Test Law Changed | Express News

ٹیکنوگرو

Well-known member
ایم سی سی نے ٹیسٹ کرکٹ کے دن کے اختتام سے متعلق اہم قانون میں تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جس کے بعد اسے ’لاز آف کرکٹ‘ کے نئے ایڈیشن کے مطابق وکٹ گرنے کے بعد دن ختم نہیں ہوگا بلکہ نیا بیٹر آکر اسٹرائیک سنبھالے گا۔

آپنے قانون میں تبدیلی کرنے کی بنیاد اور بیٹنگ اور بولنگ سائیڈ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، اس قانون میں ایم سی سی نے بتایا ہے کہ اگر دن کے اختتامی اوور میں وکٹ گرے تو دن ختم نہیں ہوگا، اور بھلائی کارکردگی کا پتہ چلتے ہوئے ایم سی سی نے بتایا ہے کہ اگر فیلڈنگ سائڈ آخری اوور میں وکٹ لیتی ہے تو بیٹنگ سائیڈ اپنا بیٹر وکٹ پر نہیں بھیجتی، یہ غیر منصفانہ عمل محسوس ہوتا ہے۔

امپائر اور اسٹمپ کی ذمہ داری میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں، اب وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی گئی ہے، جب تک کہ کنڈیشنز بولنگ سائیڈ کے حق میں نہیں ہو جاتا، اور اس وقت تو آؤٹ کو چھوڑ کر اگلے دن کروانا ایک غیر منصفانہ عمل محسوس ہوتا ہے۔

اس سے علاوہ ایم سی سی نے ہٹ وکٹ اور اوور تھرو سمیت قانون میں 73 تبدیلیاں کی ہیں، جن کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
 
اس نئے قانون کا یہ کہنا کہ دن ختم نہیں ہوتا تو وہ صرف ایک بھانجہ پھانجہ ہیں. یہ کہنا کہ اگر فیلڈنگ سائڈ آخری اوور میں وکٹ لیتی ہے تو بیٹنگ سائیڈ اپنا بیٹر وکٹ پر نہیں بھیجتی تو وہ ماحولیات پر کیسے ٹھیک چال نہیں آتے? اور اب امپائر کو کسی بھی سائڈ پر فیصلے کرنے کی آزادی مل گئی ہے تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ وہ صرف اپنی ناک سے فیصلے لیتے رہتے ہیں. یہ قانون صرف ایک معاملہ سمجھنے کے بجائے، سب کچھ کو محسوس کرنے کی طرف لے جاتا ہے... :S
 
🤯 مضمون کے مطابق ایم سی سی نے ٹیسٹ کرکٹ کے دن میں تبدیلیاں کی ہیں، جس کے بعد دن ختم نہیں ہوگا بلکہ نیا بیٹر آکر اسٹرائیک سنبھالے گا 🤝 یہ تبدیلیاں میرے خیال میں بہت اچھی ہیں، کھلاڑیاں اپنے فیلڈنگ سائیڈ کو کامیابی دیتے ہوئے بھی ٹیم کی وکٹ لینے میں مدد دے سکتی ہیں 💪
 
ایسا نہیں چاہیے کہ دن ختم ہوجائے جب وکٹ گرجائے ، یہ ایک غیر منصفانہ کارروائی ہوگی , بھلائی کارکردگی کی پیداوار سے پہلے اس کا خاتمہ نہیں چاہیے , اس میں سے کسی ایک کی پیداوار کو دیکھتے ہوئے دن کا خاتمہ کرنا غیر نافذ ہوگا .
 
بیٹنگ اور بولنگ دونوں sides کو ایک دوسرے سے توازن برقرار رکھنا ہونا چاہیے، مگر یہ قانون نہیں کہ جیسے جیسے وکٹ گرتی ہے اس میں توازن بھی برقرار رہتا ہو۔

اس کی وجہ ایسے لائے جانے والے قانون کو نہیں، جیسا کہ وکٹ گرنے کے بعد دن ختم نہیں ہوتا بلکہ نیا بیٹر آ کر اسٹرائیک سنبھالتا ہے۔

اس سے کروئے جانے والی مہنات نازک نظر آتی ہے، خاص طور پر وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی گئی ہے جو غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے۔
 
یہ ریکارڈ کیا گیا ہے کہ مچھلی کو چھوڑ کر اگلے دن کروانے کی بات بہت ناکام ہے، اسے ایک ڈیرا میچ کے طور پر دیکھنا چاہیے نہیں؟ اب وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی گئی ہے، یہ بھی ایک غیر منصفانہ عمل محسوس ہوتا ہے۔
 
ایسا تو کچھ چیلنجنگ ہے اس قانون میں تبدیلیاں. وکٹ گرنے کے بعد دن ختم نہیں ہونا، یہ معقول ہوگا بلکہ نیا بیٹر آکر اسٹرائیک سنبھالنا بہت چیلنجنگ اور دلچسپ ہوگا. توازن برقرار رکھنا ایم سی سی کا مقصد ہے، لہٰذا یہ قانون معقول ہے. آپ سے اس بات پر بات چیت کرنی چاہتا ہوں کہ یہ قانون اسٹرائیک کی قیادت کرنے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟
 
