تعلیم عالمی دن پر شہزاد رائے کا خصوصی نغمہ؛ عشرت فاطمہ نے اپنے تجربات بھی بتادیئے | Express News

کنسول پرو

Well-known member
تعلیم عالمی دن کے موقع پر شہزاد رائے نے اپنے خصوصی نغمے میں تعلیمی نظام کی سنگین غلطیوں کو اجاگر کیا ہے، جو ابھی سے بچوں کی زندگی کو پریشان کر رہی ہیں۔

بچوں کی عمروں پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ اور گریڈنگ کے مسئلے جیسے مسائل کا شہزاد رائے نے اپنے نغمے میں سامنے لایا ہے، جو کم بات کی جاتی ہیں۔ ان پر ابھی سے بچوں کی زندگی کو پریشان کر رہے ہیں اور اس کے بجائے انہیں کھیلنے کودنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

کئی بار شعبہ و شعبہ کی سرگرمیوں میں بچے کو داخل کرایا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بچے کو رنگون، الفاظ، جسم کے اعضا اور نمبروں کی پہچان سکھانی پڑتی ہے اور اس کو ایک پریشانہ حال میں لایا جاتا ہے۔

عشرت فاطمہ نے بھی اپنے تجربات سے شہزاد رائے کے اٹھنے پر تشہیر کی ہے اور انھوں نے اس نغمے کو سامنے لانے کا کہنا ہے کہ یہ ایک تلخ حقیقت کا اظہار کر رہا ہے جس نے بچوں سے اُن کی بچپن چھین لیا ہے۔

عشرت فاطمہ نے اپنی زندگی سے بھی شہزاد رائے کے نغمے میں شامل ہو کر ایک ایسا پہلو بیان کیا ہے جس نے سوشل میڈیا صارفین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ بھی اپنے بیٹے کی عمر صرف چار سال تھی جب اسکول میں داخل کروانے کا موقع نہیں ملتا۔ انھوں نے اپنی زندگی کی یہ تلخ بات شہزاد رائے کے نغمے میں ایک اور اہم پہلو کے طور پر پیش کی ہے۔

عشرت فاطمہ نے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھاری بستے، دیر رات تک ہوم ورک اور والدین کی مسلسل مشقت نے بچوں کی معصوم زندگی کو بوجھ بنا دیا ہے اور اب نہیں اسکولوں میں کھیل کے میدان رہتے ہیں، جس سے بچے اپنے لئے کوئی موقع حاصل کر سکتے ہیں اور وہ اپنی زندگی کو منفرد بنانے کا موقع دیا جاتا ہے۔

شہزاد رائے کے نغمے میں انھوں نے والدین سے ایک پہلو کی بھی آگاہی کی ہے جو وہ اپنے بیٹے کے تعلیمی سال کو یقینی بنانے کے لیے انھیں جانتے ہوئے کچھ نئے طریقے بھی سیکھتے ہیں۔
 
عشاقین، یہو! یہ تعلیمی نظام کہاں چل رہا ہے؟ میرا بیٹا صرف چار سال تھا جب اسکول میں داخل نہیں ہوا، اور اب وہ اسکول کی دوری میں یہ گریڈز کھیل رہا ہے؟ یہ بچوں کو کتنا پریشان کر رہا ہے؟ میرے لئے اس تعلیمی نظام کی بات کو ہلچی نہیں، کیونکہ وہ بھی اسی طرح سے میری زندگی کے لئے ہلچی بن رہا ہے!
 
