طالبان رجیم کو سفارتی محاذ پرایک اوربڑا دھچکا آسٹریلیا کا بھی افغان سفارتخانہ بند کرنےکااعلان

صحرا نورد

Well-known member
آسٹریلیا کا افغانستان سے دوسرے سفارتی تعلقات ٹوٹ گئے ہیں اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بارے میں عالمی عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا نے کینبرا میں اپنا پہلا سفارتخانا جون 2026 سے بند کر دیا ہے اور ابھی یہ اعلان بھی ہوا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو افغان عوام کا جائز نمائندہ نہیں سمجھتے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تازہ دیکھ رہے ہیں۔

آسٹریلیا کی حکومت نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہ طالبان کے سرکاری اداروں سے بنیادی دستاویزات حاصل کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں اور اس صورتحال کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس بات پر آسٹریلیا کی حکومت نے ایک بھرپور انکار کر دیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو افغان عوام کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑھانے سے نہیں منع کئے جاسکتے۔

ان پر یہ بات بھی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں اور خواتین پر پابندیاں جاری ہیں، جو آسٹریلیا کو انتہائی توجہ سے دیکھ رہی ہیں۔

دوسری جانب ایک ماہر نے کہا ہے کہ اس بات کی واضح علامت یہ ہے کہ آسٹریلیا نے اپنے سفارتخانے کو بند کر دیا ہے اور افغانستان سے دوسرے تعلقات ٹوٹ گئے ہیں، جو طالبان حکومت کی غیر جمہوری اور شدت پسند پالیسیوں کے بڑھتے عالمی عدم اعتماد کی واضح علامت ہے۔
 
اس افغانستان میں طالبان کی حکومت پر آسٹریلیا کی governments کی نئی سٹینڈ پوائنٹ کے بارے میں یہ بات کہیں بھی ٹھیک ہوتی ہے کہ وہ اس صورتحال کو کچھ دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اٹھتے ہوئے یہ بات ٹھیک لگی کہ وہ طالبان کی حکومت سے دوسرے تعلقات بھی ٹوٹ چکی ہیں، جو اس حقیقت کا ایک اور صریح ثبوت ہے کہ وہ اس صورتحال کو سمجھنے میں ناکام ہوئے۔

اس بات پر بھرپور اتفاقیہ نہیں ہوا کہ آسٹریلیا کی حکومت طالبان کو افغان عوام کا نمائندہ سمجھتی ہے یا نہیڰ، اس میں یہ بات بھی صاف لگی کہ وہ طالبان کی حکومت سے دوسرے تعلقات ٹوٹنے پر ابھی تک کوئی سچائی نہیں ہوئی ہے، ان شؤون میں بھی اچانک بدلाव آ رہا ہے۔
 
آسٹریلیا نے افغانستان سے اپنا تعلقات توڑ کر تازہ دکھایا ہے، اور یہ بھی بات چکائی گئی کہ وہ طالبان کی حکومت کو ایسا سمجھتے ہیں جو افغان عوام کا نمائندہ نہیں۔ اس صورتحال میں آسٹریلیا کی حکومت کا ایک بیان تو تازہ ہے، لیکن وہ بات بھی چل رہی ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ انuman حقوق کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے پر مجبور نہیں ہوتے۔ اس پر یہ بات بھی بات چکتی گئی ہے کہ آسٹریلیا کی حکومت کے پاس اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا انصاف کیسے کیا جائے گا؟
 
اس صورتحال سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے، آسٹریلیا نے ایسا ہی کیا اور اس کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بدلنے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں اور آسٹریلیا نے خود کو اس صورتحال کا شکار نہیں سمجھنے پر مجبور کیا ہے۔

مگر ایسا تو کرنا بھی اچھا ہوگا! آسٹریلیا نے اپنے سفارتخانا کو بند کر دیا اور اس سے پتا چلتا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کتنے بھی گھمتی ہیں، اب وہ ان کا احترام نہیں کرتے اور اس صورتحال کو توازن دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
اس صورتحال پر غور کرنے پر میں سوچتا ہوا کہ طالبان حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہنا بہت گھبراہت کن ہے، اس سے دنیا بھر میں ناواقف ہونے والی عوام پر دباؤ پڑتا ہے اور ان کے حقوق کو کیسے بنایا جاسکta ہے؟
 
بجائے آسٹریلیا نے اپنے پہلے سفارتخانا بنایا تھا تو اب وہیں سے اسپیکر ہونے والوں کی چال لگ گئی ہے. افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹوٹنا نے آسٹریلیا کو ایک بہت बडا نقصان پہنچایا ہے، لیکن اس پر وہ انہیں دبای رہے ہیں. میرا خیال ہے کہ آسٹریلیا کو اپنے سفارتی تعلقات کو فिर سے قائم کرنا چاہیے اور افغانستان کے لیے ایک نئے دور کی شروعات کرنی چاہیے.
 
