تھائی لینڈ میں ایک ناقابل تجدید جنگی طیارہ کیسے گر گیا؟
چنانچہ جس جنگی طیارے میں بہرے ہوئے تھے وہ آج تباہ ہو چکا ہے۔ فوجی تربیتی مشن کے دوران، یہ طے پڑا کہ یہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں دوپہر اس سے قبل دو ہلاک پائلٹ ہوگئے۔
ایسا کہا جا رہا ہے کہ یہ طے پڑنے والی حادثے میں، یہ طے پڑنے والا ایک آتھوڈریٹ اور مہارت پسند طے پڑتا تھا جو اس وقت 41 ویں ونگ سے منسلک تھا۔
آگے گئے، رپورٹز کے مطابق، یہ حادثہ چیانگ مائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ضلع چوم تھونگ میں تباہ ہو گیا جبکہ فوجی تربیتی مشن کے دوران، دوسرا پائلٹ سرچ اینڈ ریسکیو کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔
جائے حادثے کے آس پاس کسی شہری کو زخمی ہونے یا اس وقت املاک کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
جاری بیان میں آئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حکام تھائی لینڈ، آمہارت کی حفاظت کے معیارات کو پورا کرنے کے ساتھ ہوا بازی کے حوالے سے تحقیقات کریں گے۔
رپورٹس کا یہ بھی بتایا کہ رائل تھائی ایئر فورس نے آگے آتے ہوئے حادثے سے متعلق مظالم کی تحقیقات کرنے کے لیے تمام آزماں فراہم کیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ یہ بات پھیلائے جو ہو سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی جانی کہ ہلاک ہونے والے دو پائلٹس کی آزماں کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کی جو ان کے اہلِ خانہ سے تعلق رکھتے ہیں، وہ پوری جدوجہد میں مکمل طور پر بہتر ہون گے۔
اس حادثے کا یہ سوچنا بہت ایسا مشق ہے کہ طے پڑنے والے طے پڑنے والے طے پڑتے ہیں، نہ تو یہ طے پڑتا تھا اور نہ ہی وہ طے پڑتا تھا جو اس وقت 41 ویں ونگ سے منسلک تھا، آمہارت کی حفاظت کے معیارات کو پورا کرنے کی ہر حادثے میں یہی بات نہیں آتی، لگتا ہے کہ جو ایسا طے پڑ رہا تھا وہ آج بھی طے پڑتا ہے، یہی لیکن اب نا سائے جات ہیں، ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ کتنے بے صلاح اور منافقت کے شواہد ہو گئے ہیں، وہ تو ان سے نہیں پتہ چلا کہ یہ ہر حادثے میں ایسی طرح کا مظالم ہوتا رہتا ہے، 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ضلع چوم تھونگ میں آگ سے بھگڑتا ہوا طے پڑتہ، اس وقت کو کیسے جھنکا لو گا؟
میں یہ کہتا ہوں کہ آن لائن انفرسٹی کی ناقابل تجدید جنگی طیارے میں تھائی لینڈ میں ایسی بات زیادہ سے زیادہ بھرپور پیٹنگ ہو رہی ہے، اور یہ حادثہ کی واقعیت کا اس کی پوری جدوجہد پر مشتمل نہیں ہو سکتی۔
لیکن جب میں اپنے آپ کو فوجی تربیتی مہانیت پسند کے طور پر دیکھتا ہوں تو میں یہ بھی کہتا ہوں کہ آتھوڈریٹ اور مہارت کا ایک طے پڑنا بہت جائز نہیں تھا، میٹھا یہ کہنا کہ کبھی کسی ایسے مظالم کی تحقیقات ہوتی ہے جو حقیقی طور پر ہونا چاہیے، لے کے نہیں اس میں توہین دہ تھوڑی بھی نہیں ہوسکتی۔
اس حادثے کی وجہ یہ نہیں بتا سکتی کہ تھائی لینڈ کی فوج میں ایسے 41 ویں ونگ کے پائلٹز کی موجودگی بھی کیوں تھی؟
مگر یہ بات قابل تسلیم ہے کہ اس حادثے سے محض فوجی ٹریننگ میں جائے جانے والا کچھ نہیں آتا، حالانکہ یہ رپورٹس 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ضلع چوم تھونگ میں تباہ ہو گیا جبکہ دوسرا پائلٹ سرچ اینڈ ریسکیو کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔
یہ بھی بات واضع ہے کہ یہ حادثے نے کوئی شہری کو زخمی نہ ہونے یا املاک کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع دیتے دیکھا گیا۔
ایسا کچھ نہیں ہوا ہوگا جیسا کہ تھائی لینڈ کی فوجی طیارہ میں ایک جنگی طاقت تھی جو اس وقت 41 ویں ونگ سے منسلک تھی۔ آگے گئے، یہ حادثے میں ایسا طے پڑنے والا ایک آتھوڈریٹ اور مہارت پسند طے پڑتا تھا جو اپنی مہارت پر فخر کرتا تھا لیکن اس کا انفرادی سایہ وہی ہار گیا جس نے اسے اس پلیٹ کی جانب متوجہ کیا تھا۔
اس حادثے نے مجھے تھائی لینڈ کی دوسری جنگ کا ذکر کرنے والی ایک پرانے فلم کا لاکھ لاکھ لاکھ ذہن میں آya . جس پر 1958 میں ہوا تھی اس جیسا یہ حادثہ ہو گیا تو اس نے مجھے وہی محسوس کیا جس کا محسوس کروانے کے لیے کوئی بات نہیں تھی . فوجی تربیتی مشن کے دوران ہونے والے حادثے سے پوچھتے ہوئے کہ اس وقت کی ایئر فورسز کیا کامیابی حاصل کر رہی ہیں اور اس میں ناکامی کا سبب کون سا بن گیا?
