مصر کے عظیم اہراموں کی تعمیر میں کیا علم ہے؟
مصر کے عظیم اہرام، جو صدیوں سے انسانوں کو حیرت میں ڈالتے رہے ہیں، اس پر ماہرین کے لیے ہاں بھی ایک چیلنج موجود تھا۔ اس پر ایک نئی تحقیق نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ انہوں نے بیرونی لمبی ڈھلوانوں کا سہارا لیا نہیں، بلکہ ان کی تعمیر میں اندرونی ڈھانچے پر اتر کر کام کیا۔
تحقیق کے مطابق عظیم اہرام کی تعمیر میں ایک مکینکل نظام شامل تھا جو وزن کو متوازن کرنے کے طریقوں، مضبوط رسیاؤں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے آلات استعمال کرتا تھا۔ اس نظام نے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کرنے میں مدد کی اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ انتظام اندر ہی بند کردیا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عظیم اہرام کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوانوں کی طرح استعمال کیا گیا تھا۔ ان راسوں پر نصب وزن کے توازن پر چلنے والے نظام سے اتنی قوت پیدا ہوتی تھی کہ کوئی بھی ٹن وزنی پتھر انسانی محنت کے ساتھ اوپر پہنچا جاسکتا تھا، حتیٰ کہ ساٹھ ٹن تک کے بلاکس بھی اسی طریقے سے منتقل کیے جاتے تھے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہرم کے اندر ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جو پہلے حفاظتی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا اہم حصہ تھا۔ اس کمرے کے فرش پر پائی جانے والی خراشیں اور بے قاعدگیاں اس بات کی علامت ہیں کہ وہاں ایک عمودی ستون موجود تھا، جسے بعد ازاں تعمیر کے اختتام پر بند کردیا گیا۔
اس تحقیق نے مصر کے عظیم اہراموں کی تعمیر کے حوالے سے کوئی نئا خیال پیش کر دیا ہے۔ یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اس میں اندرونی ڈھلوانوں کی تعمیر سے کام نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کے استعمال پر عمل کیا گیا تھا۔
میری ذہن میں ایسا تھا کہ اگر وہ ڈھلوانوں کو اس طرح استعمال کیئے گئے تو یہ کیسے سंभव تھا؟ پھر بھی تحقیق نے بتایا ہے کہ وہ اس میں کام کر رہے تھے۔
اسے دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ اس طرح کی تحقیقات سے ہماری جानकاری کا پہلو-پہلو کیا جا سکتا ہے اور نئی باتوں کو پہچانا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں لکھا گیا ہے کہ عظیم اہرام کی تعمیر میں ایک مکینکل نظام شامل تھا جس نے وزن کو متوازن کرنے کے طریقوں، مضبوط رسیاؤں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے آلات استعمال کرتا تھا۔ اس نظام نے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کرنے میں مدد کی اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ انتظام اندر ہی بند کردیا گیا۔
میری نظر سے اس نئے خیال کو لینا مشکل تھا، لیکن تحقیقات سے نجات مل گئی اور یہ بات سامنے आई کہ عظیم اہراموں کی تعمیر میں اندرونی ڈھلوانوں کے استعمال سے کام کیا گیا تھا۔
اس تحقیق نے ان راسوں کو بھی بتایا جو دراصل ڈھلوانوں کی طرح استعمال کیے گئے تھے اور یہ بات بھی سامنے आई کہ اس نظام سے اتنی قوت پیدا ہوتی تھی کہ کوئی بھی ٹن وزنی پتھر انسانی محنت کے ساتھ اوپر پہنچا جاسکتا تھا۔
عظیم اہراموں کی تعمیر میں کیا علم ہے اس بات کو یقیناً سمجھنا مشکل ہے، لیکن ماہرین نے ایک نئی تحقیق سے یہ تصور پیش کیا ہے کہ انہوں نے اندرونی ڈھانچے پر اتر کر کام کیا تھا۔ اس سے پتھر کو اوپر منتقل کرنے میں مدد ملتی۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات بھی قابل سمجھنی ہو گی کہ ان اہراموں کی تعمیر میں اتنا علم تھا جو ابھی تک تصور کیا جاتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ وہ کتنا مشکل سے بنائے گئے، بلکہ اس کو کیوں اور کیسے بنایا گیا؟
