تجارتی معاہدے ، طاقت اور سیاست کی نئی زبان | Express News

ڈیجیٹل دوست

Well-known member
تجارتی معاہدوں کی نئی زبان، جسےPolitics کہا جاتا ہے، ایک طاقت ور زبان ہے جو معاشی تحفظ سے لے کر انسانی حقوق تک محدود نہیں ہوتی۔ یہ معاہدوں کو اکثر ان معاشرتی اور سیاسی تناؤ کے درمیان ایک نئی زبان میں بدل دیا جاتا ہے جو بھروپूर توجہ کے بغیر سمجھی جاتی ہے۔

ایسے معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کے لیے، لوگ اپنی جمہوریت کو ایک بڑے گھر کی طرح سمجھتے ہیں جہاں اربوں پیسے کے معاملات پر ساتھ ساتھ انسانی حقوق، ماحولیات، صحت اور انسانی حقوق کے متعلق بات چیت نہیں کی جا سکتی ہے۔

تجارتی معاہدے ایک نئی زبان ہے جس سے لوگوں کو اپنی وطن کی سرحدوں کے باوجود مل کر اپنے عوام کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ معاہدوں نے ان لوگوں کو جہل اور غم گھینٹے کے رہن سہن کی ایک ماحول بنایا ہے۔

عوامی شہری ان معاہدوں کے حوالے سے خاموشی میں گھومتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں یہ سمجھنے میں dificultta ہوتی ہے کہ ان معاہدوں سے نکلنے والا ایسا کیا فائدہ ہوگا؟

عوام کی زندگی جب تک توجہ حاصل کرے گا، اس وقت یہ معاہدے ایک ایسی زبان میں تبدیل ہوتے ہیں جس سے لوگوں کو وہ سمجھنے میں dificultta ہوتی ہے کہ ان معاہدوں کا فائدہ کیا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی وطن کی سرحدوں سے باہر پھیل کر اپنے عوام کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔

ان معاہدوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ان میں انسان کو ایک نئے گھر میں جلا دیتی ہے، جو وہ سمجھنا چاہتے ہیں۔

ان معاہدوں سے کیا فائدہ؟ یہ سوال ہمیشہ توجہ حاصل کرنے کی لگتی ہے، لیکن جواب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انسان کو وہ سمجھنا چاہتے ہیں اور اس بات کا احترام کیا جاتا ہے کہ ان معاہدوں سے نکلنے والا کیا فائدہ ہوگا؟
 
ان معاہدوں کی ایسی زبان ہی ہے جو لوگوں کو دھوکہ دی رہی ہے۔ اس نئی زبان میں لوگ اپنی زندگیوں کے ساتھ موافقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن واضح طور پر ان کی سرحدوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ معاہدے ایک ایسی زبان ہیں جو لوگوں کو ایک نئے گھر میں جلا دیتی ہے، جہاں وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ موافقت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ان معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کا سوال ہمیشہ توجہ حاصل کرنے کی لگتی ہے، لیکن اس پر انساف نہیں ہوتا۔ یہ معاہدے ایک ایسی زبان ہیں جو لوگوں کو دھوکہ دی رہی ہے اور ان کی زندگیوں کے ساتھ موافقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن واضح طور پر ان کی سرحدوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

اس نئی زبان میں لوگ ایسا بھاگتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ موافقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کا جواب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ لوگ اپنی زندگیوں کے ساتھ موافقت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ان معاہدوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
 
اس معاہدے کے بارے میں لوگ بھیٹ پوسٹ کر رہے ہیں اور اس پر مختلف خیالات۔ مجھے یہ بات نہیں بتنی چاہیے کہ معاہدے سے بہت فائدہ ہوگا یا نہیں، لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ معاہدوں کی جانب سے متعلق بات چیت کو زیادہ سرگرمی نہیں کی جاتی ہے اور اس لیے لوگ ان معاہدوں کے حوالے سے خاموشی میں گھومتے رہتے ہیں۔

😐
 
بھارتی شہریوں کی زندگی کو آسانی سے سمجھنا مشکل ہوتا ہے جب ان معاہدوں کے حوالے سے خاموشی میں گھومتے رہتے ہیں... 🤔

لگتا ہے ان معاہدوں سے نکلنے والا ایک اور بھی بڑا فائدہ ہوگا کہ وہ لوگ اچھی طرح سمجھنا چاہتے ہیں کہ ان معاہدوں سے نکلنے کی ضرورت ہے یا نہیں... 😐

جن لوگوں کو ان معاہدوں نے جھیل دیا ہو، وہ ہمیں ایک اور کیا سمجھنا چاہتے ہیں؟ 🤷‍♂️
 
یہ بھی توجہ دیتے ہیں کہ جب ہم یہ معاہدوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں ایسا لگتا ہے جیسے ہمیں اپنی جمہوریت کے ساتھ ایک اچھی گھر کی طرح بات چیت نہیں کرنا پڑتی ہے

