بھارتی شعبہ منظرے پر کثرت سے حملے اور تنازعات کے بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف ایک اہم کرکٹ میچ کے لئے فیصلہ کر لیا ہے، جو 15 فروری کو منصوبہ بند ہوگا۔
سری لنکن صدر انور کومار داسانایکے نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اپنے ریکارڈ میں ایک اہم تبادلۂ خیال کیا تھا، جس میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سری لنکا میں منعقد ہونے والے میچ کے لئے کہا گیا تھا۔
داسانے نے اپنے دیرینہ تعلقات اور پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی سرگرمیوں پر زور دیا، جس میں دہشت گردی کے دور میں سری لنکن کرکٹ کو بھرپور حمایت دی گئی تھی۔ انہوں نے پاکستانی ٹیم کو ایک بار پھر یہ بات یاد دिलائی کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود سری لنکا میں دوطرفہ دورے جاری رکھتے ہیں جو دوستی کی ایک نئی نشاں کے طور پر درپیش ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کے جذبات کو خیر مقدم کرتے ہوئے انہی تعلقات کی برقراریت کا اعلان کیا اور کہا، "پاکستان بھی اس بات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو بڑے چیلنج کے دوران میں سری لنکا نے پاکستان کا ساتھ دیا اور کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کیا۔"
پاکستانی قوم اور کرکٹ شائقین کے لیے اس اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ سری لنکا نے ہر چیز پر فوقیت دی تھی، جو ایک ناقابلِ فراموش کردار کی طرح اٹھایا گیا تھا۔
سری لنکن صدر کے منصوبے پر پورا یقین رکھتے ہوئے پاکستان نے بھारत کے خلاف ایک اہم کرکٹ میچ کے لئے فیصلہ کر لیا ہے، جو 15 فروری کو منصوبہ بند ہوگا۔
یہ کھیل بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، یہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکھ بھارت کے لیے بھی ایک اہم موقع ہوگا۔ سب سے زیادہ ترقی کی دوسری طرف ، ان دونوں ممالک کے درمیان ایک اچھی طرح کا تعلقات بن گیا ہے، اس لیے یہ کھیل اچھی طرح اہمیت رکھتا ہے.
بھارت کی جانب سے اس ٹورنامنٹ سے انکار کرنا بہت مشکل ہو گا، مگر ایسا نہیں ہوگا؟ یہ بات بھی صحت مند ہے کہ پاکستان کی قومی ٹیم اس وقت کچھ چھٹکیں نہیں، لیکن اس میچ سے زیادہ انڈیا کو یقین دیا جائے گا کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں!
بھارت کے ساتھ ہونے والی سرگرمیوں پر دکھائی نہ دینے والی ہار، یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی جانب سے سری لنکا پر تنازعات اور حملوں کی طرف جس دباو کو پھیلایا گیا ہے وہ ان کے لئے بڑی مشکل ہوگی ، لیکن اس طرح کے مظالم کو حل کرنے کے لئے سب کچھ سے پہلے پاکستان کی جانب سے ہر چیز پر فوقیت دی جاتی ہے، وہاں تک کہ انٹرنیٹ پر بھی بھارت کو پھانسی ملاگی تو، وہاں تک کہ پاکستان نے اپنے کرکٹ ٹیم کو سری لنکا میں ایسے ایسے دوروں کے لئے جاری رکھی ہے جو سیکیورٹی خدشات کے باوجود ہی جاری ہیں
بھارت سے بڑی مہنگائی نہیں ہوگی ایسا کہ پوٹو رے اور تھری نینو سے پہلے کرو دھن وچر نے کیا تو اب بھی اہمیت ہے؟ 15 فروری کو کرکٹ میچ کا منصوبہ یہ لگتا ہے کہ سری لنکا نے ایسے ہی کر دیا تھا جیسا بھارت نے مگر وہاں پھلنے کا کوئی امکان نہیں ہے؟
یہ تھرڈ ورلڈ کرکٹ چیلنج سیریز کی بات کر رہے ہیں تو میں اس پر یقین نہیں کرتا کہ یہ ٹورنامنٹ بھی اسی طرح کی فاسدگیوں سے بھر پور ہوگا جو پاکستان کرکٹ کو گریوٹس پر ہمेशہ دیکھا گیا ہے
بھی کیا ہے؟ پہلے تو بھارت پر حملے اور پاکستان کے لئے ایک اچھا آؤٹپुट! اب وہ اس پر دھ्यان دیتا ہے، حالات کی ساری گہرائی کو سمجھنے کے بجائے صرف اپنی ناک بھری ہوئی ہے...
بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ اس طرح کی دوسری ٹیسٹ میچ نہیں کیا ہوگا، اور اگر اس میچ کو منصوبہ بند کیا جائے تو یہ بھی ایک اہم بات ہوگی کہ پاکستان نے اپنی قوم کی مدد اور پیداواری اقدامات پر توجہ دی ہے، اس سے ہمیں یہ بات یاد دلی ہے کہ پاکستان میں بھی اس طرح کا مقابلہ ہوگا جو سری لنکا نے کیا تھا۔
ਮੈں ان کھیلوں کی بھی سے اپنی دلچسپی رکھتی ہوں اور کرکٹ بھی ایک اچھی قوم کو ملازمت دیتا ہے، لیکن یہ وہ کرکٹ ہے جو ہر صبر اور مصیبت کے باوجود پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے بھیج دی ہے، بھارت نے انہیں ہمیشہ ایسا ہی دیکھا ہے اور اس لیے اب بھی ان کے خلاف میچ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، میرا خیال ہے یہ ایک نئی طرف کی طرف لے جائے گا جو اٹھانے کی بات تو ہے لیکن اس سے پہلے ہمیں پاکستان کے کرکٹ اور اس میں ہمارے لوگوں کے جذبات کو یقینی بنانا پڑے گا، یہ ایک ایسا قدم ہے جو بھی اس بات کو دیکھنے سے پہلے نہیں لگایا گیا ہو گا کہ اچھی طرح یہ کرکٹ کی پریشانیوں پر رہمiza جائے گا?
یہ بات واضع ہے کہ بھارتی شعبہ منظرے پر حملے اور تنازعات کے بعد پاکستان نے کیا۔ پہلے سے بھی سیریز منصوبہ بند تھی، لیکن اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پہلی بار ایسا اقدامات ہوا گا۔ پاکستانی قوم اور کرکٹ شائقین کو یہ بھی اچھا لگ رہا ہے، کیونکہ یہ ایک نئی نشاں ہے جو دوستی پر مبنی ہے۔
یہ کرکٹ ایسے موقع پر ہے جس پر دوسرے تمام مواقع سے بھی زیادہ اہمیت ہے۔ پوری دنیا کا دیکھ بھال لے گا اس میچ کو۔ لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان نے صرف بھارت کے خلاف کرکٹ میچ کے لئے فیصلہ کیا ہے، نہ پھر سری لنکا کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ بھیڈو اور دھندلوں کی ایسے صورت حالوں میں یہ سب کو ٹھوس نہیں آتا جب تک سیکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم سری لنکا میں دوطرفہ دورے جاری رکھتی ہے۔
بھارت نے اسے دیکھ لیا ہوں گے کہ ہمیں ایک ریکارڈ میچ کے لئے کرکٹ کرنے کی ضرورت ہے؟ انھیں پتا چلا ہوگا کہ پاکستان نے بھرپور اقدامات کیے ہیں، لیکن انھوں نے اس کا کبھی نتیجہ نہ لے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ سری لنکا میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہم نے ان کی طرف جانا تھا، لیکن اب ہمیں پتا چلا ہوگا کہ وہ اس سے بھی زیادہ کرکٹ کی کوشش کریں گے۔
مہاندرانی میچ کی ایسی پہلی ہے جو پاکستان اور سری لنکا دونوں کے لئے بے مثال ہوگی।
یہ سڑک پر بھی پھنسنا پڑا ہے نا۔ کچھ دنوں قبل یہ کہا جاتا تھا کہ اہم کرکٹ میچ پاکستان کی جانب سے چلائے جا رہے تھے لیکن اب لوگ بات ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ میچ بھارت کے خلاف چلائے جا رہے ہیں۔ تو پھر یہ ساری گزری، اس پر کوئی بات نہیں تھی اور اب وہی ہوا۔ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک جادوگر کی جاد کی طرح ہو رہا ہے۔
یہ بھارتی شعبہ منظرے پر حملوں اور تنازعات کے بعد بھی پاکستان نے اپنی تیز دلی کی نمائش کی ہے، اس میچ کو کیسے جیتا جائے گا؟ یہ بات کہیں بھی منفی بنتی ہی نہیں ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو Sri Lanka میں دوطرفہ دورے پر جاری رکھنا ایک بڑا قدم ہے۔
اس بات سے یقین رکھیو کہ پاکستان اور سری لنکا دونوں کراچی اور کولمبو میں اپنے پیروکاروں کی دیکھ بھال پر یقینی طور پر فोकس دیتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ نازک تعلقات برقرار رکھتے ہیڹ۔ اس میچ کو جیتنا Pakistan کی کرکٹ ٹیم کو مشکل ہوگا لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ فلاج اور سہولت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جو ان کی ناقابلِ فراموش جیت کو یقینی بنا دے گی.
