یوپی کے مرادآباد میں بین المذاہب جوڑے کا - Latest News | Breaking News

کوا

Well-known member
مراد آباد ضلع میں ایک غیرت کے نام پر قتل سے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس میں دو مظلومین کی لاشیں دریا کے کنارے ایک اتھلی قبر سے باہر نکال کر دبائی گئیں۔

ایک نوجوان مسلم مرد ارمان (24) اور ایک ہندو خاتون کاجل (18) کی لاشیں اس معاملے میں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں کے درمیان تقریبا دو سال سے تعلقات تھے اور انہوں نے ایک دوسرے سے شادی کی تھی، لیکن یہ تعلقات اس وقت جھیلتے جبکاجل کے گھر جانے پر ارMAN کے بیٹھنے کی واقفہ نہ ہونے کی وجہ سے تھی۔

جس طرح انہوں نے اس تعلق کو جوڑا، اسی طرح انہوں نے اسے توڑنا بھی کیا۔ لگتا ہے کہ ارMAN اور کاجل کی شادی میں ایسا ہی واقعہ رونما ہوا تھا جو اب تک ریٹل سائنس کے لئے نئے ہیں۔

بھرپور معاملے کی سمجھ میں آتے ہی ایک بیس ارب سے بھی زیادہ فیکٹری اور انہوں نے چاہے وہ شہر کو ہلا کر رکھ دیں یا اس میں لین دین کرتے جانے والی بے دردی کا ایک سب سے اچھا اور سب سے منفرد пример ان میں شامل ہے۔

بلاشبہ ایسے معاملات کی وجوہت کو سمجھنا بھی مشکل ہے، لیکن اس حقیقت کو پہچاننا ضروری ہے کہ معاملات اور ایسے حالات جس سے ہم محترمین ناہیندہ اور ہرکبھی ناجائز تعلقات کو بڑھانے والوں کا شکار ہوتے ہیں۔
 
ارMAN کی وفات سے تو ایسا معلوم ہے جو سے اچھی نہیں ہوتا، دو سال تک کئی ایسے واقعات ہو چکے ہوں گے جیسے یہ کہ ان کے درمیان اس سے بھی بڑھنا پڑگا کہ وہ کئی دفعہ میدانی لڑائی کا شکار ہو جاتے ۔

مگر یہ معاملہ ایسے ہوا کہ اس سے کسی کو بھی ان کی وفات پر گنجان تفرقہ نہ لگتا، مظلومین کے ساتھ اس معاملے میں بھی یہی بات پڑی ۔ آج پہلے اس جگہ پر اسی سے ہونے والے ایسے واقعات نہیں دیکھے گئے کہ لڑائی کا شکار ہو کر کتنا بھی کبول ہوتا ہے۔

اس معاملے میں ایسا لگتا ہے جیسے اس کی پھانسی ایک عمدہ دھن پر دی گئی ہو، مگر یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ معاملات اور اس سے جुडی معذوریات کو سمجھنا ضروری ہے۔
 
🤕 یہ حقیقت کافی دکھی دکھائی دے رہی ہے کہ کیسے ایسے معاملات ہو سکتی ہیں جو سب کو شوک میں لانے والی ہیں اور اس سے ہم محترمین کو بھی سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کیسےPossible ہو سکتی ہے۔

منے توجہ دی جائے تو یہ معاملہ ایک نوجوان کی جان سے شروع ہوتا ہے جو اس پر مظالم کھا رہا تھا، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے اس معاملے کو مزید بدل دیا اور اب وہ شہر بھی لاکھ لاکھ رونے کے بعد ہی ختم ہو گیا ہے۔

اس پر منظر انداز نہیں کرسکتا، بلکہ اس کو سمجھنا ضروری ہے اور اس سے ان باتوں کو بھی سوچنا پڑتا ہے جو ہمیں دیکھنے نہیں آتیں۔
 
یہ دوسرا جیسا معاملہ ہوا جس سے ہم پریشان ہیں، یہاں بھی دو جوڑوں کا ایسا ہی واقعہ رونما ہوا جیسا اس نوجوان کے اور ہندو خاتون کی شادی میں توڑنا تھا جو اب تک ریٹل سائنس کے لئے نئی چجی ہیں. پھر ناہیندہ تعلقات کو بڑھانے والوں کی بات کرتے ہوئے اسے توڑنا کس لیے ضروری ہے، یہ بات تو پتہ چلتا ہے نا۔
 
