سڑکوں کی کشادگی کو عذاب بنانے والی ترقیاتی منصوبہ بندی
کوئٹہ میں سڑکوں کی کشادہ کرنے کا منصوبہ عوام کے لیے عذاب بن گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر نے گرد و غبار میں بدل دیا ہے اور ٹریفک نظام درہم برہم ہو گئا ہے۔
شہریوں کی ایسی صورتحال پائی جاتی ہے جیسے کہ ایسے سڑکوں کو توڑ کر چھوڑ دیا گیا ہے جو وہیں سے ہی رہتے تھے اور ٹریفک پر ٹھیکیداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ملبہ نہیں کیا گیا ہے، جس کے باعث گاڑیوں پر شدید پریشانی پڑتی ہے اور ٹریفک حادثات کی کوئی قیمت نہیں پائی جاسکتी ہے۔
سائنس کالج چوک، پرنس روڈ، زرغون روڈ، سمنگلی روڈ، نیو سبزل روڈ، گوالمنڈی چوک، امداد چوک اور ہائی وے جبکہ ایئرپورٹ روڈ بلیلی میں سڑکیں اکھاڑ کر دی گئی ہیں جو شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گئی ہیں اور ٹریفک نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ بندی عوامی حلقوں کے لیے تھی جس کا مقصد شہر میں سڑکں اور ٹریفک کو کم کرنا تھا لیکن اس کے نتیجے میں شہر کی زندگی ہٹ گئی ہے اور عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عوامی مفاد میں کیے جا رہے ہیں لیکن شہریوں کا موقف ہے کہ بغیر منصوبہ بندی اور نگرانی کے ایسے منصوبے فائدے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
کوئٹہ میں سڑکوں کی کشادہ کرنے کا منصوبہ عوام کے لیے عذاب بن گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر نے گرد و غبار میں بدل دیا ہے اور ٹریفک نظام درہم برہم ہو گئا ہے۔
شہریوں کی ایسی صورتحال پائی جاتی ہے جیسے کہ ایسے سڑکوں کو توڑ کر چھوڑ دیا گیا ہے جو وہیں سے ہی رہتے تھے اور ٹریفک پر ٹھیکیداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ملبہ نہیں کیا گیا ہے، جس کے باعث گاڑیوں پر شدید پریشانی پڑتی ہے اور ٹریفک حادثات کی کوئی قیمت نہیں پائی جاسکتी ہے۔
سائنس کالج چوک، پرنس روڈ، زرغون روڈ، سمنگلی روڈ، نیو سبزل روڈ، گوالمنڈی چوک، امداد چوک اور ہائی وے جبکہ ایئرپورٹ روڈ بلیلی میں سڑکیں اکھاڑ کر دی گئی ہیں جو شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گئی ہیں اور ٹریفک نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ بندی عوامی حلقوں کے لیے تھی جس کا مقصد شہر میں سڑکں اور ٹریفک کو کم کرنا تھا لیکن اس کے نتیجے میں شہر کی زندگی ہٹ گئی ہے اور عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عوامی مفاد میں کیے جا رہے ہیں لیکن شہریوں کا موقف ہے کہ بغیر منصوبہ بندی اور نگرانی کے ایسے منصوبے فائدے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