پاکستان کے اس کرکٹ کھلاڑی شاہد آفریدی 2009 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی بیٹنگ اور گیند بازی کی ایک نہایت ممتاز کارکردگی کے ذریعے ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، جس سے ان کی اسمیت وہاتھ لگ گئی ہے ۔
اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں اور اسے اپنی بیٹنگ اور گیند بازی میں ممتاز پرفارمنس کرکے انہوں نے ٹیم کو فائنل تک پہنچانے کی جانب سے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے پہلے ہی انہوں نے اپنی بیٹنگ میں ممتاز کارکردگی کے ذریعے ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، جو اس وقت تک ایک نئی وجہ بن گئے تھے کہ پاکستان ٹیم کا یہ ریکارڈ اس وقت تک ہی تو موجود تھا اور اس کا ان کی اس وقت تک ایک ایسی طاقت تھی جس سے وہ کسی بھی کرکٹ ٹیم کو شکست دینے کے لیے تیار نہیں تھے، یہ ریکارڈ ایک اور ریکارڈ بننے کے لیے اس وقت تک موجود تھا جب آفریدی کو 2009 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں لگائے گئے چار چھکے اور ان کی شاندار بیٹنگ کا عزم تھا۔
اس سے پہلے بھی 2007 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت کے یووراج سنگھ نے ایک اوور میں چار چھکے لگائے تھے، جس سے انہیں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک بھرپور مظاہرہ کرانے والے کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔
آئی سی سی نے 2010 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے مائیک ہسی کو اس میچ کا پانسہ پلٹانے والے کھلاڑی قرار دیا تھا، جس سے انہیں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک اور وہاتھ لگا گیا ہے۔
ایسی طرح 2012 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن نے 9 رنز پر 3 وکٹیں حاصل کرکے ایک بھرپور پرفارمنس کیا تھا، جس سے اسے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک اور ریکارڈ بنانے والے کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔
اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں اور اسے اپنی بیٹنگ اور گیند بازی میں ممتاز پرفارمنس کرکے انہوں نے ٹیم کو فائنل تک پہنچانے کی جانب سے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے پہلے ہی انہوں نے اپنی بیٹنگ میں ممتاز کارکردگی کے ذریعے ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، جو اس وقت تک ایک نئی وجہ بن گئے تھے کہ پاکستان ٹیم کا یہ ریکارڈ اس وقت تک ہی تو موجود تھا اور اس کا ان کی اس وقت تک ایک ایسی طاقت تھی جس سے وہ کسی بھی کرکٹ ٹیم کو شکست دینے کے لیے تیار نہیں تھے، یہ ریکارڈ ایک اور ریکارڈ بننے کے لیے اس وقت تک موجود تھا جب آفریدی کو 2009 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں لگائے گئے چار چھکے اور ان کی شاندار بیٹنگ کا عزم تھا۔
اس سے پہلے بھی 2007 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت کے یووراج سنگھ نے ایک اوور میں چار چھکے لگائے تھے، جس سے انہیں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک بھرپور مظاہرہ کرانے والے کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔
آئی سی سی نے 2010 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے مائیک ہسی کو اس میچ کا پانسہ پلٹانے والے کھلاڑی قرار دیا تھا، جس سے انہیں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک اور وہاتھ لگا گیا ہے۔
ایسی طرح 2012 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے سنیل نارائن نے 9 رنز پر 3 وکٹیں حاصل کرکے ایک بھرپور پرفارمنس کیا تھا، جس سے اسے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک اور ریکارڈ بنانے والے کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