یہ شہزاد رائے کا اور عشرت فاطمہ کی جانب سے بھی کی گئی ایسی بات ہو گی چکی ہے جو میرے لئے بالکل نویں ہو گی ۔ میرا خیال ہے کہ اگر اسکول میں بچوں کو رہنا اور ان کی زندگی پر زیادہ دباؤ نہیں دیا جائے تو وہ اپنے لئے کوئی بھی کھیل کو کھیل سکتے ہیں۔

میری یہ رائے ہے کہ اگر والدین اپنی زندگیوں میں بھی ایسا ہی ہوتے جیسے شہزاد رائے اور عشرت فاطمہ نے اپنے بیٹے کی زندگیوں میں کیا ہے تو بچوں کو اس्कول میں داخل ہونے والی پریشانیوں سے بھگتنا پڑتا نہیں اور وہ اپنی زندگیوں کا احاطہ کر سکتے ہیں۔
 
یہ تعلیمی نظام ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے جیسا ہے، لاکھوں بچوں کو اسے قبول کرنا پڑتا ہے اور ان کی زندگی کو ایک دوسرے کے بعد دبا دیا جاتا ہے. آپ نے کہا ہے کہ بچوں کو رنگون، الفاظ، جسم کے اعضا اور نمبروڹ کی پہچان سکھائی جاتی ہے، یہی کہہ کر آپ نے ان کے حق میں بات کرتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا. ان کا دبا ہوا جीवन ہمیشہ سے موجود ہے اور یہی ہے جو وہ ابھی بھی شاد ہوئے ہیں.
 
تعلیم عالمی دن پر شہزاد رائے نے ایک اچھا نغمہ گایا ہے، ان کی بات سے بچوں کو لگتا ہے کہ اس्कول میں بھی کھیل کے میدان رہتے ہیں، لیکن وہاں نہیں اور ان کی زندگی کچھ بدلنا پڑتا ہے۔ اسکول میں بھی کھیل کے میدان رہتے ہیں، لیکن وہاں نہیں اور ان کی زندگی کچھ بدلنا پڑتا ہے۔
 
شہزاد رائے کی ووٹس نے مجھے اتنا اچھا لگا 🤩 انھوں نے بچوں پر تعلیمی دباؤ اور گریڈنگ کے مسائل کو سامنے لایا ہے جو ابھی سے بچوں کی زندگی کو پریشان کر رہی ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ان مسائل پر توجہ دیں اور انھیں حل کرنے کی کوشش کریں۔
 
بچوں کی زندگی کو یہ سے تو چہرہ لگ رہا ہے، اور وہ ان کے لیے اسے ایسا نہیں بنانا چاہیں۔ انھیں کھیلنے کودنے کا موقع دیا جائے، کھیلوں کو محفوظ اور آسان بنایا جائے تاکہ وہ بچپن کی زندگی میں اپنی فضولیت کو ظاہر کر سکیں
 
بچوں کی زندگی اس طرح پریشان ہونے کا وہی نہیں ہے جس پر شہزاد رائے نے توجہ دی ہے، بھرے بستوں میں اور والدین کی مشقت میں ان کی زندگی پریشان ہی ہے۔ وہ کتنے بچے ہوتے ہیں جو اپنے تعلیمی سال کو یقینی بنانے کے لیے والدین پر یقینی نہیں ہو سکتے؟
 
عشقت کی گہری جڑوں پورے ملک میں ہیں، میرا خیال ہے کہ شہزاد رائے نے بچوں کی زندگی کو پریشان کرنے والی تعلیمی نظام کی غلطیوں پر لگاتار دباؤ دیا ہے، میرے خیال میں اس کا ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کو سوسائٹی میں اپنی فیکٹری بنایا جاتا ہے، میرے خیال میں اس پر ایک اور بات کے لئے پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔
 
تعلیمی نظام کی ساری غلطیوں کو اجاگر کرنے والا شہزاد رائے ابھی تک مایوس نہیں ہوتا۔ اگر اس کے نئے نغمے میں اس کی آواز سن لی جائے تو پتہ چلے گا کہ بچوں کی زندگی کو کس سے پریشان کیا گیا ہے اور کس طرح انھیں ایک منفرد زندگی کی پہچان دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ شہزاد رائے نے بچوں کو اپنی زندگی کا ماحول بنانے کی آزادی دی جانی چاہئے۔
 