عظیم اہراموں کی تعمیر میں اس بات کو سمجھنا بہت اچھی ہے کہ ان کے اندرونی ڈھانچے پر کام کیا گیا تھا، نہیں کہ بیرونی ڈھلوانوں پر۔ یہ سچائی صرف اس لئے آتی ہے کہ ماہرین نے اپنے تحقیقات کو مزید جڑا ہوا ہے۔
اس نظام نے بھاری پتھروں کو موسمی طور پر اوپر منتقل کرنے میں مدد کی اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ انتظام اندر ہی بند کردیا گیا۔ اس بات کو یقینی بنانا بھی اچھا ہوگا کہ ان ڈھانچوں کی تعمیر میں مادیات کی جانب سے کوئی دوسری مدد نہیں لی گئی تھی، خاص طور پر اس بات کو سمجھنا کہ ان ڈھانچوں کی تعمیر ایک مکینکل نظام سے ہوئی تھی۔
مصر کے عظیم اہراموں کی تعمیر میں کئی چیلنجز تھے لیکن انہوں نے بھی اپنے آپ کو ایک ماہر نظام کے طور پر ظاہر کیا ہے، جو وزن کو متوازن کرنے اور بھاری پتھروں کو اوپر منتقل کرنے میں مدد کرتا تھا اس نظام نے انہیں ایک عمودی ستون سے بھرنا۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ ان اہراموں کی تعمیر میں لاکھوں انسانوں نے اپنی عذریت اور دھارم کا بدلا کر ایک معزز کام کو مکمل کیا ہوگا۔
اس تحقیق سے عظیم اہرام کی تعمیر کے لیے جاننے لگ رہے ہیں کہ اسے اندرونی ڈھلوانوں پر اتر کر کام کیا گیا تھا، جو اس وقت تک نہیں چکا تھا کہ ماہرین نے اس کی تصدیق کی ہو۔ یہ سچا ہے کہ انہوں نے ایک مکینکل نظام استعمال کیا جس نےWeight کو متوازن کرنے میں مدد کی اور اس طرح بھاری پتھروں کو اوپر منتقل کیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی اچھا لگ رہی ہے کہ اندرونی راسوں کی طرح اس پر بھی وزن کا توازن استعمال کیا گیا تھا، جو اس وقت تک نہیں چکا تھا کہ یہ بات یقینی بن گئی ہو۔
تجربات سے یہ بات بھی پتہ چلا ہے کہ ہرم کے اندر ایک گرینائٹ کمرہ، جو حفاظتی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، اس تعمیراتی نظام کا اہم حصہ ہی تھا، یہ تو واضح ہو چکا ہے!
ایسا تو بتاتا ہے مصر کے اہراموں کی تعمیر میں کیسے انصاف ہوا، لیکن یہ بات ہی نئی ہے۔ میتھے دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں بیرونی لمبی ڈھلوانوں کی بجائے اندرونی ڈھانچے پر کام کرنا بہت اچھا تھا، ابھی تو اس نے وزن کو متوازن کرنے کے طریقوں اور مضبوط رسیاؤں کا ذریعہ دکھایا ہے؟
یہ تو اچھا ہے کہ مصر کے عظیم اہرام کی سیر کو ایک نیا منظر پیش کیا گیا ہے، لیکن یہ بات بھی تھوری ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے اس کام کو مکمل کیا؟ لگتا ہے کہ انہوں نے کسی بھی بات پر جھوٹا دیکھنے کے لیے ایک نئی تحقیق کی ضرورت نہیں تھی، جس میں اس پرانے سے نواً جدید کی بات کی جا سکتی ہے۔ اور یہ بھی سوچنے کا وقت ہے کہ ان لوگوں نے ہاں کیا کامیاب کیا؟
اس کے باوجود ہم یہ نہیں کہ سچائی کے لیے کام کرتے ہیں
مصر کی عظیم اہراموں کو بنانے والے لوگ اس طرح کے چیلنجس سے لڑتے رہے تھے، انھوں نے بہت سی difficultiyon ka samna kiya tha, لہذا یہ research ki wajah se bahut interesting hai
مکینکل نظام ka upyog karna ek aisa strategy tha jo unko weight ko balance karne mein madad karti thi, yeh system weight ko gradually upar transfer karta tha, jisse unhein andar hi bind kar diya ja sakta tha
وہاں کھدائی ki gayi information se pata chalta hai ki internal ramps ki tarah hi external ones ka bhi istemal kiya gaya tha, yeh system ko achi tarah se balance karta tha jisse 80 ton tak ke blocks ko bhi easy se upar le ja sakta tha
اس research mein ek aur interesting fact bhi aaya hai, jo ki herm ka internal chamber ka mention kiya gaya hai, jismein ek small granite room tha jo safety purposes ke liye banaya gaya tha, lakin usmein kuchh bhi wrong ho gaye tere, jaise quility problems
عظیم اہراموں کی تعمیر میں بھی ہماری پوری دنیا کو حیرت میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ وہاں کے ماہرین نے اندرونی ڈھانچے پر کام کرنا شروع کیا تھا!