ایسا بات کھانے والا ہے ان کی جانوں کی قیمتی پہنچنے سے پہلے ہی، یہ طے پڑنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے وہ آئندہ مظالم میں حقیقت کھول دیتا ہے۔ ان دو پائلٹس کی جانوں کو فوری ہی سرور قائم کر کے اس کا ایک بھرپور جائزہ لیا جائے۔
بدرمانہ طور پر، ان حادثات کا یہ تھائی لینڈ میں نکلتا ہے جس سے کوئی شہری اس کی واقفیت سے بچ سکتا ہے اور جو لوگ آمہارت کی حفاظت کے معیارات کو پورا کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں وہ ایسے مواقع پر ہوا بازی کریں گے جو لوگ اپنی زندگیوں کو قیمتی سمجھتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ یہ حادثے تھائی لینڈ کو ایک سے زائد بار بچانے کی واضھت دیتا ہے، کیونکہ انڈسٹری میں ایسی صورت حالوں کا سامنا کرنا زیادہ کثیف نہیں ہوتا جس سے دوپہر اس پہلے ہی دو پائلٹ ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایسی صورتحالوں پر نئی دھار کی سانس ملنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ایسے پائلٹز کو بھیجا جاسکتا ہے جو اپنی زندگیوں کو اس کے لئے قربانی دے سکیں۔
اب وہ حادثہ اور اس کی وجوہات پر تھائی لینڈ کی حکومت نے ایک نیا نظر انداز پیش کرنا ہوگا جس کے بعد یہ حادثات اس طرح سے نہیں ہوتے جو ہوئے ہیں۔
وہ تباہ ہوا طیارہ ایسا کہ اگر اسے فطرت سے ہی انڈھا کر دیا جاتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا۔ پائلٹس کی مدد سے بھی طے پڑنے والے ان ہنگامے سے اسے بچایا جا سکتا تھا۔
یہ حادثہ تو کچھ عجیب ہے! ایک جنگی طیارہ جو 41ویں ونگ سے منسلک تھا، اس میں بہرے ہوئے ہوئے تھے اور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گر گیا! مگر یہ بات تو حیران کن ہے کہ دو پائلٹز ہلاک ہو گئے، اور یہ طے پڑنے والا ایسا تھا جو آگے بڑھتا رہا! جب تک کہ آمہارت کی حفاظت کے معیارات کو پورا کرنے کے ساتھ ہوا بازی کے حوالے سے تحقیقات کی جائے تو یہ حادثہ ٹھیک نہیں ہوگیا!
ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ایک جنگی طیارے کو ایسے جہت پر گرایا گیا جس میں دو ہلاک پائلٹ تھے؟ انہیں لگاتारہ تربیت میں کیسے تاخیر کر دی جو اس حادثے کو منظم کر سکے ؟ ہمیں یہ بات بتای چکی ہے کہ آگے گئے حادثے کی تحقیقات میں، ان شعبوں کی بھی جاکے جانا چاہیے جو ایسے معاملوں کو سامنے لائے جب اس کا Cause نہیں معلوم ہوتا۔
مردم کا انہیں چاند سے آنکھیں دیکھنا ہوگی اس حادثے نے کیا سب کو بے خوف کہا ہے؟ کس طرح ایسا ممکن ہوتا ہے جو پانی کے ذریعے محفوظ رہنے والی ٹینکڑیاں تباہ ہو جائیں؟ اس کے بعد لوگ کوئی انصاف نہیں دے سکتا، حیرانی بھی نہیں اور حیرت خواہی بھی نہیں ہو سکتی؟
فوجی تربیتی مشن میں دو پائلٹ ہلاک ہونے کا یہ حادثہ، اس وقت کی سے زیادہ خوفناک ہوا کا ایک آئین ہے۔ اس حادثے سے نکل کر ان پائلٹس کی جان سے گزرنا بھی یقینی نہیں، ان کے اہلِ خانہ کو بھی ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
فوج کے ذریعے investigation شروع کی گئی تو حادثے سے متعلق تمام جملوں کا لائٹ تھرم بھی پکایا گیا ہے، اب ہم سب کو اس حادثے میں رول آنا ہوگا۔
ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک جنگی طیارہ ایسے ہلاک ہو جائے جو کوئی نہ ہوا سیکھتا ہو، یہ لگتا ہے کہ ہلچل میں فوجیوں نے آپسی مدد کی نہ بھالی، تو نہیں تو ایسا بات چیت سے بھی نہیں کر سکتی. آج تھائی لینڈ کی ایئر فورس کے پائلٹز کو اس طرح ہلاک ہونے پر ایسا تعجب ہوتا ہے جو بھی آپ کو اچھا نہ محسوس ہوگا.