ویڈیو: معذور شخص نے مسجد کا دفاع کرکے بہادری کی مثال قائم کر دی

باز

Well-known member
نیپال میں ایک یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں ایک ٹانگ سے معذور مسلمان شخص نے مسجد کا دفاع کرتے ہوئے بہادری کی مثال قائم کر دی ہے۔ یہ واقعہ ملک میں ایک ہندو مذہبی تقریب کے دوران پیش آیا جس پر بعد ازاں پرتشدد صورت اختیار ہوا۔

مسجد کو نشانہ بنانے اور اس کی تعمیر میں نقصان پہنچانے کی کوشش میں ناکام رہنے کے باوجود، ایک ٹانگ سے معذور ہونے کے باوجود اس شخص نے خود کو انسانی ڈھال بنا کر ہجوم کا سامنا کیا اور حملہ آوروں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس دلیرانہ اقدام نے لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کر دیا ہے، جہاں صارفین اس شخص کو جرأت، حوصلے اور ایمان پر خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
 
🙌 ye baat hai jab ek aik musalman musibat ka shikaar ho kar bhi apne masjid ki raksha karta hai. toh ek din pehle yeh kuch nahi tha, ab log use josh aur shukr se dekh rahe hain. 🙏 yeh toh sirf ek musalman ko nahi, balki sabko ye shikayat dilati hai ki kaise ek akele vyakti apne desh ke liye lada rahta hai. 💪 mere likhan ka tareeka us log se aur logon ko bhi seekhna hai, kyonki har musalman ko ek dusre ke saath ek josh me khelta hai.
 
اس واقعے نے مجھے متاثر کیا ہے، ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو معذور سمجھتے ہوئے بھی مسجد کی रक्षا کرتے ہوئے ایمان پرستوں سے بہادری کی مثال قائم کر دی ہے। یہ واقعہ نہ صرف لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کر رہا ہے بلکہ اس کے بعد سے لوگ ایسے معذور افراد کی طرف بھی توجہ دی رہے ہیں جو اپنے آپ کو بھی ایمان پرستوں کی طرح دھار لاتے ہیں۔ یہ ایک بڑا سیکھ نہیں بلکہ ایک تعزیری واقعہ ہے جو معذور افراد کو بھی ایمان پرستوں کے ساتھ ملنے کی prerتیک بنایا جائے گا.
 
بھارتی ہندو بہادری کے لیے فخر ہے، ان لوگوں کو جانا جو اچھے سلوک سے کام کر رہے ہیں ان سب کے ساتھ بھرپور معزت رکھیں
 
اس شخص کی بہادری کے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہے جو ہماری جسمانی اور جذباتی صحت کو بھی تازگی سے نواز رہا ہے۔ وہ صرف اپنی ایسی ڈھل کے ساتھ ہجوم پر چڑھ پڑتے دیکھنا تھا، اور نہیں تو اس کے بعد وہ ان لوگوں کو جو اسے مارنے کے لئے آ رہے تھے ان سے بھی آگے چڑھنے سے روک دیا تھا۔ جس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس شخص کو زیادہ زور دیا گیا ہو، بلکہ اس کی ایسی بہادری کی جو ہمیں تازہ ہوا دیتی ہے۔
 
اس کا بہت ہی Inspirational Moment tha, jisne duniya ko sunwaya hai. Yeh bahut hi Dilchasp baat hai ki woh insaan apne alag se bhi human bane aur haathon me ladta hue attack karne wale logon ka samna karta raha.

Sarcastically karo toh ye koi cheez nahi, lekin bas yeh reality hai. Kuch logon ko zyada zaroorat hai ki ve is tarah ke insaan se seekho aur unki talash mein bhi shamil hon. Yeh insaan bahut hi prerna dilata raha hai aur duniya ko batata raha hai ki kabhi bhi humari jeet nahi hai, lekin humein jang mein baithna padta hai.