سری لنکا کرکٹ کی ایک وضاحت کی بات ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں کے پیروکار اپنے پیaras کے ساتھ بے آمانت محبت رکھتے ہیں، اس میچ کو ناکام نہ بنایا جائے گا۔
بھارت سے یہ فائنل ملک کی پناہ اور سیکیورٹی کے بارے میں ہو رہی ہے، جس پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس میچ کے لئے چھوڑا گیا ہے؟ پاکستانی شائقین کی نومنZYت بھی یہ توجہ سے منسلک ہو رہی ہے!
یہ تو واضح ہے کہ پچاس سال قبل ہونے والی ایسے حالات پر بھی پاکستان نے وہی ہی کیا تھا، جیسے یوں آج اور کبھی ہو گا!
بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میں یہ ریکارڈ میچ کس بات سے اہم ہے? وہ یہ کہ دونوں دوسرے نہیں بلکل!
ابھی بھارت کو لینے کی کوشش کر رہا تھا تو پاکستان نے اس میچ سے ایک نئی ترقی پر چڑھا دی ہے۔ شائقین کی بھلائی کی بات یہ ہے اور یہ شائقین کو کچھ نئی hopedfullz milنی ہوگی.
یہ سب توھر یہ بھی ہے کہ ڈاسنا نے پاکستان کو اس کے ساتھیوں کی طرف اشارہ کیا اور سرگرمیوں پر زور دیا، لیکن کیا ان کی واضح اصولوں کو ہم بھی اپنائیں؟ یہ کرکٹ کی بات ہے، نہیںPolitics? کیا ہم اس میچ کے دوران میںPolitics سے باہر رہتے؟
بھارتی شعبہ منظرے پر حملے کے بعد بھی کرکٹ میں پاکستان کی سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے، جیسا کہ انہوں نے سری لنکا میں کرکٹ کو بحالی کے لئے کردار ادا کیا تھا!
یہ سارے واقعات بہت غمبار ہیں، پاکستان نے بھارت کے خلاف ایک اہم کرکٹ میچ لئے جانا ہے، لیکن یہ سوال بھی ہے کہ یہ میچ ہونے والے ریکارڈ کو کس کی طرف سے محفوظ کیا گیا ہے؟ پاکستان نے اپنے لئے ایک چھپا ہوا جواب دے جانے کی پریشانی بنائی ہے۔
میری خیال میں، اس سلسلے میں کوئی نویندگی نہیں ہے، پاکستان اور سری لنکا دونوں کے درمیان ریکارڈ کی ایسی بات کی ہے جو پوری دنیا کے سامنے لائی گئی ہے۔ لیکن اس ریکارڈ کو کس نے محفوظ کیا ہے؟ کیا یہ پاکستان کی ملکی مہارتوں کا ساتھ دیتا ہے یا اس پر ہی ایک نئی Conspiracy Theory لگائی جائے گی?