یوگی حکومت نے یو پی میں دھرم شہریت کی منظر عام پر لیتی ہے، لیکن اس سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ان کے مذہبی حقوق کو تسلیم کر رہی ہے۔
شنکر اچاریہ کی تنقید یو پی کے لئے ایک نوجوان اور آگے بڑھنے والے قائد ہیں جو اس سرکاری ہندوتوا کو چیلنج کر رہے ہیں جو ریاست میں طاقت کا مرکز بن گئی ہے۔
اس لڑائی کی وضاحت اس بات سے ملتی ہے کہ یو پی میں دھرم شہریت نے اپنے مذہبی حقوق کو تسلیم کرنے والے لوگوں اور ووٹरز کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے جو یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے مذہبی حقوق کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، لیکن اس پر مبنی ایک غیر مسلم اور سکولار رائے بھی موجود ہے۔
اس لڑائی میں یو پی کی حکومت اچاریہ سے تنہا لڑ رہی ہے، جو کہ اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ وہ اپنے مذہبی حقوق کو تسلیم نہیں کرسکتے۔
اس لڑائی کے اندر یہ سوال آتا ہے کہ کیا ریاست میں مذہب کی طاقت اور مذہب کی حفاظت کو ایک دوسرے سے پیشے میں لایا جائے گا، یا اس سے معاوضہ دیا جائے گا۔
یہ لڑائی حقیقی مذہبی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی جنگ ہے جس میں دونوں پرتھوں کے لیے اپنی اپنی دباؤ اور فوج کو دیکھنا ہوتا ہے۔
یہ بھی ہوا نہیں ہوگا، یو پی کو اس لڑائی میں ایک پرتھ کا بدلہ لینا ہوگا۔ انہیں پتہ ہوگا کہ وہ اپنی مذہبی حقوق کو تسلیم کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ بھی ہوگا کہ وہ انہیں ایک غیر مسلم اور سکولار رائے سے جھگڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ان کی اپنی مذہبی طاقت کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہوگا
یہ لڑائی سچ بطور تو، یہاں تک کہ اس میں بھی ایک سیاسی نقطہ نظر ہے جو ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اپنے دھرم شہریت کی جانب سے ووٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں یہ بات پچھنی چاہئے کہ وہ اپنا مینڈیٹ کس طرح بنانے والے لوگ ہیں، کس طرح وہ اپنے دھرم کی حифاظت کو اپنے سیاسی نقطہ نظر سے جوڑ رہے ہیں؟
یہ لڑائی ایک ایسی نہانہ ہے جس میں یہ سوال آتا ہے کہ مذہب کی طاقت کو اپنے لیے استعمال کرنا اور دوسروں پر اسے ملائیں دینا کیا ہے؟
ایک دوسرے کی آزادی سے انکار کرنے کے لئے، آپ اپنی آزادی کو توازن میں رکھنا چاہتے ہیں یا اسے ایسے لوگوں پر مبنی کرنا جینیسی اور ثقافتی تناؤ کو توجہ دیکھتے ہیں؟
اس لڑائی میڰ جہاں یو پی کی حکومت اچاریہ سے تنہا لڑ رہی ہے، اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مذہبی حقوق کی وضاحت ایسے لوگوں کی زندگی میں داخل ہوتی ہے جو اپنے معاشرے میں خود کو دھارنا چاہتے ہیں اور اس سے ان کے لئے ایک نئی دنیا کی شروعات ہوتی ہے۔
मैंनے اپنے بچوں کے لئے ماسٹر کیپ کیا ہوا، میں نے انہیں یہ بات سیکھنی پڑی کہ وہ آپسی مخالفین بننے والے تھے
اب یو پی کے لئے دھرم شہریت کی منظر عام پر لایا جانا ہوا ہے، میں نہیں جانتا کیا اس سے انہیں کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں ہوگا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ انہوں نے اپنی مخالفین کو اپنے مذہبی حقوق کی وجہ سے لڑایا ہوا ہے، لیکن میں نہیں جانتا کیا اس سے انہیں کچھ معافتیں ملنگی یا نہیں ہوں گی۔
میں اپنی بہن کو یہ بتایا تھا کہ اس لڑائی میں جو کہی جا رہا ہے وہ تو آپسی دباؤ اور فوج کی بات ہے، لیکن یہ بات نہیں کہی جاسکتी کہ اس سے ان کے مذہبی حقوق کو تسلیم کیا جاے گا یا نہیں۔
یو پی کی اہم موازنہ ہے، لیکن یہ بات تو محسوس ہوتی ہے کہ یہ صرف ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو مذہبی حقوق کو تسلیم کرنے کی توجہ رکھتے ہیں، بلکہ تمام ووٹرز کی تعداد میں اضافہ دیکھنا مشکل ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک نوجوان اور آگے بڑھنے والے قائد کی تنقید پر مبنی ہے، جو اس سرکاری ہندوتوا کو چیلنج کر رہے ہیں جس کا مرکز ریاست میں طاقت بن گیا ہے۔
ان لڑائیوں کی وضاحت اس بات سے ملتی ہے کہ مذہبی شہریت کے متعلق لوگوں کی رائے میں تبدیلی آ رہی ہے، جو اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ حقوق کس حد تک تسلیم کیے جائیں گے۔
لیکن یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ یو پی کی حکومت اس پر تنہا لڑ رہی ہے، جو اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ انھیں اپنے مذہبی حقوق کو تسلیم نہیں کرسکتے۔
اس لڑائی میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا ریاست میں مذہب کی طاقت اور مذہب کی حفاظت کو ایک دوسرے سے پیشے میں لایا جائے گا، یا اس سے معاوضہ دیا جائے گا۔
یہ لڑائی حقیقی مذہبی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی جنگ ہے جس میں دونوں پرتھوں کے لیے اپنی اپنی دباؤ اور فوج کو دیکھنا ہوتا ہے।
مگر یہ بات تو ایک ساتھ نہیں رہ سکتی کہ کس میں اچاریہ کی جگہ لینے کی کوئی صلاحیت ہے؟ اس میں تو صرف ایک چیز ہوتی ہے جو اس کے پاس ہونی چاہیے اور وہ ہے - ایک آتھارٹڈ ٹیکنالوجی جس سے وہ اپنے حاظر پلیٹ فارم بنا سکے۔
یہ بہت متاثر کن واقعہ ہے، یو پی میں دھرم شہریت کی منظر عام پر لانے کے بعد کیا نتیجہ ہوتا ہے؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مذہبی حقوق کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ بھی دکھایا جارہا ہے کہ مذہب کی طاقت کو معاوضہ دیا جائے گا اور اس سے فوج نہیں ہوتी۔ یہ ایسا لگتا ہے کہ یو پی کی حکومت اپنے مذہبی حقوق کو تسلیم کر سکتی ہے، لیکن وہ اس پر نہیں چل رہی ہیں۔