واٹس ایپ صارفین کو خطرناک سائبر فراڈ 'گوسٹ پیئرنگ' کے بارے میں حیرت کرایا جا رہا ہے، جس میں ایک جھوٹی شناخت کے ذریعے صارف کی واٹس ایپ اکاؤنٹ کو خاموشی سے ہائی جیک کر دیا جا سکتا ہے اور اسکے بعد کے خطرات بھی نازک سے تنگ آتے ہیں۔
یہ فراڈ واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائسز کی خصوصیت کو جھا کر صارف کے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے جو اسکے اکاؤنٹ پر مکمل قبضہ کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ فراڈ صارف کو ایک جھوٹی لنک بھیج کر کئی بار واٹس ایپ کی آگاہی سے باہر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اپنا موبائل نمبر اور تصدیقی کوڈ درج کر لیتا ہو، جس کے بعد وہ اپنی اکاؤنٹ سے جوڑ جاتا ہے اور مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔
اس فراڈ کے خطرات میں شامل ہیں:
* صارف کے نجی پیغامات پڑھ سکتا ہے
* تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے
* صارف کی شناخت سے پیغامات بھیج سکتا ہے
* پیغام رسانی کے ذریعے اسکیم کو صارف کے رابطوں تک پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے
واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر یہ ہیں:
1. منسلک ڈیوائسز کی باقاعدہ جانچ کریں اور غیر معروف ڈیوائس کو فوری طور پر ہٹا دیں
2. دو مرحلوں کی تصدیق فعال کریں تاکہ غیر مجاز رسائی مشکل ہو جائے
3. مشکوک لنکس اور ویب سائٹس سے احتیاط کریں اور اپنے موبائل نمبر یا کوڈ کو درج نہ کریں تاکہ وہ اپنی اکاؤنٹ سے جوڑ سکتا ہو
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صارفین کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے، کسی بھی تصدیقی کوڈ یا کوڈ کیو آر اسکین کی درخواست پر محتاط رہیں، اور واٹس ایپ کی حفاظتی خصوصیات جیسے دو مرحلوں کی تصدیق اور منسلک ڈیوائسز کی نگرانی کو باقاعدہ استعمال کریں تاکہ ایسے سائبر حملوں اور فراڈ سے محفوظ رہا جا سکے۔
یہ فراڈ واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائسز کی خصوصیت کو جھا کر صارف کے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے جو اسکے اکاؤنٹ پر مکمل قبضہ کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ فراڈ صارف کو ایک جھوٹی لنک بھیج کر کئی بار واٹس ایپ کی آگاہی سے باہر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اپنا موبائل نمبر اور تصدیقی کوڈ درج کر لیتا ہو، جس کے بعد وہ اپنی اکاؤنٹ سے جوڑ جاتا ہے اور مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔
اس فراڈ کے خطرات میں شامل ہیں:
* صارف کے نجی پیغامات پڑھ سکتا ہے
* تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے
* صارف کی شناخت سے پیغامات بھیج سکتا ہے
* پیغام رسانی کے ذریعے اسکیم کو صارف کے رابطوں تک پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے
واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر یہ ہیں:
1. منسلک ڈیوائسز کی باقاعدہ جانچ کریں اور غیر معروف ڈیوائس کو فوری طور پر ہٹا دیں
2. دو مرحلوں کی تصدیق فعال کریں تاکہ غیر مجاز رسائی مشکل ہو جائے
3. مشکوک لنکس اور ویب سائٹس سے احتیاط کریں اور اپنے موبائل نمبر یا کوڈ کو درج نہ کریں تاکہ وہ اپنی اکاؤنٹ سے جوڑ سکتا ہو
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صارفین کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے، کسی بھی تصدیقی کوڈ یا کوڈ کیو آر اسکین کی درخواست پر محتاط رہیں، اور واٹس ایپ کی حفاظتی خصوصیات جیسے دو مرحلوں کی تصدیق اور منسلک ڈیوائسز کی نگرانی کو باقاعدہ استعمال کریں تاکہ ایسے سائبر حملوں اور فراڈ سے محفوظ رہا جا سکے۔