اس نئے قانون سے بھارتی کرکٹ کو ایک نئی پلیٹ فارم مل گئی ہے، توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نیا بیٹر آکر اسٹرییک سنبھالنے کی اجازت دی گئی ہے، یہ دیکھنا اچھا ہوگا کہ اس قانون کو کس طرح لागوں گے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم سی سی نے بھی ایک وقت کی کنڈیشنز کا خاتمہ کیا ہے جو بہت زیادہ طویل ہو گئے ہیں، اب وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی گئی ہے، اور آؤٹ کو چھوڑ کر اگلے دن کروانا ایک غیر منصفانہ عمل محسوس ہوتا ہے۔

اس قانون میں مختلف تبدیلیاں کی گئی ہیں، جو کرکٹ کھیل کو بہتر بنائے گی، اور اب وکٹ لینے والی سائڈ کو ان کے ماحول کے مطابق فیصلے کرنے کی اجازت دی گئی ہے، یہ توازن برقرار رکھنے کا ایک اچھا قدم ہے۔

*ڈیٹا دپارٹمنٹ سے*

اس قانون کو لاتھو گے
> وکٹ گرنے کے بعد دن ختم نہیں ہوگا بلکہ نیا بیٹر آکر اسٹرائیک سنبھالے گا
> اچھی بھائی کارکردگی کی وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی گئی ہے
> کنڈیشنز بولing side کے حق میں نہیں ہوتا تو آؤٹ کو چھوڑ کر اگلے دن کروانا
> ایم سی سی نے 73 تبدیلیاں کی ہیں
> قانون 1 اکتوبر 2026 سے لگائے جائیں گے
 
ایسا تو بہت مایوس کن بھی دکھائی دیتا ہے، پہلے ایسے دن ختم نہیں ہوتا تھا، اب وکٹ گرنے کے بعد بھی نئے بیٹر کو سنبھالنا چاہیے، ایسا تو بہت سست ناکام ہونے کے لئے بنایا گیا ہے، اور اب امپائر کو بھی ایسا نہ کرنا پڑتا ہے کہ وکٹ لی جانے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لینے کی اجازت دی جائے، یاروں اس کا معانہ نہیں ہوگا!
 
میں سوچتا ہے کے ایسے وقت جب آپ کو کوئی کام نہیں ملتا تو اس پر چیلنج لگاینا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ م سی سی نے ایسے قانون میں تبدیلیاں کی ہیں جس سے فیلڈنگ اور بولنگ دونوں سائڈز کو نیا مौकہ ملتا ہے، آپ کے دماغ کو اس پر چیلنج لگاینا چاہیے کہ اگر آپ اپنے کام کی کوشش کریں تو آپ کو اچھا نتیجہ مل جاتا ہے
 
اکیلے ٹیسٹ کرکٹ کے دن کو ختم نہیں کرنا بلکہ نیا بیٹر آکر اسٹرائیک سنبھالنا ایک اچھا قدم ہے، لیکن یہ بھی سوچنی چاہئے کہ اگر دن ختم نہیں ہوتا تو وکٹ لینے والی سائڈ کو پہلے آننا چاہئے، ایسا نہیں کہ فیلڈنگ سائڈ کو آننا اور بھیجنا ہوتا تو وکٹ لینے والی سائڈ کو محض وکٹ پر بھیجانا چاہئے، اس میں غیر منصفانہ کچھ محسوس ہوتا ہے۔
 
یہ تو ایک بڑا قدم آگے بڑھنا ہے! میں اپنی ٹیم کو دیکھتے ہوئے خوش تھا کہ وہ نئے قانون کی پیروی کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

ایسی ایک سائڈ بھی ہے جس میں کچھ لوگ اس قانون کو دیکھتے ہوئے اپنی صلاحیت کو کم رکھنے لگے ہیں۔ اس لیے ایم سی سی نے وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی ہے، تو یہ تو ایک بہتر قدم ہے۔

لیکن فیلڈنگ سائڈ میں بھی کچھ لوگ انہیں اپنی ترقی کے لئے استعمال نہیں کرپاتے۔ ایک بہتر کوں کے لئے ہٹ وکٹ اور اوور تھرو کی پیروی کی جائے، تو یہ تو اس سائڈ کو بھی ان کے لئے ایک بہتر ماحول بنائے گا۔
 
اس نئے قانون کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایم سی سی کو اپنے قوانین میں توازن برقرار رکھنا ہوگا اور نئے قانون سے وکٹ لانے والی پہلی ٹیم کی بھلائی کارکردگی پر غور کیا جائے گا، لیکن ابھی تک مجھے یہ بات کوئی طور پر مستحکم نہیں دیکھی گئی، ہو سکتا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کے دن میں بھی ایسا ہوا کروگا اور مجھے یہ دیکھنا غم کن ہوگا۔
 
ایسا لگتا ہے کہ ایم سی سی نے قانون میں بہت ساری تبدیلیاں کی ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ کو Fresh اور Naya banayegi. Ab batting aur bowling dono sides ko ek saath balance karna padega, jahan wicket gare to match ko finish nahi karna padega, balki ek naya batter aakar batting side ko strike sunbhalna padega.

