لندن میں ایکسچینج ٹرانسفر کورپریشن (ایکس چیٹ) کے صارفین کو واٹس ایپ کے بجائے استعمال کرنا چاہئیے، اور ایلون مسک نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ واٹس ایپ سیکیورٹی پر شک نہیں لگتی۔
ماسحبی صارفین کو انکی چیٹوں کو محفوظ اور نجی قرار دینے والی کمپنی کی یہ دعوت صاف بھری ہوئی پوسٹ پر آئی ہے، حالانکہ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر اس کی تصدیق نہیں مل سکتی۔
ماسحبی صارفین نے یہ دعوت قبول کرنے سے قبل میٹا کی ایک نئی مقدمہ کا معاملہ نظر انداز کیا، جس میں واٹس ایپ اور میٹا دونوں کے سیکیورٹی پر الزام لگائے گئے ہیں۔
ماسحبی صارفین نے انکی چیٹوں کو محفوظ قرار دینے والی کمپنی کی ایک پوسٹ پر نظر انداز کیا، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ صارفین کو چیٹز مکمل طور پر محفوظ اور نجی قرار دیتا ہے، لیکن اس کی تصدیق نہیں مل سکتی۔
ماسحبی صارفین نے اپنے پیغامات کو واٹس ایپ کے بجائے ایک دیگر پلیٹ فارم پر بھیجنا شروع کر دیا ہے، جبکہ بلوم برگ کے مطابق، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صارفین نے ایکس چیٹ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جو ایلون مسک کی یہ پوسٹ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔
ماسحبی صارفین کو انکی چیٹوں کو محفوظ اور نجی قرار دینے والی کمپنی کی یہ دعوت صاف بھری ہوئی پوسٹ پر آئی ہے، حالانکہ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر اس کی تصدیق نہیں مل سکتی۔
ماسحبی صارفین نے یہ دعوت قبول کرنے سے قبل میٹا کی ایک نئی مقدمہ کا معاملہ نظر انداز کیا، جس میں واٹس ایپ اور میٹا دونوں کے سیکیورٹی پر الزام لگائے گئے ہیں۔
ماسحبی صارفین نے انکی چیٹوں کو محفوظ قرار دینے والی کمپنی کی ایک پوسٹ پر نظر انداز کیا، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ صارفین کو چیٹز مکمل طور پر محفوظ اور نجی قرار دیتا ہے، لیکن اس کی تصدیق نہیں مل سکتی۔
ماسحبی صارفین نے اپنے پیغامات کو واٹس ایپ کے بجائے ایک دیگر پلیٹ فارم پر بھیجنا شروع کر دیا ہے، جبکہ بلوم برگ کے مطابق، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صارفین نے ایکس چیٹ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جو ایلون مسک کی یہ پوسٹ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