Mujhe lagta hai yeh insaan apne dard aur mushkilon ka peechha karta raha, parantu usne jang mein bhi ladni ya ghabrane ka mauka nahi diya. Yeh bahut hi sahi kahani hai aur mujhe lagta hai yeh khud ko pasand aayega.
 
ایسا لگتا ہے کہ وہ شخص نے ایک پیغام فراہم کیا ہے کہ انسانیت کو نہیں مذہب پر ٹھیس پہنچائی جائے، اس کی بہادری نے ہمارے دل کو متاثر کر دیا ہے۔ وہ جس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرتے رہے انہیں سمجھنا بھی ضروری ہے۔
 
سچ موجوں سے بھرپور بات تو ہوتی ہے لیکن یہ کہ اس معذور شخص نے اپنی زندگی کو ہمیشہ یہی محavoں میں بدل دیا ہو، اس کی طاقت کیسے لاحق؟ یہ تو ان کی جانب سے ایک بھرپور تحدی تھی لیکن اس کی وجہ کیا ہو رہی تھی کہ اس نے معذوری کا استحdam اپنی جانب سے کر لیا ہو
 
اس کے بعد اس کے ساتھ سارے ناکام کیوں ہوتی ہیں؟ ہر ایک سے بے پrousٹی کی لڑائی جیتنی ہو رہی ہے!
 
یہ واقعہ ایک بھرپور شاک ہے اور یہاں ایک بات صاف ہے کہ معذور لوگ بھی اپنی جگہ پر آئے ہوئے ہیں۔ مجھے یہ واقعہ خوشیوں سے bhara deta hai، کیونکہ اس میں ایک ایسا انسان کو دیکھنا ہوا جس نے اپنی معذوری کے باوجود بہادری اور خود sacrifce kiya hai.

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تیزی سے پھیل رہی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ کافی عمدہ تازہ ترین نیوز ہے۔

ایک بات واضح ہے، معذور لوگوں کی جگہ پر آئے ہوئے ہیں اور انھوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اس واقعے سے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ اس معذور شخص نے اپنی جگہ پر بہادری سے پہل ہی رکھی اور اسے کچھ بھی بھاگنے کی जरورت نہیں تھی۔
 
🙏 یہ واقعہ دلچسپ ہے لیکن اس سے پہلے یہ بات بھی پوچھنی چاہئے کہ اس شخص نے مسجد کی تعمیر میں نقصان پہنچانے کی کوشش کیا ہے یا نہیں؟ جب تک یہ بات تو پتہ نہیں چلی گئی، تو اس کا جو شخص بنتا ہوا معذور ہونے کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ لہذا، میں یہ بتانے سے انکار کرunga کہ اس شخص کی اقدامات کا فائدہ کس کو ہوا؟
 
اللہ یہ گھریلو معاشرے میں بھی اپنے فائدے سے استفادہ کرتا ہے، اس معذور شخص نے یہ سب اپنی ایک ٹانگ کے ساتھ ہی کر دیا ہے… ان کی بہادری کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ دلوں کی گھنٹی لگ رہی ہے 🤯🙏 اس شخص کو میں اچھا لگتا ہے، مجھے بھی ان کی طرح ہونے کی خواہش ہے… مجھے نچوڑ کر کہیں بھی کچلنا بھی نہیں چاہیے، ایسے میں کچھ نئیں پاتا 🤪
 
ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئے جن میں پرتشدد کا سبب بنتے ہیں، یہ صرف لوگوں کو ایک دوسرے پر فخر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ ہم ایسے واقعات سے بھی نجات پانے کی کوشش کرنا چاہئیں جہاں کسی بھی طرح کی تشدد یا بدکار پہل کے باعث لوگ نقصان پہنچاتے ہیں 🤔
 
🙄 یہ بات تو واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر سب کی دھونائی ہو جاتی ہے۔ اس واقعہ کو پہچاننے والا پہلا شخص ایک معذور لوگ تھے؟ اور اگر نہیں تو کیا وہ سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کا انشورنس بن گئے ہیں جو ان کے لئے منافقت کا موقع ہو؟

