واٹس ایپ صارفین کے لیے وارننگ، حفاظتی اقدامات جاری

مکڑی

Well-known member
واٹس ایپ صارفین کو خطرناک سائبر فراڈ ’گوسٹ پیئرنگ‘ کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بغیر کسی سیکیورٹی سسٹم کو توڑ کر واٹس ایپ اکاؤنٹس کو خاموشی سے ہائی جیک کر سکتے ہیں۔

یہ فریڈ نوجوانوں اور بڑی عمر کے لوگوں دونوں کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ اس میں واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائسز کی خصوصیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ایسے سے صارف کو اپنے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا یہاں پہنچتا ہے کہ صارف کو ایک جعلی لنک بھیج کر اسے اپنی سیکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کسی معروف ویب سائٹ کی طرح دیکھتا ہے۔ اگر وہ اپنا موبائل نمبر اور تصدیقی کوڈ درج کر دیتا ہے تو اسے ایک جھوٹے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں صارف کو مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور وہ اپنی خصوصی معلومات کو دیکھ سکتا ہے یا اسے بھیج سکتا ہے۔

دونوں لڑکوں کے لیے یہ ایک گھریلو اور نقصان دہ حملہ ہے، کیونکہ اس میں صارف کو کوئی واضح اطلاع نہیں ملتی ہے اور وہ اپنے اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے۔

اس حملے کے خطرات کی فہرست میں یہ شامل ہیں کہ صارف کے نجی پیغامات پڑھ سکتا ہے، تصاویر اور ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے، اسکیم کو وہ اپنے رابطوں تک پھیلانے کے لیے پیغام رسانی کے ذریعے بھی۔

اس سائبر حملے سے بچنے کے لیے واٹس ایپ صارفین کو کچھ احتیاطی تدابیر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان میں منسلک ڈیوائزز کی جانچ کرنا، دو مرحلوں کی تصدیق جاری رکھنا اور کسی بھی نامعلوم لنک یا ویب سائٹ پر اپنے نمبر کو درج نہ کرنا شامل ہیں۔
 
اوہ ایسا سایب کیا ہوا ہے کہ لوگ اپنی خصوصی معلومات کو ان لاکھوں پیغامات میں بھیج دیتے ہیں؟ یہ تو واٹس ایپ کی بناوٹ سے ہی خطرناک ہے، پھر نہیں تو کیسے اس پر ٹیک سے بھی اس سے محفوظ رہ سکتا ہے؟ لڑکے اور لڑکیوں کی سوچ کھونے والے یہ لوگ نہیں ہوتے، انہیں پہلے بھی سایب کی خبر تھی مگر اب وہاں تک گھناسیر آ کر رہے ہیں کہ لوگ اس کو چھپانے کے لیے اپنی خصوصی معلومات بھی جاری کرتے ہیں۔
 
تمام لوگوں کو یہ بات پتہ چلا ہو گیا ہے کہ واٹس ایپ پر سائبر حملے ہوتے رہے ہیں اور اب بھی نوجوانوں کے فون پر اس سے لڑتے رہتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک ماحول ہے جہاں لوگ اپنی خصوصی معلومات بھیج کر دوسروں کو پکڑتے رہتے ہیں اور لوگوں کی زندگی کو توڑ سکتے ہیں۔ اس کا سبس Kro s Kr s k h K k n k s h d D D e f F e F t t r r a a a a i i t t t t y t t t u u u u u u u u u u u u u u o o o o o o o o o
 
ایسا تو ہی مچل رہا ہے کہ لوگ سکیورٹی کی بات نہیں کرتے اور پھر واٹس ایپ پر سے بھی اچھی طرح کیا جاتا ہے. اس گوسٹ پیئرنگ کو پھیلانے والوں کی بات تو دیر ہوتی ہے، ان کے بارے میں وہ سیکیورٹی بھی نہیں کرتی اور صرف ان لوگوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں جو ایسے معاملات میں گھروں پر ہوتے ہیں.
 
