کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں گیس لیکج کے باعث دم گھٹنے سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق - Daily Qudrat

پھول عاشق

Well-known member
کوئٹہ میں ایک خاندان کا ایک واقعہ ایسا ہوا جس سے شہر کو گھیر کر رہا ہے، جو یہ کہ نواں کلی میں گیس لیکج کے باعث دو بچوں سمیت چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ سونپور لیبر کالونی میں واقع ایک گھر میں ہوا جس پر عبدالخالق روڈ کا نتیجہ ہوتا ہے، جہاں گیس سلنڈر لیک ہونے سے دم گھٹنے سے دو بچے اور ایک خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں بن یامین، شاہد اور شبانہ شامل ہیں جبکہ دونوں بچے قربانی جائے گا۔

اس واقعے کے بعد ایمڈیٹیو ٹیموں نے لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا اور ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔ بلوچستان میں سردی کی شدت بڑھتی جارہی ہے اور اس نے شہریں کو سوگوار کر دیا ہے، جس کے ساتھ گیس لیکج اور دم گھٹنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
 
اس واقعے سے شوق ملا تو شوق وہی ہے جس کے لئے کوئٹہ کی کوئی یाद نہیں۔ وہاں ہر گھر ایک دوسرے سے بھگت رہا ہوگا، جب تک کہ اس کی پوری سانس بھی نہ مل سکے گئی اور ان چار کے جسم بھی ٹوٹنے پر قائم نہ ہوں۔ میرے لئے وہ واقعہ ایک دھچکا ہوگا جو اس شہر کو ہمیشہ یہی ادراک دے رہا ہے کہ یہاں میری زندگی بھی ہمیں اپنی طرف لے جائے گی۔
 
اس واقعے سے کوئٹہ کی ایک دوسری جانب کے، یہ تو چیلنجز اور مہنگا ایمریجینسنس نہیں بلکہ یہ ہمیں اس بات پر یقین دلاتا ہے کہ کوئٹہ میں لاکھوں لوگوں کے لیے ایک اور دن جس سے یہ شہر اپنی پوری زندگی گزار رہا ہے، اس واقعے نے انھیں اس بات پر یقین دلاتا ہے کہ یہ واقعے کو ختم کرنے کے لیے ہمیں ایک اور روزہ بھر سوچنا پڑے گا، حالانکہ اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ ہم ان واقعات کو ختم کر سکیں گے بلکہ یہ صرف ایک بات اچھی ہے کہ ہمیں ان واقعات کو یقین رکھنا چاہئے، اس لیے کہ ہم کو اس واقعے کی بھی ناوقت کے لیے کھو کر نہیں رہتے
 
یہ عجیب ہے کہ وہ سروسز جو ہم استعمال کر رہے ہیں ان کی گریجویٹ ہوئی ہیں! نواں کلی میں ایسا واقعہ ہوا جیسے کہ دنیا اس بات کو بھول چکی ہے کہ گیس لیکج سے دم گھٹنے کی آزادیت کب تک رہے گی? یہ نہیں کہیں ہو رہا ہے؟ مجھے پتہ چلنا ہے کہ ابھی بھی کوئی اچھی نہیں کیا گیا ہے، نا قیام پانی کی پالیسیوں کو ٹوس کرنے کے بعد یہاں تک آگی ہے؟ میرے خیال میں اچھا ان لاشوں کو چکی جائی ہے، کسی کو بھی اس بات پر فोकس نہیں کرنا چاہیے کہ گیس لیکج سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک گھر میں دو بچوں اور چار افراد جاں بحق ہو جانے پر ان کی سوگ و مصلحت پر فوج بھیجی جائیے!
 
