مالی سال 2025-26 میں جو ٹیکس وصولیوں کا اہل قائم کیا گیا تھا وہ آخری ورکنگ ڈے تک صرف 7.15 کھرب روپے تک پہنچ سکا، جبکہ ٹیکس وصولیوں کی کل ہدف تھی 374 ارب روپے، اس کی کم از کم 124 ارب روپے بھی گزر چکی ہیں۔ حالانکہ اس وقت کے ٹیکس وصولیوں میں کمی کی وجہ سے جولائی تاجنوری کے دوران ٹیکس وصولیوں میں نظرثانی ہدف کو کم کر دیا گیا، لیکن گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ وصولیاں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج بھی نیشنل بنک کی کسٹمز کلیکشن برانچز کو ہفتہ کے روز ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے، اس طرح نیشنل بنک بھی اپنے روز 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھل سکتے ہیں۔
وزیراعظم ایف بی آر نے خود کے کارکردگی کو بہتر بنانے کی طرف جوش لگایا ہے، لیکن ابھی تک کچھ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنی واضح دلچسپی مظاہر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئینی ٹیکس اختیارات سے متصادم ہے۔
मیری نظر میں یہ بات بہت پریشانک ہے، جب یہ بات سنائی دیتی ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں صرف ایک لاکھ 75 ہزار روپے ہی حاصل ہوئے ہیں، جبکہ یہ 374 ارب روپے کی ہدف تھی... یہ بہت دیکھنا ہے کہ کیا ہم نے انصاف کی تجری میں بھاگ دیا ہے، اور ابھی یہ بات سنی جاتی ہے کہ وزیراعظم نے اپنے کارکردگی کو بہتر بنانے کی طرف جوش لگایا ہے، لیکن ابھی تک کچھ نتائج حاصل نہیں ہوسکے... یہ تو کیا ہم اٹھنا چاہتے ہیں؟
یہ وکٹر کھیل کی طرح ہو رہا ہے، ہمیں ان میڈیا نینسز کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں اور اس پر بھارosa پڑتا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں کمی کیا جائے یا نہیں، پھر ان کی رپورٹز میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا تو لوگوں کی منچھت آئی۔ اب یہ وصولیاں دوسرے مہینوں میں بھی زیادہ رہنے کی کوشش کر رہی ہیں، آکے کو کھیلتے ہوئے یہ وصولیاوں سے پورا ناچ لگ رہا ہے!
کیا ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ایک سہولت ہے؟ میرے خیال میں یہ صرف ایک نئی پدھر کی کمرشل چیلنجنگ ہے جہاں لوگ ٹیکس وصولیوں پر دیکھ رہے ہیں نہ تو فیکٹریڈ کرنے والوں کو اچھا سہارا ملتا ہے اور نہ ہی وہ لوگ جو ٹیکس کئے والوں سے نرمی کا سہارا لیتے ہیں، یہ صرف ایک ایسا معاملہ ہے جس پر دھیان نہیں دیا جا رہا کہ اس کو کیسے منظم کیا جا سکتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ اگر نیشنل بنک کو روز 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلنا ہوا تو یہ بھی ایک کام ہے، لیکن اس کی ضرورت کی بات ہے یا نہیں؟ اس پوری کارروائی کو سمجھنے کے لئے پوری ٹیکس وصولی کو دیکھنا چاہیں گے، اور یہاں تک کہ 7.15 کھرب روپے ہی تک پہنچ گیا ہے تو بھی کیا آئیں وصولیوں کو زیادہ نہیں کیا جا سکتا؟
تاہم، یہ بات بھی توجہ دیتا ہو کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ایک نئی روایت کو شروع کر رہا ہے اور اس سےTax seasonka samay میں بھی تेजی سے کام کیے جا سکतے ہیں. اس سے لوگوں کے لئے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ نہیں صرف ایک نئی hope لائیں گے اور ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کی تنقید نے اس پر توجہ کھینچ دی ہو یہ بھی بات کو دیکھنی چاہئیں کہ ہم جس چیز سے متصادم ہو رہے ہیں وہ نہیں ہم۔
یہ تو عجیب ہے، اس مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں کا اہل قائم کیا گیا تھا تو یہ صرف 7.15 کرور تک پہنچ سکا، لیکن ٹیکس وصولیوں کی کل ہدف 374 ارب روپے تھی، اور 124 ارب روپے بھی گزر چکی ہیں، یہ تو کئی پیمانوں تک کم ہیں...
لیکن پھر تو یہ بات بھی ہوتی ہے کہ اس وقت کے ٹیکس وصولیوں میں کمی کی وجہ سے جولائی تاجنوری کے دوران ٹیکس وصولیوں میں نظرثانی ہدف کو کم کر دیا گیا، لیکن گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ وصولیاں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں...
یہ سب تو بھی جانتے ہیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیشنل بنک کی کسٹمز کلیکشن برانچز کو ہفتہ کے روز ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے...