یہ واٹس ایپ صارفین کو کچھ خراب سائبر فراڈز سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے! ان لڑکوں نے سوشل میڈیا کے ماحول میں بھی تباہی کی ہے اور اب یہ سایبر حملے بھی شروع کر رہے ہیں... 🚨

کسی بھی نامعلوم لنک پر اپنے نمبر کو درج کرنا خطرناک ہے، اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی خصوصی معلومات کو دیکھنے اور ان کو بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں... میرے لئے یہ ایک بڑا خطرہ ہے! 🤦‍♂️

دو مراحلوں کی تصدیق کرنا اور منسلک ڈیوائزز کو چیک کرتے ہوئے، واٹس ایپ صارفین کو اپنی سیکیورٹی کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے... ان تین گئیں! 🤞
 
🤖 یہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ واٹس ایپ کے ساتھ ہر گز کوئی بات نہیں رہتی، مگر اب اس بارے میں بھی بات چیت کرنا پڑی ہے اور اس میں تو صرف بہترین نتیجے لانے کے لیے ہی ہونا چاہیے۔ اس سائبر فراڈ کو روکنے کے لیے واٹس ایپ صارفین کی جانب سے اتنا احتیاطی اقدامات ہی نافذ کیا جا رہا ہے، جیسا کہ منسلک ڈیوائزز کی جانچ کرنا اور دو مرحلوں کی تصدیق جاری رکھنا شامل ہے، جو ابھی بھی نئی چیلنجوں کا سامنا کرتا ہے۔
 
یہ واٹس ایپ کا ایک خطرناک ماحول ہے، جہاں آپ اپنی خصوصی معلومات اور پیغامات کو سستے کھونے کے لیے کسی بھی بات پر چل پائے توڑ سکتی ہے!

موبائل نمبر کو درج کرنا جبکہ ایسے سایبر لنکوں پر آمنے سامنے نہیں جانا، یہ سب ضروری پالیسی ہے، اور اس سے ایسی پریشانیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے جو آپ کے موبائل اکاؤنٹ پر منسلک ڈیوائزز کو چیلنج کرتی ہیں! 😬
 
ایسا تو فریڈ کیا اچانک پہنچ گيا تھا… واٹس ایپ صارفین کی سیکیورٹی پر دھावہ نہیں، یہ کیسے ہوا؟ اگر وہ کسی نامعلوم لنک یا ویب سائٹ پر اپنا نمبر درج کر دیتا ہے تو اسے ایسا ہتھوں اچھا نہیں لگتا… اب یہ واضع طور پر صارفین کو بات چیت کرنا پڑ گیا۔

اس سائبر حملے کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے، ایسا تو بھی ہوا نہیں بلکہ یہ بات واضع تھی کہ واٹس ایپ کو کیسے توڑا جائے اور اس سے مروڑا جائے… اب یہ صرف ایک بڑا حملہ ہے جو اس وقت تک پھیل رہا ہے جب تک کہ صارفین اس پر واقف نہیں ہو سکیں گے۔

میں انھیں بھی اپنی اپنی منسلک ڈیوائیز کا استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہوں… لیکن اب یہ ایک جھوٹے اور خطرناک حملے کے بارے میں خبردار ہونے لگا ہے…
 
😱 واٹس ایپ کے صارفین کو خطرناک سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اٹھانے کی ضرورت ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ حملہ بہت جھوٹا ہے اور واٹس ایپ اکاؤنٹ کو خاموشی سے ہائی جیک کرنے میں مدد کرتا ہے۔

[Diagram: ایک خطرناک سائبر فراڈ کا سکرین شوٹ]
ایسا توڑنا بھی آسان ہے جیسا کہ واٹس ایپ صارفین کو ایک جعلی لنک بھیج کر اپنی سیکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں। اگر وہ اپنا موبائل نمبر اور تصدیقی کوڈ درج کر دیتا ہے، تو اسے ایک جھوٹے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

[Diagram: ایک جعلی لنک کا سکرین شوٹ]
اس سے صارف کو مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور وہ اپنی خصوصی معلومات کو دیکھ سکتا ہے یا اسے بھیج سکتا ہے۔ یہ دونوں لڑکوں کے لیے ایک گھریلو اور نقصان دہ حملہ ہے، کیونکہ صارف کو کوئی واضح اطلاع نہیں ملتی ہے اور وہ اپنے اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے۔
 
آج کل یہ بات کا موضوع ہوتا ہے کہ واٹس ایپ پر دھکا چورو کے تینے پھرنے کی بات ہے. یہ سچ ہے کہ نوجوانوں کو بھی یہ گمراہی پہنچ سکتا ہے، اور ایسے تو مومن اور عجzbہزار جوڈو کی طرح بھی ہوسکتے ہیں. یہ تینے پھرنا کیسے ہوتا ہے، یہ بتاتا نہیں تو وہ کسی نوجوان کو اپنی سیکیورٹی کو توڑنے کی دہش میں پاکتا ہے.
 