یہ واقعہ تو دہشت گردی کی ایک نئی شکل ہے، گیس لیکج سے بچنے کے لیے ایسے اہمابھاسوں کو کویتا جاتا ہے اور یہاں کی حکومت اس پر زور نہیں دیتی اور ان پر جھٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ یہ کئی سالوں سے سونپور لیبر کالونی میں موجود اس گھر کو بھی کویتا کر دیا گیا تھا، حالانکہ اچھی طرح جانتے ہوئے یہ کیا گیا تھا اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکا ۔ اب تو یہ واقعہ ایسے لاکھ لاکھ پرچھاووں کا باعث بن رہا ہے جبکہ اس کی وجہ سے بلوچستان میں بڑی گمشدگی محسوس ہوئی ہے۔
 
جب تک پانی نہیں ملتا وہاں غم کا ایک سفر، اب یہ کوئٹہ میں ایسا ہونے کے بعد بھی شہر کے چاروں طرف غم نہیں رہے گا تاکہ لوگ اپنے گھروں سے باہر جانے کی اجازت دیں…ایسے واقعات ہوئے تو یہ کہ دھماکے نہیں اور ان میں کوئی ذمہ دار نہیں لیکن ایسے ہونے سے تنگ آتا ہے…اس واقعات پر پابند ہو کر یہ کہنا مشکل ہے مگر ان 4 لوگوں کو جان و مال دونوں سے لے لیا گیا تو ایسے نتیجے اچھے نہیں آتے…اس شہر میں اب غم کا سفر ہے جو کہ بھانے کی پھرنے پر کبھی بھی ختم نہ ہوتا…
 
یہ واقعہ کوئٹہ کی اس شام کے لیے ایک بڑا جھتّ بن گئا ہے، گیس لیکج سے دم گھٹنے سے دو چار افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، ان میں دو بچے بھی شامل ہیں، یہ اس شہر کو ایک دوسرا گھیر کر رہا ہے، شہر میں تھانے ہوئے لوگ نہیں آتے، شہریں کو سوگوار کر دیا گیا ہے لیکن یہ ان پر کیا فائدہ کرتا ہے؟
 
aise bhi kuch nahi hai jise maine nazar na diya, ghar mein gas lagaane ka yeh risk tosura hai aur unki marz sunke to mujhe lagta hai ki ab bas chup hokar kyun nahi rahe? 🙄
 
عجیب عجیب یہ سسٹم ہے جس میں غلطی سے گیس لیکج کے باعث ایسے واقعات ہوتے ہیں، تو اسے کیا چلنا پے؟ اچھا رہے جو لوگ اس کے لئے زبردست تجویز کر رہے ہیں... 😐 یہ سسٹم بڑیProblem ہے، کوئی حل نہیں ملتا اور یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے، تو کیا کیا کرنے دو؟
 
اس واقعے پر فریٹرنٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے، نہ صرف بلوچستان کے شہروں میں بلکہ سارے ملک میں! یہ بھی ضروری ہے کہ اس واقعے پر ڈپٹی کمشنر، ڈپٹی ڈپٹی کمشنر اور پولیس انچارج جیسے عہدیداروں کو دھمکیوں سے بھرا ہوا سمجھایا جائے۔ اس واقعے نے شہروں میں ڈرامہ بن گئے ہیں، اب تو ڈرامہ ڈرامہ سے زیادہ ہیں! 😡🤯
 
ایک نوجوان کی ایمائیڈی نہیں ہوتی تو ایک نسل بھی ہوتی ہے! 🤕
اس غلطی کا جو شہر پورا محسوس کر رہا ہے اس کی تلافی صرف ایک نئی قانون نہیں بن سکتے بلکہ صحت مند زندگی کو بھی ضروری بنانے کی ضرورت ہے!
 
اس واقعہ نے مجھے بہت دھیکھیا ہوا ہے، اس سے شہر میں ایک اور خطرناک مویدہ پیدا ہو گیا ہے۔ آجکل گیس لیک ج کے باوجود یہ واقعات نہیں ہوتے بلکہ پچھلے سال تک ان کے باوجود یہ اور بھی نہیں ہوا کیا تھا۔ ابھی اس واقعہ سے شہر میں دھمکاوٹ ہو رہی ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعات نہ ہونے دیں تو شہر کو بچایا جا سکتا تھا۔ آجکل جب اور بھی یہ واقعات ہو رہے ہیں تو یہ لوگ کیسے سونپور لیبر کالونی کا سامنا کر رہے ہیں، اس پر توجہ دئیے گا۔
 
واپس
Top