اس سے پہلے آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ بہت بھرپور تعلقات قائم کیے تھے اور اب وہ ان تعلقاتوں کو توڑنا شروع کر رہے ہیں۔ اس طرح آسٹریلیا نے اپنے سفارتخانے کو بھی بند کر دیا ہے اور اب وہ طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا चاہتے۔ اس سے ان کا عالمی عدم اعتماد بڑھتا جا رہا ہے اور آسٹریلیا کو ان کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں پر بھی توجہ دینے لگی ہے۔
 
آسٹریلیا نے ایک پہلا سفارتخانا بند کر دیا تو یہ ان کے پہلے یورپی تعلقات ٹوٹنے کی طرف دیکھتا ہے، اب وہ افغانستان سے جو کچھ رہا ہے وہ بھی تیزاب دے رہا ہے۔ یہ بات سے یقین رکھو کہ ایسا جاتا ہے جب اس وقت میں کی چیٹ پر کوئی توڑ نہیں پاتی، اس لیے آسٹریلیا نے ان تمام باتوں پر بھرپور انکار کیا ہے جو وہ کرتا ہے، اور ابھی یہ اعلان بھی ہوا ہے کہ وہ طالبان کو ایسے لوگ سمجھتے نہیں جوں جو عوام کا نمائندہ ہوتے ہیں، یہ سب ایک ایسی بے ایمان پالیسی کا احاطہ ہے جس سے اسے اپنے دوسرے معاشی اور سیاسی مفادات کو برقرار رکھنا ہوگا۔
 
اس طرح آسٹریلیا کو آج بھی اس بات پر توجہ دیکھنا مشکل ہے کہ وہ اپنے سفارتی تعلقات سے کیسے لڑ رہا ہو؟ ایسے میں انہیں خود کو بھی پہچانا پھینکنا مشکل ہوگا اور وہ نئے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہاں سے وہی گزر رہا ہوگی جسے وہ پہلے چھوڑ دیا تھا اور ان کے نئے تعلقات بھی طاقت کی کامیابی کی بات سے ہوسکتی ہیں، ایسے میں وہ صرف خود کو پہچاننے میں محرک بن جاتا ہے۔ 🤦
 
آسٹریلیا کی یہ ناکام فیصلہ اس لئے ہوا ہوگا کہ اس کو آسان نہیں سمجھنا پڑ رہا ہے کہ طالبان حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک سیریز شروع کر دیا ہے? یہ بھی ایک بات ہے کہ آسٹریلیا کو اپنی سرحدیں توڑنا پڑ رہا ہے اور افغان عوام سے دوسرے تعلقات ٹوٹنا پڑ رہے ہیں، یہ بھی ایک علامت ہے کہ عالمی समاج نے طالبان کی حکومت کو غیر جمہوری اور شدت پسند سمجھ کر اس پر احتجاج شروع کر دیا ہے
 
کینبرا میں سفارتخانا بند کرنا ایک بڑا خطیابDecision ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ آسٹریلیا کو یہ بات غلط نہ تھی کہ وہ طالبان حکومت کی صورتحال سے بچنے کے لیے یہ کदम ہو رہا ہے۔ اور ابھی ان کا اعلان بھی ہوا ہے کہ وہ طالبان کو افغان عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتے؟ یہ کیا وہ آسٹریلیا کی پہلے سے اتارے ہوئے پالیسیوں پر واپس آ رہے ہیں? 😐
 
آسٹریلیا کی یہ Decicion تو افغانستان میں طالبان کی حکومت پر پوری توجہ مرکوز کر رہی ہے... "شہرت کا نہ ہونے سے بھی کوئی غم نہیں ہوتا"
 
اس صورتحال پر غور کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسٹریلیا نے اپنی پالیسیوں میں ایک جانب توجہ دی ہے اور دوسری جانب ایسے مواقع کو جھٹکا دیا ہے جتھے وہ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے یہ صورتحال تو پیدا کر دی ہے جس پر دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے اور آسٹریلیا کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ یہ صورتحال تو سمجھتے ہیں لیکن اس پر کیا کوئی فوری حل نہیں پاتے ان کی اور اس کے مواقع پر ایسی پالیسیوں سے کام کیا جا رہا ہے جس سے دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی یہ صورتحال سامنے آ سکتی ہے۔
 
