’آٹو فوکس‘عینک: کمزور بینائی والے افراد کی بڑی مشکل حل

مینا

Well-known member
فن لینڈ کی ایک نئی کمپنی نے اس وقت میں اپنے تصور کو پیش کیا ہے جس سے ویری فوکل اور بائی فوکل دونوں کا اثر ختم کر دیا جا رہا ہے۔ اس عینک کو آٹو فاکس کہتے ہیں، جو انسان کی آنکھوں کی ضرورت کے مطابق خود بخود فوکس تبدیل کر سکتا ہے۔

اس عینک میں ایک نئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس سے لینس کو روایتی بائی فوکل اور ویری فوکل چشموں کے مقابلے میں زیادہ قدرتی اور آرام دہ بصری تجربہ فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ عینک تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، ایک دور کی نظر کے لیے اور دو قریب دیکھنے کے لیے۔ لیکن آئی سی ایس آئی کے چیف ایگزیکٹو نیکو ایڈن کا کہنا ہے کہ ویری فوکل لینس کی اس طریقے میں فکسڈ فوکس ایریاز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس سے بصری BIGAڑ نہیں پڑتی ہے، اس لئے کہ لینس خود بخود تبدیل ہو جاتا ہے اور صارف کو پڑھنے کی ضرورت ہونے پر یہ ایریا تبدیل ہو جاتا ہے۔

آئی سی ایس آئی کے عینک میں ایک بڑا اور بہتر مقام پر رکھا گیا فوکس ایریا ہوتا ہے، جو صارف کے آنکھوں کے ٹیسٹ کے مطابق سیٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ قریب سے دیکھ سکیں اور بعد ازاں دور کی نظر کے لیے پورا لینس دستیاب ہو جائے۔

اس عینک کا وزن صرف 22 گرام ہے، جو عام چشموں جیسے ہی محسوس ہوتا ہے، لیکن بیٹری اور الیکٹرانکس فریم میں چھپائے گئے ہیں کہ دیکھنے والا فرق محسوس نہیں کر سکتا۔ اس عینک کو روزانہ چارج کرنا ہوگا جس کے لیے مقناطیسی چارجنگ پورٹ فریم کے بازو میں نصب ہے، مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ اس میں زیادہ وقت تک بصری BIGAڑ نہیں آتا۔

یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر آئن مرے کا کہنا ہے کہ یہ تصور سائنسی طور پر بالکل قابلِ عمل ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کا استعمال محدود اور کسی حد تک نیا تجربہ سمجھا جائے گا۔ کم روشنی اور میدانِ نظر کی وسعت جیسے سوالات پر مزید تحقیق درکار ہے۔
 
یہ ایک اچھی تبدیلی ہوگا، لیکن یہ بھی بات یہ ہے کہ انسان کی آنکھوں میں کیا چل رہا ہے؟ ویری فوکل اور بی ایف ہفت کو ایک حد تک ضروری تھا، حالانکہ اب یہ کمپنی نے ایک نئی اچھی چیز پیش کی ہے، لیکن انسان کے جسم میں دھل دیئے جانے والے مسائل کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

اس عینک کو دیکھ کر میرے پاس ایک سوال آیا ہے کہ یہ اتنا پورے جسم میں چھپائے گئے سیکنڈری سسٹم کیوں ہیں؟ نہ تو وہ صارف کو کسی حد تک ایک مختلف تجربہ دے سکتا ہے، نہ ہی اس کا استعمال انفرادی طور پر زیادہ محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔
 
یہ عینک تو ایک بڑا خوفناک کامیاب ہوا ہوگا، مگر یقیناً یہ بات حقیقت ہے کہ اس سے بصری BIGAڑ کیسے دور ہوسکتی ہے؟ میں اس پر ایسا کہتا ہوں کہ جب تک یہ عینک فلیکس بھی رہے گا تو ویری فوکل لینس کی ایسی سائنسی ثبوت نہیں ملے گئے، مگر یہ بات کوئی بھول نہیں کے کہ اس عینک کی آٹو فاکس کی ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جو انسان کی آنکھوں کی ضرورت کے مطابق خود بخود فوکس تبدیل کر سکتا ہے۔
 
یہ عینک کیا ہوا ہے؟ آٹو فاکس یا tự خود بخود فوکسConvert karne wala eye pehchaana hai jise logon ko apni aankhon ki zarurat ke hisaab se fixed focus convert karsakta hai. Lekin is tarah ki technology ka isme kaam karna kitna mushkil hai? Kisi bhi tarha ki glasses ya contact lens pehchanay mein 2-3 saal lag gaye the, lekin ab yeh automatic focus badalne wala eye available hai!

Ab issey toh lagbhag aise ho jaayega jese ki log apni aankhon ko kisi tarah se nahi khatak saken. Yeh zaroori hai ki hum isse aur bhi research karain, kyonki abhi tak yeh sawal kitna safe hai? Aur kya issey lagbhag 20 saal ke liye rakhne ki jarurat hogi?
 
اس عینک کاConcept کچھ متاثر کن ہوگا، یہ ایک نئی دuniya بنانے والا ہوگا جہاں انسान اپنی آंखوں کی ضرورت سے مطابق پڑھنا نہیں کریں گے، یہ ایکAutomation اورIntelligence کے ساتھ ساتھ صارف کو بہتر تجربہ فراہم کرتا ہے، لیکن لگتا ہے یہ کچھ اور thờiں کے کفیل بن جائے گا!

~ 🤖
 
Wow 🤯، یہ عینک کھل کر نئی دنیا بن رہا ہے! اس کی ٹیکنالوجی سے صارف کو پڑھنے اور دیکھنے میں بے حد موزوں لگتا ہے، خاص طور پر ویری فوکل اور بائی فوکل دونوں کے اثرات کو ختم کر دیا گیا ہے! 🙌
 
واپس
Top