Ek baar phir yeh ek fair game banegi. Aur impaari aur stamp ki responsibility mein bhi badlav aaye hain, jahan wicket gare team ko fielding side ke baad aane par wicket le sakte hain, aur jab tak kondeeshanz bowling side ka nahi ho jata. Yeh to ek achha badlaav hai.
 
اس نئے قانون میں ایسا لگتا ہے جیسے ایم سی سی نے سب سے بھی اچھی طرح سمجھا ہے کہ وکٹ گرنے کے بعد دن ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ نیا بیٹر آکر اسٹرائیک سنبھالنا چاہیے، یہ تبدیلی ایک اچھی بات ہے کیوں کہ وکٹ لینے والی سائڈ کو فیلڈنگ سائڈ کے بعد آنے پر وکٹ لی جانے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ایم سی سی کی جانب سے غیر منصفانہ عمل محسوس ہونے والا معاملہ دور ہوگا۔ اور اب اسٹمپ کی ذمہ داری میں بھی تبدیلی آئی ہے، جس کے باعث ہی ایک اچھا محنت مند ٹیسٹ کرکٹ کی ٹیم بن سکتا ہے۔
 
اس نئی law ko kya tareeke se samajhna chahiye? mujhe lagta hai ki yeh koi problem nahi hai, bas ek fair play ka concept hai...

aur agar woh day finish nahi ho raha toh main sochta hoon ki bhi ye to cheet hai cricket ke liye. woh batting team ko ek naya chance diya gaya hai, bas woh apne batmen ko fielding side ko bhi koi warning de sakta hai.

lakin mujhe lagta hai ki umpire aur stamper dono ka role badla gaya hai... ab to woh kuchh problems dikhana shuru kar rahe hain. agar kondezhns boling side ke liye nahi hota toh woh out ko chhodna to sach meh khushi ho sakta hai...

aur maine bhi suna tha ki yeh new law ab october 2026 se lagoo huwa hai... mujhe lagta hai ki ye kuchh tareeka ke liye ho sakta hai, bas cricket ka fair play dikhana chahiye.
 
اکتوبر 2026 کے بعد کرکٹ کھیلنے والے تمام ٹیموں کو یہاں تک کوشش کرنی چاہیے کہ ان کی فیلڈنگ سائڈ اور بیٹنگ سائیڈ کو ایک دوسرے کے ساتھ لگاؤ سے باہر رکھ دیا جائے تاکہ وکٹ میں پھنس کر ان دونوں سائڈز کے درمیان نائٹ وکٹ کی مہم ختم ہوجائے, مگر اب اس کی کوئی بھی hopes nahi rahi.
 
تمام ٹیسٹ کرکٹ ایونٹس پر نیا قانون لگایا گیا ہے جس میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں کی دوسرے کے برابر قرار دیا گیا ہے، یہ بہت نئی بات ہے، کچھ لوگ اس کو ایک بڑا ترقیاتی کदम قرار دیں گے جو کرکٹ کی دوسری سائڈ کے لیے زیادہ فائدہ مند بن گیا ہو گا…
 
ایسا کیا ہو گیا? ایک روزہ کرکٹ میں دن ختم نہیں ہونے دے گا؟ پہلے تو یہ قانون آتا تو کبھی بھی کچھ آسایسی ہوا لگ رہی تھی، اب اس میں تبدیلیاں کی جانے سے ایک نئی problem come up kiya hai 🤔. اس طرح کے قانون کو بھی بنانے والے لوگوں کو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ آسائی کرکٹ کی side پر ایک ایسی rule بناتے ہیں جو کھلاڑیاں نہیں چاہتیں اور انہیں مشکل میں ڈال رہی ہے.

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ایسا قانون بناتے ہیں جو فیلڈنگ side کو ہلکی پٹی میں دیتے ہیں اور انہیں ٹیسٹ کرکٹ کا معاملہ بھی لگنا پسند نہیں آتا۔ اس طرح کے قانون سے وہ ہلکی پٹی پر فیلڈنگ side کو زیادہ ملازم کرتے ہیں اور اس سے کرکٹ کا معاملہ بھی ناکام ہو جاتا ہے.

اس لئے ایم سی سی کو انہی law changes کی review करनी چاہئے جو کھلاڑیاں اور فیلڈنگ side دونوں کو بے نقص وہی rules banayein جن پر کھلاڑی اپنی side ki benefit پاتے ہیں.
 
واپس
Top