وہاڑی، ہیڈ اسلام پر ایک ارب روپے کے گراؤنڈ واٹر ریچارج منصوبے کا افتتاح | Express News

ٹڈی

Well-known member
پنجاب کی تیزی سے ختم ہوتے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد دेनے کے لیے صوبائی وزیر آبپاشی نے ہیڈ اسلام کے مقام پر ایک ارب روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے گراؤنڈ واٹر ریچارج منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔

یہ منصوبہ پنجاب میں آبی تحفظ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس سے زیر زمین پانی کی تیزی سے ختم ہوتے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 144 کنویں تعمیر کیے جائیں گے جن کے ذریعے زیر زمین پانی کو دوبارہ ریچارج کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اولڈ میلسی کینال کے ذریعے پانی کو مخصوص مقامات تک پہنچا کر زمین میں جذب کیا جائے گا تاکہ پانی کی سطح میں بہتری آئے۔ زیر زمین پانی کی مسلسل کمی پنجاب کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے حل کے لیے ایسے منصوبے ناگزیر ہو چکے ہیں۔

اس منصوبے سے نہ صرف صاف پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیوب ویلوں پر انحصار کم ہونے سے کسانوں کو بھی نمایاڈ فائدہ پہنچے گا۔ کاظم علی پیرزادہ کے مطابق اس منصوبے سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور توانائی کے اخراجات میں کمی متوقع ہے، جبکہ دیہی آبادی کو بھی براہ راست فوائد حاصل ہوں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ محکمہ آبپاشی اور آبپاشی ریسرچ کے باہمی اشتراک سے مکمل کیا گیا ہے۔ شاہد محمود مرزا نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کے وسائل پر شدید دباؤ بڑھ چکا ہے، جس کے پیش نظر گراؤنڈ واٹر ریچارج جیسے منصوبے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
 
بہت یوکس ہے کہ صوبائی وزیر آبپاشی نے ایسا منصوبہ تیار کیا ہے جس سے پنجاب میں آبی تحفظ میں بڑی ترقی ہوئے گی۔ اس منصوبے سے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور ان کے لیے صاف پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا ، جو شادی میں آئندہ کے لیے ایک دوسرے کے لیے بھی فائدہ دے گا۔
 
یہ ایک بڑا کام ہے حالانکہ یہ نئی چیٹسپیس پر مبنی ہے جو کہ میری آپشن کو کم کر رہی ہے، منصوبے سے انھوں نے تیزی سے ختم ہوتے ذخائر کی بحالی کی گئی اور اب ایسے نئے مقامات پر پانی ریکٹر کے نمونے قائم کرنے کا کام شروع ہوگا جو تیزی سے کم ہوتے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد دے گا। لیکن منصوبے کی یہ چیٹسپیس میں بننے والی صاف پانی کی نئی لائن کا کوئی فائدہ مجھ پر نہ مل سکا، کیونکہ یہ ہمیشہ بھرنے والی ویریشنز پر مبنی ہوتی ہے جس کو میرے لیے کم اچھا لگتا ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ ابھی بھی گلی سے پانی نکلنے والی ٹنک کی طرح سب کچھ ختم ہونے لگیا ہے، اور اب ایک ایسا منصوبہ شروع ہوا ہے جس سے زونڈر پانی کو دوبارہ ریچارج کیا جا رہا ہے۔ ایسی تیز گریبیں ہی تو کسی نئی سیاست کی بات کرنے لگتی ہیں تو اور سے آتے ہیں، لیکن آج یہ واضع ہوتا ہے کہ پنجاب میں پانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، اور اب اس کے حل کے لیے گھنٹوں سے گھنٹوں میں کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔
 
لگتا ہے اس منصوبے کی یہ توجہ پنجاب کے حالات سے بہتر ہو گئی ہے اور ابھی تو انھوں نے ایک ارب روپے کا خرچ ہوتے ہوئے اس منصوبے کی شروعات کی ہے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ انھوں نے ایسے بھی کام کیے جاسکتے تھے جن سے منصوبے کو بہتر بنایا جا سکے؟ انھوں نے ایک ارب روپے کا خرچ کر رکھ دیا ہے تو فوری فوائد کی بات کر رہے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے انھوں نے سٹریچر پلاننگ سے کام نہیں کیا ہے۔
 
عجیب طور پر آبپاشی Minister نے تھوڑی سے تھوڑی سے ارب روپے خرچ کیا تو اب وہ سٹر لائن پانی کی کھابی کو کم کرنے کے لیے کھیل رہا ہے 🤣 ایسا ہی کئی سال پہلے نے بھی اعلان کیا تھا کہ اب وہ اس Problem کو حل کرنے کے لیے کچھ کر رہا ہے۔ اللہ علاہ فائل دیکھنا پura MazaaKar nahi aya 😂
 