جی تو یہ وٹس ایپ کا ایک بڑا ماجا ہے! لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان کو اس طرح سے فریڈ کرنا ہوتا ہے؟ اور جسمانی چارے کے ساتھ بھی یہ سائبر حملہ کیا جاتا ہے! واٹس ایپ کی سیکیورٹی کو توڑ کر انہیں اپنی خصوصی معلومات حاصل کرنے کا مौकہ دیا جاتا ہے? یہ تو پورا بھراستی ہے!
 
یہاں ڈیوائیسز کو کھونے کی گریوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، اور واٹس ایپ میں سائبر حملوں کی حد تک نہیں ہو رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک بات ہے جو لوگوں کے ذہنی اور शारیرى صحت پر بھی پڑ سکتی ہے۔ لڑکوں کی بھلائی کو سمجھتے ہوئے، مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی اس سے محفوظ نہ رہتے ہیں جو ان کے منسلک ڈیوائیسز پر ٹاک کرتی ہیں۔ آپ کو یہ بات ہی پوچھنا چاہئے کہ آپ کا ایسا دوسرا اکاؤنٹ ہوا کیا جس سے آپ کی ڈیٹا ہر رکھتی ہیں؟
 
🚨 ایسا یہ دیکھنا انتہائی خطرناک ہے کہ واٹس ایپ صارفین کو ایسے سائبر فراڈ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی خصوصی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں! 🤯 ہر سال واٹس ایپ صارفین کی تعداد بڑھتی رہتی ہے، اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی سیکیورٹی کو بھی اچھی طرح سے سنجیدہ کر دیا جائے! 📊

ایسے سائبر حملوں کے شکار ہونے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور یہ واٹس ایپ صارفین کو نقصان دہ حالات میں پڑاسکتا ہے! 🚫 اس لیے، واٹس ایپ صارفین کے لئے منسلک ڈیوائزز کی جانچ کرنا اور دو مرحلوں کی تصدیق جاری رکھنا بہت ضروری ہے! 📈

دونوں لڑکوں کے لیے یہ ایک گھریلو اور نقصان دہ حملہ ہے، جس سے ان کی خصوصی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے! 🤝 اس لیے، واٹس ایپ صارفین کو اپنی سیکیورٹی کو اچھی طرح سے سنجیدہ کرنا چاہئے اور ان کے لئے احتیاطی تدابیر اٹھانے کی ضرورت ہے! 🚨
 
واٹس ایپ کو ایسا بھی پتا ہوتا ہے جیسا کہ لوگ اپنی سیکیورٹی سسٹم میں اور اس کی پلیٹ فارمز کے بارے میں بھی جانتے ہیں، لیکن یہ فریڈ واضح لکیر پر آتا ہے جس نے اپنے لوگوں کو ایک چالیس ہزار سے زیادہ کھلوستہا ہے۔

اس بات کو بھی یقین رکھنا پڑتا ہے کہ واٹس ایپ کو ایسی سٹریک جیسا پہنچایا گیا ہے جو اس کی منسلک ڈیوائیز پر فائدہ اٹھاتے ہوئے صارف کے ایکسپریسین کو بھی کنٹرول میں لے لیا جاسکتا ہے، یہ بھی پتا ہوتا ہے کہ اچھی طرح جاننا نہیں مگر اس سے ایسا نہ ہونے کی خواہش نہیں رہتی، اس لئے لوگ کیسے سیکیورٹی سسٹم کے بارے میں آگاہ رہتے ہیں؟
 
😬🚨 واٹس ایپ کا یہ خراب ماحول تو نوجوانوں تک بھی پہنچتا ہے، ابہامات کو دور کرنا چاہیں گے! 🤔 ماہرین سے بات کرتے ہوئے پتہ لگتا ہے کہ یہ جھوٹے واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی فیلڈ میں آئے ہیں، اس سے نااندیشان صارفین کو ہر وقت خطرے کی پہچان لگائی رہتی ہے! 😩

واٹس ایپ کے صارفین کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس سے محتاط نہ ہون۔ یہ حقیقت سے جاننے میں اچھی نہیں، ایسا ہوا تو سائبر حملے کی ندی پہنچ کر ہمیشہ کے لئے سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے! 😱
 
واپس
Top