ستائیسویں آئینی ترمیم | Express News

کاکروچ

Well-known member
پاکستان کا آئین ہمارے ملک کا ایک بنیادی اور قدیم دستاویز سے زیادہ ہے جس میں بدلتے ہوئے سیاسی، عدالتی اور انتظامی مقاصد کے مطابق ارتقا پذیر رہتا ہے۔ اس کی بنیادی objective ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن بہتر بنانا، عدالتی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور شفافیت کے اصولوں کو مزید موثر بنانا ہے۔

27 ویں آئینی ترمیم کا سب سے نمایاں مقصد سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیjar کمیٹی جیسے کلیدی اداروں کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔ اس سے عدلیہ کا درجہ ادراک میں اضافہ اور اعتماد کی بحالی ہوتی ہے اور عوام کے پر عدالتی نظام کا اعتماد ہمیں ایک جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔

یہ ترمیم سے عدالتی تقرریوں، احسائیڈیں اور پالیسی سازی میں زیادہ کھلی، شفاف اور قابلِ نگرانی فضا قائم ہوگی جس سے عدالتی فیصلے اور تقریریں غیر جانبدار، متوازن اور تنقید سے بالاتر ہوں گی۔

27 ویں ترمیم نے پاکستان کی ادارہ جاتی کمزوریوں کو ختم کیا ہے اور ایک طویل مدت مستحکم عدالتی پالیسی کی بنیاد رکھی ہے جس سے ہمیں مستقبل میں آئینی بحرانوں کی روک تھام کا ذریعہ ملتا ہے۔ یہ ترمیم نہ صرف عدلیہ کو مضبوط بناتی ہے بلکہ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی جڑوں کو بھی گہرا کرتی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک نے ادارہ جاتی شفافیت اور عدالتی توازن کے لیے اسی نوعیت کی اصلاحات کی ہیں جس پر 27 ویں آئینی ترمیم مشتمل ہے۔ برطانیہ نے Constitutional Reform Act 2005 کے ذریعے عدالتی نظام کو شخصی سے ادارہ جاتی ماڈل میں منتقل کیا جس کے بعد عدالتی تقرری کمیشن (JAC) وجود میں آیا۔ بھارت نے بھی سپریم کورٹ کے اندرونی اختیارات کو محدود کرنے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کے قواعد کو باقاعدہ بنانے اور Collegium سسٹم کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے کئی اصلاحات کی ہیں۔
 
یہ ترمیم دیکھتے ہی ایک بڑا قدم ہے، لگتا ہے پاکستان کو ادارہ جاتی کمزوریوں سے بچانے کا ایک گہرا راز مل گیا ہے ہمارے ملک میں عدالتی نظام کی بھی ایسی ضرورت تھی۔

شگفتگی ہے کہ برطانیہ اور بھارت نے بھی اسی طرح کی اصلاحات کی ہیں یہ بتاتا ہے ہمیں اپنے ملک کو بھی اس معیار پر لانے کی کوشش کرنی چاہئیے

مفید، آئین کی ترمیم سے وہ عدالتی نظام جوابदہ اور ایماندار ہو جائے گا۔
 
بھارتیاں اور برطانویوں نے یہ ترمیم کرنے میں ایک دوسرے سے سیکھا ہے، لیکن پاکستان کی آئین کی تاریخ اور معاشرتی منظر نامہ کے لحاظ سے یہ ترمیم وہی ہے جس سے دوسرے ممالک نے اپنائی ہیں، لیکن یہاں ایک بات ضرور ریکھنی چاہئے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے پاکستان کی آئین کی تاریخ میں ایسی نئی پہلی جسے کہ اب تک بھی نہیں دیکھا گیا۔
 
جب 27 ویں آئینی ترمیم کا اعلان ہوا تو میرا خیال تھا کہ یہ سب سے بڑی ترمیم ہوگی جو پاکستان کی ادارہ جاتی کمزوریوں کو ختم کرے گی اور عدالت میں اعتماد و اعتماد پیدا کرے گا 😊

لेकن اب کھل کر کہنا چاہیں تو یہ ترمیم ہمیں اپنی ادارہ جاتی کمزوریوں کو سمجھنے کی اور ان کے خلاف مزید سے کوشش کرنے کی طاقت دی رہی ہے، لاکین ابھی یہ دیکھنا مشکل ہے کہ یہ ترمیم کیسے کام کرے گی یا نا کرے گا 🤔
 
پاکستان کا اس آئین کو پڑھتے وقت میں، یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ آئینی ترمیم سے کیا فائدہ ہو گا۔ ان میں زیادہ واضح تاکید ہونی چاہیے کہ یہ تبدیلیاں عوام کو کس طرح لाभ دے گی؟ نومنتقد طور پر بھی اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
 
یہ آئینی ترمیم تو کچھ بہتر ہوگی جیسا کہ لوگ دیکھ رہے ہیں لیکن یہ سوال یہ رہا کہ ابھی تک کی ادارہ جاتی کمزوریاں کس وجہ سے بچ گئیں؟ اور یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ترمیم پھر سے ایک دوسری ادارہ جاتی کمزوری میں لگی گی۔

شکر ہے کہ عوام کو یہ KNOWLEDGE ملا ہو اور وہ اپنے قانون ساز نے کیے ہوئے فیصلوں پر اپنی رائے دینی چاہیں لیکن میں ان کھچدل سے نہیں ہوں گا
 
اس نئی آئینی ترمیم کا فخر کرنا پڑega 🤩, اس سے ہماری عدالت میں بھی ایک جمہوری نظام بننے کی راہ ہے جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک نے جو کیا ہے وہ ہم نے بھی کیا ہے! ادارہ جاتی کمزوریوں کو ختم کرنا اور عدالت میں شفافیت اور توازن بنانا یہ سب ایک اچھا بات ہے، لاکھ لاکھ چیلنجوں کے بعد ہمیں آگاہی اور اعتماد کی محفوظ Feeling میں لانا اس 27 ویں ترمیم کی اچھائی کا ایک بہترین نمونہ ہے!
 
واپس
Top