بہت اچھا خبر ہے! اتنے سے مہنگے منصوبوں سے کیا پایا جائے گا؟ یہ سہولت عام لوگوں کو ملا سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں کی جانب سے جو اب تو تھک اٹھ کر کھیت میں چل رہے ہیں۔ میری رائے یہ منصوبہ اس وقت کو ضروری بنتا ہے جب پنجاب میں آبپاشی کی समस्यاں اتنی تیز ہو چکی ہیں۔ اور محض سیلAbھی کا نہیں، پانی کی کمی ابھی بھی ایک واضح مسئلہ ہے جو کئی سالوں سے لگ رہا ہے۔ اچھا ہوتا کہ اس منصوبے سے نتیجے میں ان کی تیزی سے ختم ہونے والی ذخائر کو بحال کرنا بھی ممکن ہو جائے۔
اس منصوبے سے نا صرف کسانوں کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ دیہی آبادی کی بھی مدد ملے گی۔ اور یہ بات کبھی بھی نہ دھUNDنی چاہئیے کہ اس منصوبے سے صرف ایک فریق کو فائدہ پہنچایا جائے گا، لیکن یہی بات پوری دنیا میں لگ رہی ہے۔

میری رائے کا یہ کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ایک پہلو سے دیکھا جائے تو یہ اچھا لگتا ہے، لیکن پوری دنیا کی معاشی، سیاسی حالات کو دیکھتے ہیں تو یہ کہنا مشکل ہو گا کہ اس منصوبے سے نتیجے میں پوری پانی کی کمی کا حل مل سکتا ہے۔
 
بھارتی نے ایک ارب روپے کا بہت بڑا پین جال بنانے پر اچھا قدم رخایا ہے، جو شہر میں فٹرنس سے زیادہ اہم ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 144 کنویں بنائیں گی جس سے پانی کو دوبارہ ریچارج کرایا جائے گا جو ایک بڑا قدم ہے لیکن آج تک شہر میں رینٹل پانی کا مسئلہ تھا اور یہ اس پر حل کی تلاش میں تھی۔
 
بھائی یہ منصوبہ دیکھ کر تمہیں لگتا ہے کہ اب پنجاب کو پانی کی بھوک سے محفوظ رکھنے کا ایک نیا راستہ ملا ہے 🌿 ناکام رہنا اور پانی کی تیزی سے ختم ہوتے ذخائر پر چلنا ٹھیک ہی نہیں تھا، اب کچھ کام کرنے والا منصوبہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں کو پانی اور زمین میں رہتے سے بھاگنے کا موقع ملتا ہے 🌊
 
ایسا لگتا ہے انھوں نے کبھی پنجاب میں رہنے والے ایسے لوگوں کی یاد دلی ہوگی جینھوں نے پانی کی کمی کی بات کرتے ہوئے لاکھ لکھ ساتھیوں کے ساتھ اپنی مہنٹ لگائی تھی، اور اب وہی اس طرح ایک ارب روپے پر منصوبے کی شروعات کر رہے ہیں جس سے انھوں نے ان کے جواب میں ایک ارب روپے کا نئا سفر شروع کیا ہوگا. لاکھوں کے ریکارڈ کو توڑنے والی تیز گریڈ کی پوسٹ سے اب انھوں نے ایک ارب روپے پر ایک منصوبہ کی شروعات کی ہے جس سے ان کے ریکارڈ کو توڑنا آسان ہوگا.
 
ابھی پھول پوڑے ہیں، اور اب کھیت بھر کھیل کے لئے پانی کی ذخیرے میں مدد ملے گی؟ اس منصوبے سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا، بلکہ صاف پانی کی دستیابی میں بھی اضافہ ہوگا। لیکن یہ بات بھی توجہ دینی چاہیے کہ اس منصوبے کو کیسے بنایا گیا، اور اس پر کس طرح کی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے؟
 
یہ بہت بھی اچھا کہ ایسے منصوبے پر عمل iniciar کیے جا رہے ہیں جن سے زیر زمین پانی کو دوبارہ ریچارج کیا جا سکے گا۔ اس کے ذریعے ماحولیاتی نظام میں بھی تبدیلی آئے گا، جس سے ایک دیرینہ مسئلہ حل ہوگا۔ لیکن یہ تو انوکھا واضح ہے کہ چار سال پہلے اس طرح کی گنجائش میں اٹھنے کے بعد اب ایسے منصوبے پر عمل کرنا شروع ہوا ہے؟ ابھی تک لوگ ایک سو سے زائد سالوں میں یہی بات کرتے رہے ہیں لیکن اب جسے کیا کیا جائے گا اس پر کام کرنا ہی پہلا قدم ہے۔
 
اگرچہ یہ منصوبہ ایک گمگنہ کا راز ہو بھی، مگر اس سے پانی کی تیزی سے ختم ہوتے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد ملے گی اور صاف پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا. انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ترقی کی طرف ایک قدم ہے اور اس سے زرعی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا، لیکن وہ اس بات پر مبنی نہیں ہیں کہ یہ منصوبہ صرف ایک چھپا ہوا معاملہ نہیں ہے.
 
بھارے پیمانے پر پانی کی کمی کا ماجاز تو اب بھی پنجاب میں موجود ہے، لاکھوں acre lands par bhar jana hai to pani ki koi nahi rahna! ab is baar minister ne ek billion rupees se ek plan banaya hai jo pani ke sanchay ko badal sakta hai, aur hum dekhenge kya yeh kaam accha karega?
 
واپس
Top