اس لئے ہم نے جو معاہدوں کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ ایسے معاشرتی اور سیاسی تناؤ سے متعلق ہیں جسے ہم سمجھتے ہیں اور اس لئے ہمیں یقینی بنانا پڑتا ہے کہ ان معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کیا ہوگا؟

اس میں ایک بھی شہری کو جو لوگوں کی زندگی میں ہمیشہ ہر وقت توجہ حاصل کرے گا اس پر بھی توجہ دینا پڑے گی؟

عوام کے لیے یہ معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کیا ہوگا؟
 
بصرہ ! یہ معاہدے جو politics کہتے ہیں وہ ایک طاقتور زبان ہیں جس سے معاشی تحفظ سے لے کر انسانی حقوق تک محدود نہیں ہوتے۔ یہ معاہدوں کو اکثر ان معاشرتی اور سیاسی تناؤ کے درمیان ایک نئی زبان میں بدل دیا جاتا ہے جو بھروپور توجہ کے بغیر سمجھی جاتی ہے۔

اس کی واضح بات یہ ہے کہ یہ معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کے لیے لوگ اپنی جمہوریت کو ایک بڑے گھر کی طرح سمجھتے ہیں جہاں اربوں پیسے کے معاملات پر ساتھ ساتھ انسانی حقوق، ماحولیات، صحت اور انسانی حقوق کے متعلق بات چیت نہیں کی جا سکتی ہے۔

اس لیے یہ معاہدے ایک نئی زبان ہے جس سے لوگوں کو اپنی وطن کی سرحدوں کے باوجود مل کر اپنے عوام کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ معاہدے ان لوگوں کو جہل اور غم گھینٹے کے رہن سہن کی ایک ماحول بناتے ہیں۔

عوامی شہری ان معاہدوں کے حوالے سے خاموشی میں گھومتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں یہ سمجھنے میں dificultta ہوتی ہے کہ ان معاہدوں سے نکلنے والا ایسا کیا فائدہ ہوگا؟

عوام کی زندگی جب تک توجہ حاصل کرے گا اس وقت یہ معاہدے ایک ایسی زبان میں تبدیل ہوتے ہیں جس سے لوگوں کو وہ سمجھنے میں dificultta ہوتی ہے کہ ان معاہدوں کا فائدہ کیا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی وطن کی سرحدوں سے باہر پھیل کر اپنے عوام کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔ 🤔

اس سے ایک مزید بات یہ ہے کہ ان معاہدوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان میں انسان کو ایک نئے گھر میں جلا دیتی ہے جو وہ سمجھنا چاہتے ہیں۔

اس سوال پر توجہ دیتے رہتے ہیں کہ ان معاہدوں سے نکلنے والا کیا فائدہ ہوگا؟ یہ سوال ہمیشہ توجہ حاصل کرنے کی لگتی ہے لیکن جواب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انسان کو وہ سمجھنا چاہتے ہیں اور اس بات کا احترام کیا جاتا ہے کہ ان معاہدوں سے نکلنے والا کیا فائدہ ہوگا؟ 🤔
 
عمر کی دوری میں، جب میں بچا تھا، میری والداتھ کی ایک اہم بات میں ہمیں ہمت نہیں ملتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ معاہدوں سے ہماری جمہوریت کو ایک بڑے گھر کی طرح سمجھنا پڑتا ہے، جہاں انسانی حقوق، ماحولیات اور صحت کے متعلق بات چیت نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہ آج بھی اکثر دیکھا جاتا ہے، جب لوگ اپنی وطن کی سرحدوں سے باہر پھیل کر اپنے عوام کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔ 😔
 
تجارتی معاہدوں کی نئی زبان Politics ایک ایسی بات ہے جو توجہ کے بغیر سمجھی جاتی ہے، ان میں بہت سارے لوگ اپنی جمہوریت کو ایک گھر کی طرح دیکھتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ ان معاہدوں سے نکلنے والے فائدے کیا ہوگا؟

جب لوگ اپنی جمہوریت کو ایک گھر کی طرح سمجھتے ہیں تو وہ واضح طور پر ان معاشرتی اور سیاسی تناؤ کے درمیان ایک نئی زبان میں بدل جاتے ہیں جو بہت سارے لوگ سمجھنے میں تاخط ہوتی ہے۔

جب یہ معاہدے ایک نئی زبان میں تبدیل ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو وہ سمجھنے میں مشکل دیتی ہے کہ ان معاہدوں سے نکلنے والا فائدہ کیا ہوگا؟ اس لیے لوگ اپنی وطن کی سرحدوں سے باہر پھیل کر اپنے عوام کے لیے کام کرتے رہتے ہیں اور اس میں انھیں ایک نئا گھر ملاتا ہے جو وہ سمجھنا چاہتے ہیں۔
 
واپس
Top