تعلیمی نظام میں ابھی تو کچھ جھگڑا ہوتا رہا ہے، لہذا شہزاد رائے کی بات سمجھنی چاہئے اور اپنے بیٹے کو بچپن سے ہی تعلیمی دباؤ میں ڈالنا نہیں چاہیے، اس کا matlab یہ ہوتا ہے کہ والدین انھیں زندگی کی پہچان سکھانی پڑتی ہے اور اسے ایک بچپن کے دوسرے دباؤ سے دوچار نہیں کرنا چاہئے، والدین کو اپنے بیٹوں کی زندگی کو منفرد بنانے کا موقع دیا جائے اور وہ انھیں کچھ نئے طریقوں سے سیکھنا چاہئیں، ایسا ہی شہزاد رائے کی بات کا کہنا تھا۔
 
یہ واضح طور پر دکھائی دوں گے کہ تعلیمی نظام میں کوئی تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی زندگی پریشان نہ ہو اور انہیں بچپن کی انفرادیت کو سمجھنے کا موقع دیا جائے 🤔

شہزاد رائے کے نغمے میں بیان کردہ مسائل تو بچوں کی زندگی کی پریشانگی کو دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس بات پر زور دینا چاہئے کہ ہم ان سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ بچوں کو تعلیمی دباؤ سے نجات مل سکے اور وہ اپنی زندگی میں خوشحال رہ سکیں۔

شہزاد رائے کی طرح ہمیں بھی اس بات پر زور دینا چاہئے کہ والدین کو بچوں کی زندگی میں مدد فراہم کرنے کی انفرادی پوزیشن سے نجات مل سکے تاکہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو تعلیمی دباؤ سے مہراز نہ بنائیں، جس سے ان کی زندگی پریشان ہو سکتی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ تعلیمی نظام ایک گھناسیر دباؤ کا ماحول ہے جہاں بچوں کو ساتھ نہیں لیے اور ان کی زندگی کو پریشان کر رہا ہے۔ بچوں پر گریڈنگ کا دباؤ اور بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ سے بچوں کی زندگی کو جینا نہیں آتا ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ شہزاد رائے کا یہ نغمہ بالکل غلط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو کسی خاص پڑھنے پڈھانے میں بڑی دباؤ اور نتیجتاً وہ اپنی زندگی پر بھی ایسا ہی دباؤ لگاتے ہیں جو اس کے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔
 
بھلے ایسا، تعلیم عالمی دن پر شہزاد رائے نے اپنے لگ بھگ خصوصی نغمے میں انفرادی نظام کے غلطیوں کو سامنے لایا ہے جو ابھی سے بچوں کی زندگی کو پریشان کر رہے ہیں۔ اور یہ بات تو سچ ہے کہ غلطیاں کم نہیں، بچوں کی عمروں پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ انھیں ایک پریشانہ حال میں لانے کا کوئی لازمی نہیں ہوتا۔
 
عشقت میرا ہو وہی ہے جس نے شہزاد رائے کا نغمہ پریشان کر دیا ہے، میرے لئے بھی ایسے بچے کی زندگی دکھنا پریشان کن ہے جس کے پورے تعلیمی سال پر گریڈنگ سستے نتیجےات تک دباؤ ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسکول میں داخل ہونے سے پہلے بچوں کی عرصتیں تو بہت اچھی ہوتی ہیں، وہ کھیلتے ہوئے لڑتے ہوئے اپنی زندگی کو منفرد بناتے ہیں، مگر اب وہ بچے اپنے تعلیمی سال میں ایسی پریشان کن حالتوں میں ڈوبتے ہیں جو ان کی زندگی کو توڑ دیتی ہیں۔
 
یہ سب سے بدترین بات یہ ہے کہ شعبہ و شعبہ کی سرگرمیوں میں بچے کو داخل کرایا جاتا ہے اور انھیں رنگون، الفاظ، جسم کے اعضا اور نمبروں کی پہچان سکھانی پڑتی ہے… یہ بچوں کو پریشان کر رہا ہے اور اس کے بجائے انھیں کھیلنے کودنے کا موقع دیا جاتا ہے… 😔
 
واپس
Top