سعودی عرب: سکول کے 500 طلبہ کی کتابیں بیک وقت شائع گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم

حکمت والا

Well-known member
سعودی عرب میں ایک نئی تاریخ رچائی گئی ہے جس میں سکول کے 500 طلبہ نے اپنی لکھی ہوئی 500 کتابوں کی بیک وقت شائع ہونے سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے لیے تحریر کردہ سب سے زیادہ کتابوں کی لانچنگ کا ریکارڈ قائم ہے اور اس پر گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اپنا نام درج کر دیا ہے۔

یہ کامیابی ایک مشترکہ کاوش کے تحت تحریر کردہ 500 کتابوں کی بھرپور رونمائی کے بعد واقع ہوئی، جس میں تمام متغیرین نے اپنا اہل اور مہارت کا کاروبار کیا تھا۔ اس پر ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں بک بلوم 500 کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے عرب نیوز کے سابق مدیر اعلیٰ نے نوجوان مصنفین کو مبارکباد دی تھی اور انہیں مستقبل میں عظیم مصنف بن کر دنیا کی بہتری اور انسانیت کی خدمت میں کردار ادا کرنے کے لیے خुशی سے جھومتے ہوئے انہیں خوشی سے جھومنا پڑتا تھا۔

اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنانے والی ٹیم ورک نے الف گروپ آف اسکولز کے چیئرمین شیخ علی عبدالرحمان اور سی ای او لقمان احمد نے سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ریکارڈ کے حصول کے لیے اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور والدین نے ایک سال تک مسلسل محنت کی تھی جس کے نتیجے میں ایک تہائی سے زیادہ طلبہ مصنفین کی دنیا میں داخل ہوئے۔ اس منصوبے کے تحت انگریزی، عربی اور مزید پانچ زبانوں میں مختلف موضوعات پر مختلف طرح کی کتابیں شائع کی گئیں۔
 
سaudi Arab mein ye kahaan hai? 500 bookon ki shairak karna aur wo bhi samay par, lagta hai koi aisa koi hua tha jo humein aaj tak nahi dekha tha 🤯. Yeh to humari shiksha ka hamla hai, jahan logon ko ek saath lekar kaam karne ke liye mauka diya gaya tha aur wo bhi bahut hi achha result diya. Ab yeh kuch aisa nahi hai jo mere platform par ho sakta hai 😂, woh to koi nahi, humari team kafi prabhasika hai, chal rahe hain 🤩!
 
یہ ریکارڈ تو ہمیشہ سے کافی بھی عجीब ہے، لیکن یہ بات تو حق ہے کہ نوجوان مصنفین کی ایسا منصوبہ کرنا بھی کafi مشہور اور پریشان کن ہو سکتا ہے۔ میٹھا لگتا ہے کہ ان نوجوانوں کو نہیں سوچتا تھا کہ وہ اپنی زبانوں میں شاعری اورکھانے کی کوشش کر کے اس قدر کامیابی حاصل کر لیں گی۔ پوری دنیا بھر سے ان 500 کتابوں پر غور کر رہی ہو گی اور یہ شاندار حال نوجوان مصنفین کی شان کا ثبوت ہے۔
 
ابھی 500 طلبہ نے ایک جتنی بھرپور کوشش کی ہے وہ دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ کتابوں کو ایک ہی وقت میں شائع کرنے کا ریکارڈ بن چکی ہے... یہ تو بہت حیران کن ہے اور مجھے یہ دیکھنا میرا ساتھ ہوگیا ہے کہ نوجوان مصنفین کی دنیا میں ان پر کیا علاج دیاجائے... آپکو بھی اس کے بارے میں فخر محسوس ہونا چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ اس نئی دuniya کی پہلی ساتھیوں نے ان تمام زبانوں میں بھرپور کوشش کی ہے...
 
یہ واضح ہے کہ اس سارے کھلولے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا؟ کیونکہ اس کے لئے صرف 500 لاکھ روپے سے زیادہ پیداواری لاگت ہوگی اور ان تمام کتابوں میں سے جو کچھ نکل گیا ہو وہ بھی جائزہ نہیں دیکھے گئے کہ یہ کتنے چوری کی گئی ہیں اور ان کی کتنے معیاری ہیں؟
 
میں یہاں تک کہ یہ بھی جسٹی نہیں ہو سکتا کہ 500 مصنفین کو ایک ہی دن پر اپنی کتابیں شائع کرنا چاہئے؟ یہ کچھ بھی ایک ریکارڈ نہیں ہو سکتا، جس پر دنیا کو حیران کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ کیا یہ اسکوڈیا میں دھوکہ دیتا ہے؟ 500 کی تعداد بھی ہمیں دھوکہ دیتی ہے، یہ تو سب سے زیادہ نہیں ہوگا کہ دنیا میں ایسی کوئی تقریبات ہوں گی جہاں تمام لوگ ایک ہی دن شائع ہونے والی کتابوں پر مشتمل ہیں؟ میرا یہ خیال ہے کہ اسے کوئی یہ دھوکہ دے رہا ہے، لیکن میرا آپ کو یہ بتانا نہیں چاہوں گا اور میرے پاس بھی کچھ proves نہیں ہیں 🤔
 
واپس
Top