ترک چیف آف جنرل اسٹاف کی فیلڈ مارشل سے ملاقات؛ دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور ترکی میں دیرینہ تعاون کو بھرپور رूप دیا گیا ہے، جس کی بنیاد دفاعی تعاون کے فروغ پر لگائی گئی ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے ترک مسلح افواج کے ساتھ دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے عسکری روابط مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں دفاعی اور عسکری تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بیرکتار اوغلو نے پاک فوج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیے ہوئے دستوں کو قبول کیا، اور ان کی جانب سے بھی عسکری تربیت اور مشترکہ مشقوں کی منصوبے پر چالنے کی پہچان دی گئی ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس ملاقات میں پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات کو مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی قرار دیا ہے، جس سے قریبی ریلativity کی گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، اور انھوں نے دفاعی تعاون کے فروغ کے عزم سے معاف کیا ہے۔
 
تاہم، یہ واضح ہے کہ پاکستان اور ترکی کی دیرینہ تعاون کی نئی Phase کا اسٹریٹجک منصوبہ بنانے میں بھی geopolitics کا ایک گہرا راز ہے، یہ توہین پر مبنی نہیں بلکہ ایک Strategic Partnership ہے... Turkey کی side سے bharosa tha ki Pakistan se Defense cooperation ko mazboot kiya jayega, aur abhi India ke liye ek big threat hai 😏.

Turkey ne apni defense capabilities ko bhi display karke Pakistani forces ke saath cooperation ko mazboot kiya hai. Aur Pakistan ne Turkish Chief of General Staff Sultan Selcuk Birkanli ke sath Defense cooperation par focus kiya hai... toh ab India ko bharosa kya? 🤔

Lekin politics is game pe sabka khayal rakhna hota hai, Pakistani side se ek message bilkul clear tha ki Pakistan aur Turkey ki defense cooperation ka future bhi secure rakha jayega. Aur Turkish side se bhi woh samajh aaya ki Pakistan ke liye Defense cooperation aur economic ties dono hi zaroori hain... bas India pe thoda bharosa karna hai 😁
 
اس دیرینہ تعاون کو چلانا ایک جتنی بڑا کام ہے کیونکہ اس میں دوسرے ملکوں پر اور ان کے معاشروں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی 🤝
 
اس دیرینہ تعاون کی بھرپور رूप دی جانے والی بات کو منفی طور پر دیکھنا مشکل ہے ، جس میں دفاعی اور عسکری تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ توسیع کی بڑی بات ہوگئی ، لیکن یہ بھی قابل خیال ہے کہ اس سے کون سی دوسری ملکوں کو متاثر ہوگا۔

دفاع کے حوالے سے یہ بات بہت اچھی ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے تعاون کی مدد سے کون سی منصوبوں کو فروغ دیا ہوگا ، اس پر زیادہ جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
 
پاکستان اور ترکی کی دیرینہ تعاون کی بات کرنے پر دل خوشا ہوتا ہے! لگتا ہے یہ دو ملک دوسرے کو بہت بھی قریبی سمجھتے ہیں، ایسے میلوں کی سجائی پڑی ہے جب کہ میرا خیال ہے دوسرے ملک کی بات کرنے پر اچھی نہیں ہوتی تو بھی یہ تعاون ہوتا رہتا ہے۔

آج کی ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان دو ملکوں کے درمیان اچھی ریلٹی کا تعین دیا ہے، لگتا ہے یہ بھی سچ ہو گا کہ یہ دوسرے کو بہت بھی قریبی سمجھتے ہیں اور ان میں واضح تو تعاون ہوتا ہے، لیکن کیا یہ سب کچھ ہمیشہ کے لئے ہو گا؟
 
تھنک یو ٹو! ایسے کھل کر بات چیت سے پکڑنے والے پاکستان اور ترکی کی یہ ملاقات بہت خوشی کا باعث بن رہی ہے، لگتا ہے دوسرے ممالک پر بھی اس طرح کی منفردی کی تندرستی کو سوجھنا چاہئے! 🤝
 
یہ ٹوٹا ہوا ہے ، اسسٹنٹ جنرل آف پाक فوج کی جانب سے Turkish Chief Of General Staff کو گارڈ آف آنر پیش کرکے اور بعد میں انہیں قبول کیا گیا تو ہی اس دیرینہ تعاون کو مزید تيزی مل گئی ۔ ایسے سے یہ حقیقت پہچاننے کی ضرورت ہے کہ اگر دوسرے ملک کے ناقدین بھی اس معاملے میں اپنا واضح علاج پیش کرن، تو یہ تعاون بھی مزید تیز ہو گا ۔
 
پاکستان اور ترکی کی دیرینہ تعاون کی بات کرنا ہی کافی ہے، ابھی تو دونوں ممالک میں ایسی اہمیت ہے کہ دنیا بھر میں اس کا خیال رکھا جائے گا
 
ایسا لگتا ہے کہ ایسے وقت کی بات کرنے والی ہر نئی ملاقات میں ان کو دوسری جگہ سے آنا پڑتا ہے 🤦‍♂️ اس لیے یہ بات کھونے کی ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کو اپنی ترتیب میں رکھنا پڑے گا۔ اور دوسری طرف، یہ بھی ایسی بات ہے کہ جیسے پاکستان اور ترکی نے دفاعی تعاون پر ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس میں دونوں کے لیے فائدہ ہوسکتا ہے، اس سے ان کی تعلقات اچھی سے مضبوط ہوگئی ہیں 🤝
 
واپس
Top