مراد آباد ضلع میں ہونے والی یہ حقیقت ایسے معاملات کی تلافی ہے جو کہ پہلے سے ہی ناامید اور منفی رہاسے سے لے کر لین دینی یا دھمکی دینے تک پہنچتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ معاملے اس وقت زیادہ عام نہیں ہوتے جب سے لوگ ایسے رشتوں کو پکڑتے ہیں جو ان کے لیے کسی کو بھی ہارنے پر مجبور نہیں کرتے۔
 
یہ دیکھتے ہی سے چالاکوں کا یہ دور تو کچھ عرصہ پہلے ہی شروع ہو گیا تھا، لہٰذا شہر کو ایسے ہلا کر رکھنا بھی کچھ عمدہ اور منفرد نہیں ہے۔ اس کی واضح وجوہات یہ ہیں کہ ہم لوگ اپنی خواتین کو اہل خانہ اور معزز سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
 
مراد آباد ضلع میں ایسے فیکٹری جس پر بھرپور معاملے رونما ہوئے وہاں رہنے والوں کے لئے یہ ایک خوفناک پہلو ہے، نا کہ اس سے صرف معاملات میں پھنسنا ہوتا ہے بلکہ یہ اس جگہ کی آدتیشیت اور فیکٹریوں پر بھی اثرانداز کررہا ہے، اس لیے یہ معاملات ان کے رہنے والوں کو بھی ایسا محسوس کرائے گی جو وہاں رہتے ہیں۔
 
عصمت کی خواہش سے قتل ہونے والے شہر کو توڑنا ایک دھچکہ ہے جو آپ کو جھری پھیلا دیتا ہے اور اس کا کوئی حل نہیں ہوتا، مگر وہی بات ہے جو اس معاملے میں ہوا ہو۔

جس شخص کی شادی ایک دوسرے سے ہو سکتی ہے اسی طرح وہی شخص اسے توڑ کر دھمکیاں بھی دے سکتا ہے، اس کی لگن کتنی تنگ کر دی جائے، اور پھر وہی جس نے شادی کیا تھا اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس معاملے میں یہ بات تو صاف ہے کہ شہر کو ہلا کر رکھ دیا گیا ہے، ایسا کیوں؟

چہیچوں پھلنے والی معاملات کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے لیکن وہی بات ہے جو اس میں سے کوئی نہیں سمجھتا کہ ایسے حالات اور شادیوں کو توڑنا کسی کی بھی معیشت یا شہر پر اثر نہیں ڈالتا، مگر وہی بات ہے جو اس معاملے میں ہوا ہو۔
 
یہ معاملہ تھا جس سے ہم سب پرتھونے میں رہ گئے۔ دو لوگ جو ایک دوسرے کے لیے چاہتے تھے، وہیں یہدور ہو گئے. اور نتیجہ ایسا ہوا کہ شہر کا ایک بلڈ گریوس ہو گیا. اس کی پھیلائی بھی بے دردی کو ہدایت کرتی ہے. میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملے کی وجوہت سے محافل بھی ہوتے ہیں جس سے ہم محترمین دباؤ میں آتے ہیں.

اس لیے اچھا ہے کہ ہمیں اپنے گھروں اور معاشرے کی ایک پوزیشن بنائی جائے جس میں ہم اپنی زندگیوں کو انحصار نہ کریں۔
 
یہ معاملہ بے توجہ اور غضب کی فضا میں رونما ہوا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ شہر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو معاشرے کے لئے بھی فائدہ نہیں ہوتے، وہ صرف آپسی کھوئے دلوں کو ڈاؤن پر رکھتے ہیں اور اس سے شہر بھی پीडا ہوتا ہے
 
ایسا تو دیکھا ہوا ہے، یہ معاملہ تو ایک دوسرے کے ساتھ رشتے کا زہر پھیلایا ہوا تھا، اب وہی رشط نہیں، اچھا یہ سب اس بات پر گہرا ذہن رکھنا کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے منہ سے ہی یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ معاملات کی وجوہت کو اور بھی سمجھنے کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟
 
یہ معاملہ جس سے ہوا ہوا ہے وہ ایک غلطی ہے، ایک نااندتی کی گھاس۔ دو انسانوں کے درمیان جو تعلقات تھے ان کو ایسا ہی ختم کر دیا گیا اور اب ان کی لاشیں دریا میں ڈالی جائیگیں، یہ تو کیا بتاؤ ہم اس معاملے سے محروم نہیں ہو جائے؟ یہ سارا معاملہ جو بھی ہوا یہی ہوا تو اور اس کا تعلق ایک شادی سے ہی نہیں تھا، لگتا ہے کہ یہ کیسے ایسا ہوا کہ اب دوسرے لوگوں کو بھی اس طرح کی گھاسوں میں چلا جا سکے؟ 😔
 
واپس
Top