پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لیا کیا؟
انگریز کرکٹ ادارے کی طرف سے نکلتے ہوئے تنازعے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے تعلقات کو معاشی طور پر منسلک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنے چار میچوں کے لیے بھارت (اوہ) منتقل کرنا تھا۔ تاہم اس تنازعے کو ایک اور وقت میں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب یہ معاملہ ایک نئے دور میں آیا ہے جس میں تمام ممالک کا ایک ایک ساتھ تعاون حاصل ہو سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ایک نئی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد پوری جمہوریہ پاکستان میں کرکٹ کے اساتذہ اور انہیں منسلک کرنے کا یہ فیصلہ لے کر کھیلوں کو ایک اچھی شکل دی جائے گی۔ یہ فیصلہ اچھی طرح سمجھ لیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے حوالے سے بھی ایک نئی ملاقات منعقد کی گئی ہے اور یہ معاملہ اب ایک اچھے معاہدے سے समاجے میں اتر جائے گا۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے اس نئے فیصلے سے ساتھ ہی بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی) کو کامیابی ملی ہوگی اور یہ فریق ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے کھیل میں سادہ ثقافتی رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اس کرکٹ ورلڈ کپ کی جیتنے والی ٹیم کو ہم نے چھوٹی پھوری کی گئی thi, اب وہ ہار گئی thi ، لیکن یہ بات اس پر مبنی نہیں کہ وہ ٹیم نہیں چھوٹی پھوری کی thi بلکہ ان کے پاس بھارت اور انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ کرنا تھا جس کو وہ نہیں کبول سکے! ہم کتنی پیار کی کوشش کر رہے ہیں ایک دوسرے کا معاونت اور ساتھ دینے والے، مگر یہاں اب تک کچھ نہیں ہوا!
میں وہ کرکٹ میچز پر بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن میں پتہ چلا ہويا ہے کہ پاکستان کی ٹیم نے اس ورلڈ کپ میں بھارتی کرکٹ بورڈ سے ایسا تو لگتا ہی کہ وہ اپنے چار میچز کو منتقل کرنا چاہتے تھے، حالانکہ وہ اس معاملے کی حل کی کوشش کر رہے تھے۔ اب یہ معاملہ ایک نئی طرف اتر گیا ہے جس میں تمام ممالک اپنے ساتھ تعاون کرتے ہیں، جو بہت اچھا ہے۔
اس ٹی ٹی وورلڈ کپ کو دیکھتے ہوئے یہ تھوڑا سا دلکھتا ہے نہیں، پہلی بار ایسا معاملہ باقی رہا کہ پورے ٹورنامنٹ کو منسلک کر دیا گیا اور اب پھر یہ عیداللہ کی بھی بات نہیں ہوگئی کہ کس ٹیم کو کیسا وارنٹ ملاگیا گا، اور یہ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے بھی کچھ عرصہ لگے گا۔
اس نئے فیصلے سے ٹھیک ہوگا؟ نہیں، یہ صرف دوسری ٹیم کی ناکامگی کو کم کرنے کے لیے کیے گئے فرائض ہیں۔ بنگلادیشی کرکٹ بورڈ کا ایسا معاملہ تو ہونے دوں پر ہے جیسا کہ پہلے ٹورنامنٹ میں ہوا تھی، اب بھی وہی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کو ایسا کہیں نہ پاوگی کہ وہ بھارت کی کرکٹ ٹیم میں ساتھ ہی انفرادی طور پر اپنی فوری دہلی ڈھال لی ہوئی ہے یا انہوں نے ایسا سچ اور نہ سچ کہا ہے؟
اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش میں انہوں نے ایک نئی کمیٹی قائم کی ہے، لیکن اس کا مقصد تو دیکھنا ہی پورا تھا کہ پاکستان اور بھارت میچ کرنے پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں؟
چل چل کر پچھلے دنوں کی اسی طرح کی تنازعات نہیں ہوتے تو بھارتی کرکٹ ٹیم کو کبھی بھی ایسا موقع ملتا۔ حال ہی میں ایک نئی کمیٹی قائم ہونے سے یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ پाकستان کرکٹ ٹیم اور بھارتی کرکٹ بورڈ کچھ نا منصفانہ معاملات میں ہمیشہ کچھ ناکام رہنے کی وجہ سے آئیں ہوں۔ لہذا اس معاملے کو حل کرنا اور سب کے لیے ایک ایسا دور لانا جو کسی بھی فریق کے لیے بہترین ہو، یہ نئے دور کی بات ہے۔
ابھی وہ تنازعے چلے گئے تھے اور اب بھی کرکٹ ٹیم انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، یہاں تک کہ اس نے اپنی سات میچوں کے لیے بھارت کو منتقل کر دیا تھا، لہٰذا یہ دوسری بار ان معاملات کی بات کرتے ہوئے سچمچ ہی رہا ہوگا کہ سب Mills ek saath mehkar karenge to aisa hi karega.
مگر یہ سوچو تو کیا پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں ہار کرنے کی کوشش کی ہے؟ ہر سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں وہاں جانا ایک بڑا فائدہ ہوتا ہے اور یہاں سے واپس آنا کرکٹ کھیلنے والوں کو اچھی ملازمت ملتی ہے، جب آپ اس ٹورنامنٹ میں ناکام رہتے ہیں تو یہی سارا فائدہ واپس چلا جاتا ہے اور کھیلوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے…
ਟੀ ٹی وی ورلڈ کپ کے لیے یہ فیصلہ تو پاکستان کی ناکام لگ رہا ہے، ابھی ایسا کیا جائے گا کہ اور فریقوں کے درمیان کوئی بات چیت ہو سکے? پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی کرکٹ بورڈ سے معاشی تعلقات لگانے کا یہ فیصلہ کیا تو اس سے پہلے بھی اُنہوں نے ایسے ہی معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی تھی، اب تو یہ معاملہ ایک نئے دور میں آیا ہے جس میں تمام ممالک کا ایک ایک ساتھ تعاون حاصل ہو سکta ہے।