ایک غیر معمولی انکشاف سے روس اور یوکرین کے بیچ کا راز کھل گیا ہے، جس میں ابوذبی میں خفیہ مذاکرات ہوئے تھے جن کی سرگرمی یوکرین نے شروع کی تھی اور اس پر روس بھی ایک طرف سے کچلنا چاہتا تھا۔ امریکی انتظامیہ کا بھی ایک نمائندہ ان مذاکراتوں میں شامل تھا، جس پر روسی صدر نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔
بشمول روس اور یوکرین کے ابوذبی کے درمیان ایک غیر معمولی مذاکراتی عمل ہوا، جس میں ان ساتھ انحصار اور تنازع کی حل کو شامل کرنا تھا۔ اس عمل کا آغاز یوکرین نے شروع کیا تھا اور اس پر روس نے ایک طرف سے کچلنا چاہتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایک نمائندہ ان مذاکراتوں میں شامل تھا، جس پر روسی صدر نے حیرت کا اظہار کیا۔
روسی صدر نے بتایا کہ موجودہ امن منصوبے میں روس کی جانب سے کوئی توسیع ہوئی، لیکن یوکرین کے لئے اس کی نوعیت اور تشکیل واشنگٹن کا فیصلہ ہوگا۔
روسی صدر نے مزید بتایا کہ یوکرینی حکومت کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا، جس کی وجہ سے یہ بات متضاد ہوتی ہے کہ یوکرین کو صرف پارلیمان ہی اپنے اختیارات بڑھا سکتی ہے یا اس کے لئے ایک نئی حکومت کی ضرورت ہوگی اور اس کی مدت صدارت ختم ہو چکی ہے۔
روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ جنگ کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی جب تک یوکرینی فوج موجودہ محاذ سے چھوٹا نہیں ہے، اور اس وقت پر اس کے بعد روس کی فوجی طاقت کے ذریعہ اس مقصد حاصل کر لیجائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روسی فورسز زاپوریزیا کے قصبے ہولیا پولے پر قبضہ کر چکی ہیں اور اس کی طرف جانے میں روس کو مزید خطرے کا سامنا نہیں ہوگا، جبکہ یہ ایک بھی خطراتناک صورتحال بھی بن سکتی ہے۔
اب دوسری جانب یورپی ممالک نے ان مذاکرات کے بعد کسی قسم کی شکایت نہیں کی اور ان ساتھ انحصار پر بات چیت جاری رہے گی، تاہم اس میں کچھ نقطوں پر بحث جاری ہو سکتی ہے۔
بشمول روس اور یوکرین کے ابوذبی کے درمیان ایک غیر معمولی مذاکراتی عمل ہوا، جس میں ان ساتھ انحصار اور تنازع کی حل کو شامل کرنا تھا۔ اس عمل کا آغاز یوکرین نے شروع کیا تھا اور اس پر روس نے ایک طرف سے کچلنا چاہتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایک نمائندہ ان مذاکراتوں میں شامل تھا، جس پر روسی صدر نے حیرت کا اظہار کیا۔
روسی صدر نے بتایا کہ موجودہ امن منصوبے میں روس کی جانب سے کوئی توسیع ہوئی، لیکن یوکرین کے لئے اس کی نوعیت اور تشکیل واشنگٹن کا فیصلہ ہوگا۔
روسی صدر نے مزید بتایا کہ یوکرینی حکومت کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا، جس کی وجہ سے یہ بات متضاد ہوتی ہے کہ یوکرین کو صرف پارلیمان ہی اپنے اختیارات بڑھا سکتی ہے یا اس کے لئے ایک نئی حکومت کی ضرورت ہوگی اور اس کی مدت صدارت ختم ہو چکی ہے۔
روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ جنگ کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی جب تک یوکرینی فوج موجودہ محاذ سے چھوٹا نہیں ہے، اور اس وقت پر اس کے بعد روس کی فوجی طاقت کے ذریعہ اس مقصد حاصل کر لیجائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روسی فورسز زاپوریزیا کے قصبے ہولیا پولے پر قبضہ کر چکی ہیں اور اس کی طرف جانے میں روس کو مزید خطرے کا سامنا نہیں ہوگا، جبکہ یہ ایک بھی خطراتناک صورتحال بھی بن سکتی ہے۔
اب دوسری جانب یورپی ممالک نے ان مذاکرات کے بعد کسی قسم کی شکایت نہیں کی اور ان ساتھ انحصار پر بات چیت جاری رہے گی، تاہم اس میں کچھ نقطوں پر بحث جاری ہو سکتی ہے۔