لیکن پھر تو وزیراعظم ایف بی آر نے خود اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی طرف جوش لگایا ہے، لیکن ابھی تک کچھ نتائج نہیں ہوسکے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنی واضح دلچسپی مظاہر کر رہے ہیں...
دوسری جانب، ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئینی ٹیکس اختیارات سے متصادم ہے...
ابھی تو یہ بات واضع ہے کہ ان تمام نتیجے سے پہلے یہ سب کچھ سیکھنا ہوتا تھا، لیکن ابھی میں بھی اسی بات کو دوبارہ سنجیدگی سے سمجھنے کی जरورت ہے...
میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ جو ٹیکس وصولیوں کی ہدف 374 ارب روپے تھی اور اب تک ان میں سے تقریباً 124 ارب روپے چلے گئے تو یہ بہتGood hai… لیکن اس پر دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ ہوا اور پوری ہدف کو حاصل کر لیتا ہے… 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلنا تو آسان ہی نہیں… یہ تو ایک چیلنج بنتا ہے...
میں سمجھتا ہوں کہ جو 374 ارب روپے تک کی ہدف تھی وہ 124 ارب روپے گزر چکی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخری ورکنگ ڈے تک صرف 7.15 کھرب پہنچ سکا ہے بلکہ یہ کہ آخری ورکنگ ڈے تک ہی ان ٹیکس وصولیوں کو بڑھا کر 374 ارب روپے پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن اس میں میرا یہ سوال ہے کہ ایسی کارکردگی کس لئے بڑی پیمانے پر نہیں کی جا رہی؟
ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ کرنے کی بات تھی تو یہ بہت ہی جھگڑا بن گیا ہے... مگر اس کے بعد کیسے پوچھن گے؟
پاکستان کو ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا چاہیے تو لگتا ہے کیوں نہیں... لیکن ایسا کرنے کا طریقہ بھی اچھا نہیں ہوسکتا... مگر یہ تھوڑا سا معذور ہوتا ہے!
مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں میں کمی کی بات ہے تو یہ سب کچھ ناچا ہوا ہوسکتا ہے... لیکن اسے زیادہ دیکھنے کے لئے چاہیے کہ ٹیکس وصولیوں میں 12 فیصد اضافہ ہے یا نہیں...
اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ فریڈرک مارکس کی طرح میں ٹیکس وصولیوں پر بھی دھیان kendrit کرنا چاہیے، ہمارے ملک کے لیے یہ اچھا نتیجہ ہوگا
نیشنل بنک کی وہ کارکرستیں جو انہیں کرتے رہے تو 100% ٹائٹلز ہیں، انہیں نہیں بھولنا چاہئیے
وزیراعظم ایف بی آر کی کارکردگی کے بارے میں وہی بات ہوگی جس کو انہوں نے ہمیشہ کہا ہے، اس لئے وہ ہمیں بھولنا چاہئیں نہیں!
دوسری جانب، ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کی بات کچھ حقیقی ہوگئی ہے، ایسا کیا جاسکتا ہے کہ آئینی ٹیکس اختیارات سے متصادم ہون۔ پھر بھی یہ بات تو ہمیشہ جاننا چاہئیں کہ ان کا جو کچھ کہتا ہے وہ سب کچھ ہوتا ہے!
بھائی، یہ بات حقیقت میں نئی نہیں ہے کہ ملک بھر میں معاشی مہینوں کی بدولت ٹیکس وصولیوں میں کمی دیکھنے کو ملا رہا ہے۔ یہ تو پچیس کروڈ روپہ تک کم پہنچ سکا، جبکہ کل آئندہ مالی سال کی ٹारگٹ 374 ارب ہو رہی ہے؟ اگر ایسا نہ ہوت تو یہ کم از کم 124 ارب پہنچ سکا ہو گیا، کھونے کی طرح ہی چلی گئی! اس وقت کی ٹیکس وصولیوں میں کمی کی وجہ سے جولائی کے تاجنوری کے دوران ہدف کو کم کر دیا گیا، لیکن یہ بات کوئی نئی نہیں، جب بھی پچاس کرोड تک پہنچنا ہوتا تو آپ لوگ اپنی سرگرمیوں میں دل چسپی لیتے ہیں، کھل کر اس بات کو مافEKر کھڑے رہتے ہیں کہ میرے ورسٹ نے بھی تین ارب پہنچایا ہے!
