کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ ڈویلپمنٹ پاکج کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہوگئے ہیں، فنڈز کی کمی اور موسم کی وجہ سے شہری مشکلات سے دوچار رہنے والے شہر کو کئی ماہ کی کوشش کے بعد بھی ٹریفک کی روانی میں تبدیلی نہ ہوئی۔
وزیر اعلیٰ ڈویلپمنٹ پاکج کے تحت سمنگلی روڈ، جناح روڈ اور زرغون روڈ کی توسیع، سریاب روڈ کی ڈرینج اور سروس روڈ کی تعمیر اور نیو سبزل روڈ سے ائیر پورٹ روڈ تک نئی شاہراہ کی تعمیر جاری ہے، لیکن کئی ماہ گذشتے بھی یہ تعمیرات مکمل نہ ہو سکتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی انفراسٹرکچر کی تعمیر سے دو ماہ میں کام مکمل ہوجاتا ہے، لیکن کوئٹہ میں یہی نہیں ہوا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ ڈویلپمنٹ پاکج کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ نے کہا کہ سرد موسم اور فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے یہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل نہیں ہوسکے، تاہم دو ماہ کے اندر سمنگلی روڈ اور جناح روڈ کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی، اس ساتھ ساتھ زرغون روڈ کی سڑکوں کی تعمیر میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔
ہاں کی، یہ تو واضح ہے کہ کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں پر لگ بھگ ساتھ نہیں ہوئی ۔ میرا سوال کیا کرتا ہوں کہ آج تک تاکہ یہ منصوبے مکمل نہ ہون، کوئٹہ میں کتنے لاکھوں پائس کسے دی گئیں؟ اور ان منصوبوں کی نہ صرف ترقیاتی رکاوٹوں سے نکلنا بھی چاہئیے بلکہ شہر میں جینج جانپھنکی کا خاتمہ ہونا ہی چاہئیے!
اس وزیر اعلیٰ ڈویلپمنٹ پاکج کا کوئٹہ میں کچھ بھی نہیں لگ رہا ہے? ماحول کی حالات کے باوجود ان میں سہولیات کی تعمیر کرنے پر تاخیر کیسے آئی؟ یہ رکاوٹیں پھر بھی شہریوں کو کچھ نہ لگ رہی ہیں، ٹریفک کی روانی میں تبدیلی کا ایسے میزبان کیسے بن سکتا ہے جس میں کام مکمل کرنے پر چار ماہ لگ رہے ہیں؟ انہیں شہر کے بہتر بنانے کے بجائے ایک ٹرافیک میلوں کی گاڑی چلائی جاسکتا ہے، پھر کوئٹہ کس طرح بن سکتا ہے؟
اس ملک کو چاہتے ہو تو کچھ ٹرافک پریس کرنے دیتے ہیں نہیں، کوئٹہ میں بھی سرفہرست شہر ہونے کی بھی کوئی بات نہیں ہے اور یہاں کے شہریوں کے لیے دو ماہ کا ٹائم لگتا ہے جو ملک کے دیگر حصوں میں دو ماہ میں مکمل ہوجاتے ہیں تاکہ شہر میں بھی وہی سا ٹریفک پریس ہو جائے؟
عزیز قوم کو شام کا خوف اور حقیقت ایک دوسری ہے، پھر یہ سوجھ لگ رہی ہے کہ فون کس کی چار نہیں اُندھرے؟ میں بھی اپنا فون نہیں بیٹھا تھا، نہ ہی اس کا ویریونگ لیسٹ ہے۔ لگتا ہے کوئٹہ کی ترقیات چل رہی ہیں تو شہر میں سیرفیسز چل رہی ہیں نہ تو؟
سریاب روڈ کا ڈرینج کیسے بنتا ہے؟ پھر یہ سرور کا ویریونگ لیسٹ کیوں نہیں؟ میرے بھائی کا سایف کس کی چار جاتا ہے، اس میں اور نہیں دیکھتا؟
تمام سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کوئٹہ کے شہری اور وزیر اعلیٰ کے بینچ مینس پر چل کر رہتے ہیں، جب تک بھارتی ساتواہ سگنل نہیں پھونٹا؟
علاوہ ازیں یہ بھی سوچنے کا کام ہے کہ کہیں نا کہیں ماحول پر اثر پڑنے سے قبل یہ منصوبے مکمل ہو کر بھی شہر میں ٹریفک کی روانی میں کوئی تبدیلی نہ ہوجائے تو یہ کبھی بھی کام نہیں آئے گا
کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ ڈویلپمنٹ پاکج کا یہ منصوبہ، جو شہر کو ایک Modern اور آسان شہر بنانے کی اپیل سے لATA ہوا تھا، اب وہی پتا چلا ہے کہ اس میں بھی کمزوریاں ہیں!
سرد موسم اور فنڈز کی کمی کے باعث یہ منصوبے سست روی کا شکار ہو گئے، جو بھی نئے لینے والے شہر کو متوقع رہتے ہوئے تباہ کر رہے ہیں.
لگتا ہے کہ یہ شہر جس کا منصوبہ لیتے ہوئے سب نے ہی کہا تھا کہ یہ شہر مگرہم بھرے ہو گئے۔
مینے کوئٹہ کا لالچی ہے اس شہر میں رہنے کی کوشش کرنا ہے تو سست روی دیکھ کر بہت frustrate ho gaya hoon, سڑکوں کی تعمیر میں دو ماہ کے اندر نا ہونے پر انصاف ہوگا? کیا شہریں کو ساتھ ہی رہنے والے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ترقیاتی منصوبوں میں دو ماہ میں کام مکمل ہونے پر ہمت نہیں ہے؟