تربت یونیورسٹی کا سابق استاد ساجد احمد گرفتار، خودکش جیکٹ اور جدید اسلحہ برآمد | Express News

حکمت والا

Well-known member
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال 90 ہزار خفیہ آپریشنز کیے جن میں 700 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پھر بھی وہ اس جدوجہد میں 400 سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025ء کے آخری تین ماہ میں دہشت گردانہ حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی۔

دہشت گردی کی جدوجہد میں ایک نئا ادارہ قائم کیا گیا ہے جسے نیفٹیک کہتے ہیں جو مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ انہوں نے اس کو "اے ایریا" میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس سے سیکیورٹی آپریشنز میں مزید تیزی آئے گی۔

کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے بتایا کہ ساجد Ahmad عرف شاویز تربت یونیورسٹی کے سابق استاد تھے جو کالعدم دہشت گرد تنظیم سے وابستہ تھا۔

گرفتاری کے وقت ساجد کی گاڑی سے جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا جو پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ ساجد افغانستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر دوستین سے بھی ملتا رہا۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ ساجد کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بھی رہا جبکہ اسلاح ایران سے اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان لایا گیا۔
 
یہ سمجھنا اچھا ہے کہ دہشت گردی کی جدوجہد میں ایک نئا ادارہ قائم کیا گیا ہے جو مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں فعال ہو جائے گا۔ لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ پہلے سے بھی یہی بات کہی جا رہی تھی۔ یہ نیفٹیک ادارہ کی جانب سے قائم ہونے والا ایک نئا منصوبہ ہو گا یا اسے دوسرے ہی لوگوں نے اپنے پہلے منصوبے کے جیسا ہی بنایا ہو گا؟ آپ کو لگتا ہے نا کہ یہ بھی ایک چپچپا ادارہ ہو گا جو لوگوں کی کوششوں میں سہولت دے گا؟
 
جب تک 90 ہزار خفیہ آپریشنز دیکھنے پڑتے تو یقیناً دہشت گردی کی جدوجہد میں بہت بھاری رکاوٹاتھیں۔ تاہم، آخری تین ماہ میں 700 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہونے کا نیوز سن کر میرا جذبہ آیا۔

سائنسی طور پر دیکھیں تو، یہ بھی نچوٹی کی پہل کہتے ہیں۔ ایک نئا ادارہ قائم ہونے سے زیادہ نہیں کہی جاسکتا۔ نیفٹیک کا اسے "اے ایریا" میں تبدیل کرنا، ٹھیک ہوگا؟
جب تک انسداد دہشت گردی کی جدوجہد میں 400 سے زائد شہید ہونے کو کبھی نہ کبھی سمجھایا جاتا تھا تو اب وہ واقعیت کے سامنے آگئے ہیں۔

یہ بات پتہ چلا کہ ساجد Ahmad عرف شاویز بھی ان سے وابستہ تھے جو کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ گاڑی میں جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ اور گولہ بارود، آخری دیر تک پنجگور سے تربت منتقل ہو رہا تھا۔

نوفم پرستوں کو یہ سب کچھ ملتا ہی نہیں؟
 
یے تو بلوچستان میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کی جدوجہد کچھ_progress_kiya_hai ? 90 ہزار آپریشنز سے 700 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے لیکن 400 سے زیادہ شہید ہو گئے ان کے بعد تین ماہ میں حملوں میں کمی دیکھی گئی تو یہ تو اچھا.signs_hain !

نئے ادارے نیفٹیک کو دیکھنا دلچسپ ہوا_ga_tha_ "اے ایریا" بنانے سے سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئے گی تو فہم_nahin_mill_raha_yeh ?

ساجد Ahmad عرف شاویز کیسے اپنی جھوٹی پالیسی کو ختم کرنا چاہتے تھے انہوں نے گاڑی سے ایک_salaam_ لے کر دہشت گردی میں کھلے جھonga_kar_diya ہوا تو یہ تو بھرے_maza_ !
 
یہ ٹھیک ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی جدوجہد میں کیا جا رہا ہے اور 90 ہزار خفیہ آپریشنز سے 700 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہوئے تو بھی انہیں شہید کیا گیا۔ اب نئی اینفیکٹنگ ادارہ کا قیام ایسا تو چاہے اور اس کی سرگرمی میں تیزی آئے گا لیکن واضح کمی دکھانے سے پہلے 400 سے زیادہ شہری بھی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ کچھ نئے تھیمنگ کو بتایا گیا ہے لیکن اس میں کیا سائنس اور ماہرityا کے ذریعے یہ بات چیت کی جا سکتی ہے یا صرف انہیں ناقص دھنڈت بتاتے رہنا؟
 
میں سے یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کی جدوجہد میں انوفمیشن اور تعاون بہت اہم ہے 🤝 اس لیے بلوچستان میں نئا ادارہ قائم کرنا ایک بہترین کھیلا ہے جس سے سیکیورٹی آپریشنز میں مزید تیزی آئے گی اور دہشت گردوں کو پہنچا سکیں گے...
 