کیا یہ دھنڈوا کی پہلی ہے؟ پچاس سالوں سے ہی ٹیکس وصولیوں کا یہ ہدف کیا؟ ابھی یہ 374 ارب روپے تک پہنچ گیا، لیکن فوری میچ نہیں، چار سو پانچ ارب روپے تک پہنچنا کیوں نہیں؟ اور یہ 12 فیصد اضافہ کیا، نہ تو یہ گہرائی سے لگ رہا ہے، نہ ہی کمال وصولی کی طرف مائل ہے... مزید چار بجٹ میں تنگ کرنا؟ اور وزیر اعظم کے کارکردگی پر جوش ، اس سے پہلے تو یہ کچھ نہیں تھا؟ ڈاکٹر اکرم الحق کی تنقید بے شکر ہے، لیکن ابھی یہ کبھی یہ کیا؟
آج بھی اس بات پر توجہ نہیں دی جاسکتا کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ سے جیسے کہ چالیس سے پچیس فیصد تک اضافہ کرنا، یہ کس نے ہاتھ پر لگایا اور اس پر توسیع کی گئی؟
جن لوگ ٹیکس وصولیوں میں زیادہ آتے ہیں وہ تو بہت ہی جیت جاتے ہیں، لیکن ان کا ساتھ دوسرے لوگوں کو تو یہ نہیں کرنا چاہئے جو ٹیکس پر پیدل آتے ہیں اور اپنے آرمز کو پورا کرتے ہیں۔
جولائی تاجنوری میں نظرثانی ہدف کو کم کر دیا گیا تو اس کی وجہ سے یہ کام نہیں ہوا، لیکن ابھی کچھ اور کوشش کی جاسکتی ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ ہو۔
جس سے یہ کام ہوا اس لئے کہ پہلے بھی زیادہ آرائی اور توجہ دی گئی تو کچھ نتیجہ نہیں نکلا، اب تو ایسی بات یقینی ہو گئی ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوتا رہے گی۔
جن لوگوں نے ٹیکس مہیا کیا تو انھیں آج بھی تازہ سے تازہ سے چالیس فیصد کی عطیہ دی جائے گی، لیکن اس پر کچھ توجہ نہیں دی جاسکتا۔
اس وقت کے معاشی صورتحال میں ٹیکس وصولیوں کی بے 頂ی ہے، پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے یہ کچھ نئی تاکید ہے کہ پورے ملک میں ٹیکس وصولیوں کو زیادہ دبایا جائے، اس سے بھی یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ انٹریٹی ڈے تک تو پہنچ گیا ہے، لیکن ملازمتوں کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے؟
یہ بھی ہو گیا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں کی گئی اضافہ کی تقریباً 12 فیصد یہ بھی سچ ہے کہ نیشنل بینک کی کسٹمز کلیکشن برانچز کو ٹیکس وصولیوں میں مزید اضافہ کرنے پر اجازت دی گئی ہے ،لیکن ابھی تک کچھ نتائج نہیں ملے ہیں۔
جبکہ ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے عدالتی فیصلے پر تنقید کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی کارکردگی بہتر بنانے والا آرینہ نہیں لگ رہا ہے
مالی سال 2025-26 میں ٹیکس وصولیوں کی تعداد بہت کم ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ 374 ارب روپے کی ہدف کو پورا کرنا مشکل ہوگا؟ لاکھوں لوگوں کی پیسہ کی چھڑکی اس پر توجہ دینا چاہیے اور ٹیکس وصولیوں میں کمی سے نجات کے لیے چالاوٹ کو کم کرتے ہوئے یہ کام کرنا ضروری ہوگا!
ہلچل پڑ رہی ہے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اور ان کے کارروائیوں پر، کیونکہ نئے ماہرین کا مشن ہیں ان ساروں کو دیکھنا جو گھریلو میوزیمز میں ہیں اور وہ سب انٹیلیجنس میں اپنی چھپے ہوئے کام کا حقدار نہیں ہیں، لیکن یہ رائے ہے کہ ان سے کچھ فائدہ بھی اٹھاسکتا ہے ۔
یہ بھی تو کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا اسے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرکے ساتھ ہی انڈیکسنگ پر کام کیا جا سکتا ہے؟ پہلی بات یہ ہے کہ ہم نے ٹیکس وصولیوں کی اہداف کو پہنچانے میں کچھ موم بھر دئے ہیں اور اب کچھ اضافہ کرکے ساتھ ہی انڈیکسنگ پر کام کیا جا رہا ہے؟
لگتا ہے کہ ایسا میں زیادہ ترہوڑا نہیں ہو سکتا اور جب بھی کوئی کچھ کھڑا کر رہا ہوتا ہے تو ڈرامائی پہل ہو جاتی ہے۔ یہ بھی بات ہے کہ نیشنل بینک کی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنے پر چاہتے ہیں لیکن آج تک انہوں نے بھی اس بات کو نظر انداز کیا ہے کہ وہ کیے گئے ہیں؟
اس سلسلے میں یہ کچھ اہم ہے کہ ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے کے لیے کسی نئے پلیٹ فارمز کی ضرورت ہو سکتی ہے جبکہ انڈیکسنگ پر کام بھی اچھی طرح سے لگا رہا ہے۔
اس بات کو ضرور نظر رکھنا ہو گا کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرکے ساتھ انڈیکسنگ پر کام بھی، لیکن یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس پر کیا نتیجہ ہو گا؟