افغانستان میں طالبان کی حکومت کا یہ واقعہ تازہ دیکھ کر سोचتے ہیں کہ آسٹریلیا نے اپنے تعلقات کو توٹنا پہلے ایک افغان فلم میں دیکھا تھا 😂 جیسے جو ان کی سیریز ہے "دہلی کا شہزادہ"۔ لیکن یہ بات واضع ہے کہ آسٹریلیا کی حکومت کو ابھی بھی اپنے تعلقات کو توڑنا پہلے ایک طالiban جیسا معاملہ سے نہیں کچل رہی ہیں، لیکن اس کی واضح علامت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے سفارتخانے کو بند کر دیا ہے اور ابھی یہ اعلان بھی ہوا ہے کہ وہ طالiban حکومت کو افغان عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتے ہیں۔

اس بات پر یہ بات بھی تازہ دیکھنی پڑ رہی ہے کہ ایسے معاملات میں اہل و احترام ہی طالبہ ہوتے ہیں، اس لیے آسٹریلیا کی حکومت کو ابھی بھی اپنے تعلقات کو توڑنا پہلے ایک افغان فلم میں دیکھنا ہوگیا ہے۔
 
اس دuniya میں تین ساتھ نہیں آئے، آسٹریلیا نے افغانستان سے اپنے تعلقات ٹوٹ گئے ہیں اور ابھی طالبان کی حکومت پر ان کا اعتماد بھی توٹ گیا ہے। اس صورتحال کو سمجھنا ایک مستقل مشکل ہے، آسٹریلیا نے اپنے سفارتخانا کو بند کر دیا ہے اور اب وہ طالبان کی حکومت کا نمائندہ نہیں سمجھتے۔ یہ بات بھی کہیں جاتی ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کے خلاف بے حد زور سے کارروائی کرتے رہے ہیں، جو آسٹریلیا کو ٹھوس توجہ سے دیکھ رہا ہے۔
 
اس کا یہ اعلان تو ایک بڑی خبر ہے، مگر آسٹریلیا نے دوسرے سفارتی تعلقات ٹوٹنے سے پہلے ایسے لازمی اقدامات کھینچے تھے جو وہ اب کرنا چاہتے ہیں کہ اپنی سفارتی گئیں نہ تو ٹوٹ جائیں اور نہ ہی اپنے لئے ایک نئی سے نئی معیشت بنائی جا سکے۔
 
اسٹریلیا نے افغانستان سے اپنے تعلقات ٹوٹ گئے ہیں، اور اس وقت یہ بھی بات آ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتے! یہ تو کیا ہوگا؟ ایک سے زائد سال پہلے اسٹریلیا نے اپنے سفارتخانا کو بند کر دیا تھا، اور اب بھی وہ افغان عوام کے لیے وہی بھرپور معاونت نہیں کر سکتے! یہ اس بات کی ایک ایسی علامت ہے جو دنیا کو دیکھ رہی ہے کہ آسٹریلیا کو آئندہ اور کچھ نئی رائے کے لیے تھوڑی دیر دی جائیگی! 😕
 
اس کی اہمیت یہ ہے کہ آسٹریلیا نے اپنے آپ کو ایک منزل ایڈوانس لینے میں محفوظ رہنا چاہیے اور اس صورتحال سے نکلنا چاہیے جو افغانستان کی زندگی میں بھرپور نقصان دہ ہو رہی ہے
 
اس بات پر مجھے گھبراہٹ ہے کہ آسٹریلیا نے اپنے سفارتخانے کو بند کر دیا ہے اور افغانستان سے دوسرے تعلقات ٹوٹ گئے ہیں ... یہ بات ایک بھارپور عالمی عدم اعتماد کی علامت ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت نے کبھی بھی طالبان کو افغان عوام کا نمائندہ نہیں سمجھا ہوں گے اور یہ بات تو واضح تھی، لेकن اب یہ اعلان تو آ گیا ہے کہ اس صورتحال کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔

اس دuniya میں کسی بھی ملک کی ایسے پالیسیوں سے پرامن رہنا مشکل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوجاتی ہیں، اور آسٹریلیا کی حکومت کو بھی اپنی پالیسیوں پر ایک اچھی رائے لگانا مشکل ہوگا۔

مujhe لگتا ہے کہ اس صورتحال میں کسی نے افغان عوام کو واپس چلنا دیا ہوگا، جو طالبان کی حکومت سے دوری پر ہوا ہے، اور انہیں اپنی اچھائی کے لیے جدوجہد کرنا پڑی ہوگا۔
 
واپس
Top