی عمر کے آخر میں ڈیمنشیا کی تشخیص جاتے تھے، جو صرف ایک ایسے گروپ کو ہی نہیں بلکہ پوری عمر کے دوران ان تمام رہبوں کو ہی آگے لے جاتا تھا
اس تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا ڈیمینشیا کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ انسان کے پاس دماغی خلیات (برین سیلز) کی تعداد کم ہوتی ہے اور جب یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں تو دماغ کو نقصان پہنچتا ہے
اس تحقیق سے واضح ہو گیا ہے کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا ڈیمینشیا کا خطرہ ظاہر کرتا ہے، لہذا وہ لوگ جو اپنے زندگی کے آخری حصے میں ڈی منیشیا کی تشخیص کرنا چاہتے ہیں وہ کوئی بھی بات اس پر غور نہ کریں بلکہ ایسے معاملات کے اندر کھیلنا ہوگا جس سے ان کی دماغی صحت پر نقصان پہنچائے، کھیل میں ایسے افراد کو شامل کیا جائیے جو وہ بھی رہتے ہیں اور اس طرح یہ ان کی دماغی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اگرچہ مجھے یہ بات کافی تھی کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا ڈیمینیشیا کے خطرے کو ظاہر کرتی ہے۔
اس تحقیق کے نتیجے سے ہم کو یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغی پری شاٹ کی وجہ سے ڈیمنشیا کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ان لوگوں کو خاص دیکھنا چاہئے جو دماغی پری شاٹ کی وجہ سے دماغی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ اور یہ بات بھی ہمیں یقین دلاتی ہے کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا ہی نہیں بلکہ دماغ کی صحت بھی اس سے متعلق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دماغی نقصان پہنچتا ہے۔
یہ سوالات ایک بھی طرح کا خطرہ ہیں جس سے مریضوں اور ان کے غراؤں کو لگتا ہے، کیونکہ یہ کہیں پھیلتے ہوئے گھنٹوں میں زندگی سے منسلک ہو سکتی ہے۔
لیکن، اس بات پر بات کرنا چاہئے کہ دماغی پریSharٹی اور دیگر اعصابی بیماریاں ایسے لوگوں کو تباہ کر سکتے ہیں جو بچپن کی صحت مند رہتے ہیں، اس لیے ان کے لیے آگے کی پلیٹ فارم کو متعین کرنا ضروری ہے۔
ان رہباؤں میں سے جن کی تعلیمی سطح کم تھی وہ ابھی بھی ایسے نہیں بنتے جو ان کو زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی بھی ایک معاون نہیں ہے، مگر اس کی کمی بھی ایسا ہی بن سکتی ہے جو زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