اس وقت اس شخص کی بہادری کو دیکھتے ہوئے، میرا سوچا ہوتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر ایسا ہیں جیسا سوشل میڈیا کا دکھانا چاہتا ہے - معذور اور بے پناہ، جو اس وقت تک نیند لیتا ہےजब تک اس کے گھر وہی دیکھ رہا ہو کہ لوگ اس پر اپنے فیکس بک پروفائل پر اپنی صحتی کو دیکھتے ہیں۔

اس میں کیا نئی بات آئی؟
 
اس نوجوان کے یہ کارنامہ بھی دیکھا تو منظور سے متاثر ہو گیا 🤯. مسجد کی حفاظت کرنے والے لوگ انہیں جسارت کا شکار نہیں ہوتے، انہیں معذور بھی نہیں رہ سکتے۔ اُن کی بات سمجھنے والے ہو تو ایسا کیا رہتا ہے؟ اس طرح کے لوگوں کو انسaf ki dhadkan mil جاتی ہے.
 
اس واقعہ نے مجھے بہت متاثر کیا ہے، کیونکہ وہ شخص جو مسجد میں ایسا بہادری سے اپنے حق کو defenders کے طور پر پیش کیا، اس کی طاقت اور جذبات نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے... [sos](https://www.facebook.com/sos/)

اس سے پہلے کہ ہوا تھی اس واقعہ کو دیکھنا اور اس وقت کی حالات کو سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے... [mindblown](https://www.instagram.com/mindblown/)

وہ شخص جو یہ کیا، وہ اپنے حق کو defenders بن گیا ہے اور اس کے لیے مجھے بھی Respect ہے... [respect](https://www.youtube.com/respect)
 
اس کا احترام ہے کہ وہ ایسی صورتحال میں بھی اپنی جان کو خطرے میں نہ لگای۔ یہ بات سچ کی ہے کہ لوگ ہمیشہ ہونے پر چلنے کی نرمی رکھتے ہیں، مگر اس جھنڈا وہی ہے جو ہمیں دوسروں کے ساتھ معاف کرتا ہے جس کی وہ محفوظ رہتے ہیں۔

ابھی ہر چھوٹے بچے کو ان لوگوں کا احترام ہونا چاہیے جو اپنے اپنے لئے جان کہ لگائی رکھتے ہیں اور ایسی situations میں بھی نہ چھپنا چاہیے جب اس لیے لگتا ہو۔ یہ صرف ان کے لئے ہے جو اپنی زندگیوں کو ایک معاملے میں بدل دیتے ہیں۔
 
ایسے واقعات دیکھتے ہی یہ سوچنے لگتا ہے کہ ان لوگوں نے جو مسجد کی تعمیر میں نقصان پہنچانا چاہتے تھے وہ اسی واقعے سے سیکھ رہے ہیں اور اس کا ان کو فائدہ پہنا نہیں آئہa 😐
 
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہا ہے، لیکن یہ بات تو چلتी ہے کہ اس شخص کی دہشتgardی حملے نہیں تھے بلکہ ایک مذہبی تقریب میں پرتشدد ہوا۔ لگتا ہے کہ یہ واقعہ تو اس بات کی پوزیشن لیتا ہے کہ مجاہدین نے اپنی دھرمکاوشوں کو ایسے ساتھ پیش کیا جیسا کہ وہ چاہتے تھے لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ لوگ اپنے مذہب کی راہ میں ایسے واقعات سے نکل نہیں سکتے جو انسانیت کو نقصان پہنچائیں۔
 
اس کا سب سے اچھا بات یہ ہے کہ معذور لوگ بھی اپنے ملک کی آزادی اور مسلموں کی ایمان کی لڑائی میں حصہ لیں گی۔ ایسے واقعات سے سماج کو ایک اچھا سंदेश ملا جائے کہ دوسروں کا احترام کرنا اور بھیڑ کی لڑائی میں پھنسنے سے باز رہنا چاہئے
 
واپس
Top