تحقیق کے مطابق 100 ٹن سے بھی زیادہ وزن والے پتھروں کو اٹھانا ہمیشہ یہ چیلنج رہتا ہے، لیکن یہاں انہوں نے اس کا حل یہی طریقہ ساتھ لائے!
ہرم کے اندر ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ بھی یہیں شامل تھا جو، اچھی طرح سے منصوبہ بند ہوا! اس کے فرش پر خراشیں اور بے قاعدگیاں تو نہیں لگتی، لیکن اگر دیکھتے ہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے!
جب کہ جب ہمیں معصوم اور صاف پتھروں کی نئی تحقیقات سے ملا کرتا ہے، تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ عظیم اہراموں کی تعمیر میں بھی ایک حیرت انگیز پہلو تھا!
مگر یہ بات کچھ دیر سے معلوم ہوئی، حالانکہ ماہرین نے اس پر کیا کام کیا تھا? یہی بات ڈھونڈنا مشکل ہے!
عظیم اہراموں کو بنانے والی مصری فنکارانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے میں بھی گمان کرتا تھا کہ انہوں نے اس پر اپنی زندگی اور لگن ڈالی ہوئی ہے. اب یہ تصور آگے بڑھتا ہے کہ وہ انہوں نے اندرونی ڈھانچوں پر اتر کر کام کیا، جس سے شادید اہرام کو پورا بنایا. یہ بات بھی interessing ہے کہ وہ انڈور لفت پرٹیٹس کی استعمال کرتے تھے ، جو ابھی تو ٹیکنیالوجی میں ایک نئی پوزیشن رکھتی ہے.
بھی۔ یہ تحقیقی رپورٹ میں مصر کے عظیم اہراموں کی تعمیر میں اس بات کی ایک نئی تفہیم آئی ہے کہ وہاں بھی اندرونی ڈھانچے پر کام کرنا تھا نہ تو بیرونی لمبی ڈھلوانوں پر۔ یہ جاننا ان اہراموں کے بارے میں مزید گہرا سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ کی بنیاد پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان اہراموں کے تعمیراتی نظام میں ایک مکینکل نظام شامل تھا جو وزن کو متوازن کرنے کے طریقوں، مضبوط رسیاؤں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے آلات استعمال کرتا تھا۔ یہ سب بھی ایک نئی جاننے والی بات ہے جو اس پرانے نظام سے وابستہ ہوئی ہے۔
اس research ko dekhta hi mujhe lagta hai ki phir bhi koi samajh nahi a rahi hai. yeh sahi hai ki unhone outer ramps ka istemaal nahi kiya tha, lekin ye bhi sach hai ki unhone internal systems ka istemaal kiya tha. yaani, unhonein apne aap ko heavy stones ko lift karne ke liye internal ramps aur tracks banaye the. aur phir bhi koi samajh nahi aa raha.
بہت دلچسپ! اس تحقیق نے ایسی باتوں کی دریافت کی ہیں جو سے پہلے یہ جاننے میں نہیں تھے کہ عظیم اہرام کی تعمیر میں ان اندرونی ڈھانچوں کا بہت اہم کردار تھا۔ وہ توازن بنانے، وزن کو متوازن کرنے اور چھلکاں دھونے کے لیے ایسے آلات استعمال کیے گئے تھے جو ابھی بھی ہجوم درجہ میں ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ ان اندرونی راسوں کو اندر ہی استعمال کیا گیا تھا، وہ بھی ایک نئی بات ہے جسے پہلے نہیں بتایا گیا۔