آن لائن یار
Well-known member
ترسیلات زر نے ایک تاریخی بلندی دیکھی ہے جس کے ساتھ معیشت بھی نئی ریل پر چل دی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو روپے میں ایک ایسا مثبت اور مفید اشاریہ ملتا ہے جو مالیاتی دباؤء کی کمی، آئی این ایف سے باز رہنے والوں کے لیے اطمینان کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔ اس طرح ملکی معاشی استحکام میں بھی یہ ترسیلات زر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دنیا بھر کے ملکوں نے اپنے برآمدات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر میں اضافے کی وضاحت دی ہے جس کے ساتھ معاشی ترقی میں بھی یہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی رجحان میں ایک نمایاں حصہ لے رہا ہے جس کے ساتھ معاشی استحکام کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں لیکن اس کا کارآمد اور پائیدار اثر برآمدات میں اضافے پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔
ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ ملک میں مقامی صنعتوں کو بھی استحکام حاصل ہونا چاہیے اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے پر زور دینا چاہیے، اس طرح سے حقیقی معاشی ترقی کا نئا عدد حاصل ہو گا۔ ترسیلات زر سے ملک کو ایسے ملکوں کی مدد ملتی ہے جو ترسیلات زر کو سرمایہ کاری میں ڈھالنے کا فن سب سے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
پاکستان میں روپے کی اکثریت صرف درآمدی مصنوعات پر، مہنگائی پر اور معاشی نظام پر ہونے کے نتیجے میں بھیجنے والوں خاندانوں کی طرز زندگی میں تبدیلی آتی ہے۔ اس طرح سے یہ ترسیلات زر سے ملک کے معاشی نظام پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
ترسیلات زر اور ایس ایم ایز کی ترسیلات اور برآمدات کا تعلق بیرون ملک ملازمت کی بھی ہوتی ہے، اس سے ملک میں انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر پیشوں کی کمی پائی جاتی ہے جس کے لیے حکومت کو ایسے پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو ان افراد کو تعلیمی قابلیت کے مطابق ملک میں روزگار فراہم کریں۔
دنیا بھر کے ملکوں نے اپنے برآمدات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر میں اضافے کی وضاحت دی ہے جس کے ساتھ معاشی ترقی میں بھی یہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی رجحان میں ایک نمایاں حصہ لے رہا ہے جس کے ساتھ معاشی استحکام کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں لیکن اس کا کارآمد اور پائیدار اثر برآمدات میں اضافے پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔
ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ ملک میں مقامی صنعتوں کو بھی استحکام حاصل ہونا چاہیے اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے پر زور دینا چاہیے، اس طرح سے حقیقی معاشی ترقی کا نئا عدد حاصل ہو گا۔ ترسیلات زر سے ملک کو ایسے ملکوں کی مدد ملتی ہے جو ترسیلات زر کو سرمایہ کاری میں ڈھالنے کا فن سب سے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
پاکستان میں روپے کی اکثریت صرف درآمدی مصنوعات پر، مہنگائی پر اور معاشی نظام پر ہونے کے نتیجے میں بھیجنے والوں خاندانوں کی طرز زندگی میں تبدیلی آتی ہے۔ اس طرح سے یہ ترسیلات زر سے ملک کے معاشی نظام پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
ترسیلات زر اور ایس ایم ایز کی ترسیلات اور برآمدات کا تعلق بیرون ملک ملازمت کی بھی ہوتی ہے، اس سے ملک میں انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر پیشوں کی کمی پائی جاتی ہے جس کے لیے حکومت کو ایسے پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو ان افراد کو تعلیمی قابلیت کے مطابق ملک میں روزگار فراہم کریں۔