جاپان اور چین کی تعلقات میں ایک عجیب و غریب کہنا ہو گا، جس سے ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنگ آ پڑی ہوئی ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے ملک کے آخری دو دیوہیکل پانڈا کو چین واپس بھیجنے پر مجبور ہو گیا تھا، جس نے چڑیا گھر میں الوداع کے لیے ہزاروں لوگوں کی رکاوٹ دیکھی۔
چین اور جاپان کے درمیان تعلقات میں ایک خطرناک سطح پر تنگ آ پڑی ہوئی ہے، جس نے دونوں ممالکوں کو ایک دوسرے سے دور لے کر رکھا ہے۔ جاپانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان اس معاملے میں فوجی مداخلت کرے گا، جو کسی بھی ممalon کے لیے ایک خطرناک و غموڑہ ہے۔
چین اور جاپان دونوں ملک نے پہلے 1949 میں اپنے تعلقات میں واپسی کا آغاز کیا تھا، تاہم اب ان کی تعلقات منسلکی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے۔ چین اپنے تمام پانڈوں کی ملکیت برقرار رکھتا ہے اور اس نے ہر جوڑے کے لیے سالانہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر ادا کرایا ہے۔
چین اور جاپان کے درمیان تعلقات میں ایک خطرناک سطح پر تنگ آ پڑی ہوئی ہے، جس نے دونوں ممالکوں کو ایک دوسرے سے دور لے کر رکھا ہے۔ جاپانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان اس معاملے میں فوجی مداخلت کرے گا، جو کسی بھی ممalon کے لیے ایک خطرناک و غموڑہ ہے۔
چین اور جاپان دونوں ملک نے پہلے 1949 میں اپنے تعلقات میں واپسی کا آغاز کیا تھا، تاہم اب ان کی تعلقات منسلکی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے۔ چین اپنے تمام پانڈوں کی ملکیت برقرار رکھتا ہے اور اس نے ہر جوڑے کے لیے سالانہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر ادا کرایا ہے۔