اس دہشت گردی کی جدوجہد میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ ناواقف ہوتے ہیں اور ان کو یہاں تک لانے کے لیے چوٹ سے کیوں پہنچتا ہے؟ انہوں نے اس شہید کی جگہ بھی پوھنی ہے؟ اس نئے ادارے کو کس نے بنایا جو سے نائٹเฟیک تھا، اب یہ "اے ایریا" کہتے ہیں لہٰذا اس کی چیلنج کیسے آئی گی؟
 
اس کی سب کچھ ہمaraafi nahi hai... 😐🤷‍♂️ پھر بھی 90 ہزار آپریشنز اور 700 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہونے کی بات بہت اچھی ہے... 🙏💪 اس جدوجہد میں شہید ہونے والوں کی یाद میں ہم اپنی صوتیں لگائیں... 🎶😢

نیفٹیک نے ایک نیا دور آئا ہے جو ہمیں دھکے سے بچائے گا... 🚫💥 اور ایے ایریا کی بات کروں تو اس سے آپریشنز میں تیزی آئے گی... 🕊️🔥 لگتا ہے یہ ہمारا مستقبل ہے... 🌟💫
 
بلوچستان میں دہشت گردی کی جدوجہد میں کام کرنے والے سیکیورٹی فورسز نے حال ہی میں اپنے آپ کو کافی اچھا دکھایا ہے ، 700 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ۔ لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ وہاں تک کہ انہوں نے اپنے آپ کو کافی کمزور نظر آیا ، حالانکہ انہوں نے بتایا ہے کہ پچھلے تین ماہ میں دہشت گردی کی حملوں میں واضح کمی نظر آئی ہے ۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ انہوں نے ایک نئا ادارہ قائم کیا ہے جو اسے "اے ایریا" میں تبدیل کر دیا گیا ہے ، جو سیکیورٹی آپریشنز میں مزید تیزی دا رہا ہے ۔
 
ایسا تو نہیں سوچتا تھا بلوچستان میں دہشت گردی کی جدوجہد اس حد تک اچھلی ہو جائے گے کہ 700 سے زیادہ شخص ہلاک ہونے پر فائنلز میں کمی دیکھنا پڑیگی۔ لیکن یہ بھی کوئٹہ میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس نے انہیں ایک اور ایک کہا ہے۔ جدید اسلحہ، خودکش جیکٹ، گولہ بارود برآمد کرنا یہ واضح کی گئی ہے۔ آج بھی دہشت گردی کی جدوجہد میں ایک نئا ادارہ قائم کیا گیا ہے جو "نيفٹیک" نامی ہوگا جس کو مارچ تک ملک بھر میں فعال کرنا ہوگا۔
 
ہمیشہ سے ڈر کیا جانے والا دہشت گردی کا سفر اب تک بھی ہنسی لگی نہیں رہی، 90 ہزار آپریشنز اور 700 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہونے کے باوجود بھی بہت سے شہید ہوئے ۔ اب نئا ایڈیرہ قائم ہوا ہے جو مارچ تک بلوچستان میں مکمل طور پر فعال ہوجائے گا، یہ بھی نہیں رہے گا کہ ہم ابھی دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں؟

اکثر لوگ نہیں سوچتے کہ ڈی آئی جی سی ٹی کا بھی اپنا ایک پلاٹ فارم ہے جس پر ان سے لڑنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے داستانی گھروں میں اور ان کے خلاف کیا آپریشنات چلائے جارہے تھے؟ ہر ایک کی اپنی تاریخ اور ماحول ہوتا ہے، لیکن اب ساجد Ahmad کے واقعے نے ہم کو ڈرایا ہے۔

جب تک یہ دہشت گردی بھرپور جگہ لے رکھے گا، جب تک یہ شہری اور سیکیورٹی کارکنوں کے خیل میں ہلاک نہیں ہوتے گئے، ہم اپنی انصاف کی جدوجہد جاری رکھوں گے۔
 
تھنڈی دہشت گردی کی جدوجہد میں واضح کمی دیکھنا خوشی کی بات ہے، لیکن یہ بھی یقینی بنانا چاہئیے کہ اس نئے ادارے نیفٹیک کے زیر انتظام آئے تارے سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

گرفتاری کی رپورٹ میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اس نئے ادارے نے کالعدم دہشت گرد تنظیم سے وابستہ شخصیات کی گاڑیاں ٹرک کر رہی ہیں، یہ بھی ایک خطرناک بات ہے جس پر توجہ دی جا سکتی ہے۔

ایک بار پھر دہشت گردی کی جدوجہد میں سیکیورٹی فورسز کو ٹیکسٹ کے ساتھ کام کرنا چاہئیے اور تمام حدوں پر یقین رکھنا چاہئیے۔
 
واپس
Top