ایک غیر معمولی کیس میں نیویارک کی سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی اعضاء نہ تو ازدواجی ملکیت ہیں اور نہ ہی انہیں رقم کے عوض واپس کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ایک ڈاکٹر رچرڈ بوٹیسٹا شامل ہیں جو نے اپنے گردے کو شادی کے دوران عطیہ کیا تھا اور بعد ازاں جب یہ شادی ختم ہوئی تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اس گردے کو ایک مشروط تحفہ سمجھا جا سکتا ہے جو کامیاب شادی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے طلاق کی صورت میں اسے واپس کیا جائے یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔
شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت پانچ لاکھ ڈالر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کی، لیکن عدالت نے اسے ناقابل سماعت قرار دیا اور کہا کہ انسانی اعضاء کو ازدواجی ملکیت نہیں سمجھا جا سکتا اور طلاق کی بنیاد پر ان کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس کیس میں انسانی اخلاقیات، طبی اصولوں اور ازدواجی تنازعات کے حساس پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جہاں قانون نے واضح طور پر انسانیت اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دی ہے۔ یہ کیس انسانی تعلقات اور شادی کی ایک انتہائی پیچیدہ جانچ کا مظاہر ہے جس میں قانون نے ایک واضح فیصلہ دیا ہے کہ انسان کی جان بھی نہیں ملکی ملکیت ہوتی ہے اور انسان کو صرف اپنی مادی سंपتی کے عوض جوہد کرنا پڑتا ہے، یہ فیصلہ ایسے حالات میں آئے ہے جہاں شادی ختم ہو چکی ہے اور شہر نے گردے کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کیس میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شادی کو ایسا سمجھنا مشکل ہوتا ہے جتاکے شادشا نے ایک گروہ سے دوسرہ گروہ میں اپنے گردے کو دیتا ہو، اور اب وہ لوگ اسے ان کی مرضی کے مطابق واپس چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی س्थितہ جس پر کسی نہ کسی طرح سے معاملہ کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کیس میں یہ بات صریع طور پر بتائی گئی ہے کہ گردے انسانی اعضاء ہیں اور ان کو واپس نہیں دیتا جا سکتا۔
یہاں ایک قابل ذرعہ حقیقت ہے! ایسا کیس نہیں سنا ہوا کیونکہ لوگ اپنے گردوں کو شادی کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تو واپسی کے معاملے میں اسے کیسے سمجھا جائے؟ یہ ایک ایسا مामलہ ہے جس پر کہیں سے ایک لاکھ ڈالر کا جوہد کرنا پڑتے ہیں اور دوسری جانب یہ بھی کہیں سے ایک انسان کی جان بھی ملکیت سمجھی جاسکتी ہے۔ یہ انسانی اخلاقیات پر ایک بڑا सवाल ہے، اور اس میں جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ ایک بہت ہی عاجز کن بات ہے.
یہ کیس سے یہ بات صاف آتی ہے کہ انسانی جسم کتنا اچھا بیس رکھدہ ہے؟ شادی ختم ہونے پر شہر نے گردے کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن عدالت نے بتایا کہ انسان کے جسم کو ملکیت نہیں سمجھا جا سکتا اور واپس یا پینے کے لئے کسی قیمت پر نہیں۔ یہ ایک بڑا معاملہ ہے، جب تک قانون کا اہداف انسانی اخلاقیات کو ترجیح دینا ہے تو یہ سچ ہے کہ شادی ختم ہونے پر گردے کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ بھی نہیں ہوگا، لیکن یہ بھی بات محسوس ہوتی ہے کہ یہ معاملہ کتنی اچھی طرح سے سمجھی گئے ہیں؟
یہ واضح ہے کہ قانون نے ایسے حالات میں بھی فیصلہ سنا دیا ہے جہاں انسان کی جان اور شادی کے بعد ہونے والے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ پچیس لاکھ ڈالر اس قدر کے لیے ہو سکتے ہیں؟ میرا خیال ہے نہیڰے، یہ ایک شاندار فیصلہ ہے۔ لگتا ہے کہ اس ڈاکٹر کو اپنی جان کے عوض کیا وعدہ کیا تھا؟ یہ شادی سے پہلے نہیں کہا گیا تھا، شادی اور شہرت کی ایسی دuniya میں ہمارے باپوں کو اپنے بچوں کو اس سے بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ فیصلہ ایک بڑے پیمانے پر تعلقات کو متاثر کر رہا ہے، نہ توgardے کے عوض انسان کی جان بھی ملکی ملکیت نہیں اور نہ ہی اسے رقم کے عوض واپس کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک اہم پہل ہے جو انسانی اخلاقیات اور قانون کی دیکھ بھال کرتی ہے، لہٰذا hope kiya jae gi ki یہ فیصلہ کئی مسائل کو حل کررہا ہے۔
اس کیس میں کہا گیا ہے کہ-human body ko marriage ka ownership nahi hota hai... bas apni material property ke liye joohda karni padta hai to yeh sahi hai, lekin ye bhi sochna chahiye ki agar koi log apne shareer ko gift karte hain, toh woh manzoor hota hai? tab kya ek shareer ko return karna hota hai? yeh kafi mushkil question hai... aur agle baat mein is case me shareer ki keemat peh 5 million dollar mention karni chahiye? yeh kaisi cheez hai?
اس کیس سے یہ بات صاف آتی ہے کہ مادی سंपتی کو جوہد کرنا چاہئے اور انسان کی جان کو اپنی ملکیت سمجھنا نہیں چاہیے، یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے قانون نے ایک واضح پیغام بھی دیا ہے کہ انسان کی جان ہمیں دوسروں سے ملکیت کا مطالبہ نہیں کرنی چاہئیے، مگر یہ واضح پیغام کیسے لگ رہا ہے؟