واٹس ایپ کے صارفین کو گوسٹ پیئرنگ سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے خبردار کیا گیا ہے، جس میں ہیکرز بغیر سیکیورٹی سسٹم کو توڑ کر واٹس ایپ اکاؤنٹس کو خاموشی سے ہائی جیک کر سکتے ہیں۔ یہ لاکھوں کے صارفین کے لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ انہیں اپنے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے جو اس سے اکاؤنٹ پر مکمل قبضہ ممکن ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائزز کی خصوصیت کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے ہیکرز صارف کا اکاؤنٹ مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں، جس میں وہ اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیکر کے آلے سے جوڑ دیتے ہیں اور اسے مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں، صارف کو کوئی واضح اطلاع نہیں ملتی ہے۔
اس کے خلاف محفوظ رہنے کے لیے صارفین کو اچھی طرح احتیاطی تدابیر پر چلتے ہیں، جیسے منسلک ڈیوائسز کی جانچ کرنا، دو مرحلوں کی تصدیق فعال کرنا، واٹس ایپ کی سیٹنگز کو اپ ڈیٹ رکھنا اور مشکوک لنکس سے احتیاط لینا۔
ایسا کئی بار ہوا ہے جب واٹس ایپ نے صارفین کی ایم ایس ایس کو بھاپ میں لگا دیا ہو، اور اب بھی وہ اپنی سیکیورٹی پر یہی توجہ دی رہے ہیں، لیکن کیا ان کی ایسے سے کارروائیوں سے صارفین کا اعتماد کمزور نہ ہوتا؟ ابھی بھی لاکھوں لوگ اس جہت اچھی طرح محفوظ رہنے کی تدابیر پر چلتے ہیں، لیکن کیا یہ کافی نہیں تھا؟
ایسے لوگ تھے جو پیغامات بھیجنے کے لیے ہر صارف کی مہربانی کرتے ہیں، اور اب وہوں کے ٹرانسفرس ہیکر کیا جا رہا ہے۔ اس سے وہ لوگ آپسی پیغامات بھیجا کر اپنے منسلک ڈیوائز پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر وہ لوگ ایسا نہیں کرتے تو یہ ساری بات پھیل جاتی۔
یہ بات سے میں بالکل نہیں دھجیا کرتا کہ واٹس ایپ میں سائبر فراڈ زیادہ تر کئی لوگ بن گئے ہیں، اور اب تو وہاں لوگ اپنی زندگی بھی کنٹرول میں نہیں رکھ سکتے! لاکھوں کے صارفین کے لیے یہ ایسا ہونے کی سزائے بدلتی ہے جب انہیں اپنے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی حاصل کر لیتی ہے، کروہی کیسے! واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائزز کی خصوصیت کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے ہیکرز مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں، اس لیے صارفین کو احتیاطی تدابیر پر چلنا پڑتا ہے، جو کہ ایک بار نوجوانوں کی جان میں سبسٹیٹ ہونے سے باہر ہی رہ گا!
یہ ایک بڑا مسئلہ ہے! جس کے بارے میں ابھی تک نہیں سنہری بات کی گئی تھی. اب یہ جاننا ہے کہ واٹس ایپ کے صارفین کو اس سے بچنے کے لیے خبردار کیا گیا ہے، تو یہ کہیں تک سے خوشی کی بات نہیں ہوسکتی. لاکھوں لوگوں کو اس سے بچانا پورا معاملہ ہے!
یہ واضح ہے کہ انہیں اپنے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے جس سے اکاؤنٹ پر مکمل قبضہ ممکن ہو جاتا ہے.
ماہرین کے مطابق، واٹس ایپ کی منسلک ڈیوائزز کی خصوصیت کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے ہیکرز صارف کا اکاؤنٹ مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں.
صارفین کو اچھی طرح احتیاطی تدابیر پر چلتے ہیں، جیسے منسلک ڈیوائسز کی جانچ کرنا، دو مرحلوں کی تصدیق فعال کرنا، واٹس ایپ کی سیٹنگز کو اپ ڈیٹ رکھنا اور مشکوک لنکس سے احتیاط لینا.
اس لیے یہ بات یقینی بنانے کے لیے ہم بھی احتیاطی تدابیر پر چلنا چاہئیں.
یہ بہت خوفناک ہے! واٹس ایپ کے استعمال میں ہیکرز کی تردید کی ضرورت ہے، اس کے لیے پہلے سے ہی احتیاطی تدابیر پر چالنے چاہئیں تھے! منسلک ڈیوائسز کی جانچ کرنا، دو مرحلوں کی تصدیق فعال کرنا، واٹس ایپ کی سیٹنگز کو اپ ڈیٹ رکھنا اور مشکوک لنکس سے احتیاط لینا... یہ تمام باتوں کو سمجھنے کے بعد بھی، کسی نے بھی ان پلیٹ فارمز پر اپنا اکاؤنٹ ہیک کر لیا تو وہ بہت خوش ہون گے! اور صارفین کو یہ بات آگے آئے گی کہ آپ کا اپنا سندسبری آپ ہی محفوظ کریں... @saaf_safar
واٹس ایپ کے صارفین کی جانب سے یہ حقیقت ایک خطرناک بات ہے، جب تک وہ اپنی سیکیورٹی کو نہیں لگاتے ان میں سے کسی بھی شخص بھی آپ کی پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز تک مکمل رسائی حاصل کر سکتی ہے جو ابھی کچھ منصوبوں کے بغیر اس کو مکمل کنٹرول میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کی رائے سے مل کر یہ بات واضح ہو گی کہ منسلک ڈیوائزز کی خصوصیت کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے آپ کا اکاؤنٹ مکمل کنٹرول حاصل کر لیں گے، اس لئے صارفین کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر پر چلنا ہوتا ہے، جیسے منسلک ڈیوائسز کی جانچ کرنا، دو مرحلوں کی تصدیق فعال کرنا، واٹس ایپ کی سیٹنگز کو اپ ڈیٹ رکھنا اور مشکوک لنکس سے احتیاط لینا۔
ایسے کمپیوٹر مینوں کے لیے یہ بہت Problem ہے کہ وہ پورا صارف انفورمیشن کو حاصل کر لیتے ہیں اور اس سے وہ صارف کا ایکٹیو اکاؤنٹ مکمل کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں. یہ بھی مشکل ہے کہ جب تک وہ جانچ نہیں کر سکتے تو ان کی صلاحیتات مکمل نہیں پتہ چلتے. اس لیے، یہ احتیاطی تدابیر پر چلو اور اپنے ایکٹیو اکاؤنٹز کو بھی دیکھ لو.
یہ وہ سافٹ ویئر ہیں جو ہمارے موبائل فون پر موجود ہوتے ہیں اور یہ کھوتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ وہ واضح بات نہیں کر رہا، اب یہ فریڈم فون کے بارے میں بات کر رہا ہے، کیا اس پر بھی ایک دوسرا شخص اپنا فون استعمال کر سکتا ہے اور اس کو ہمارا فون بنادے؟
ہیکرز کا یہ طرز ناکام ہوگا، واٹس ایپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صارفین اپنے لیے اچھی طرح احتیاطی تدابیر لیتے رہیں، نہ کہ انہیں ایسا دیکھ کر ہمت ہار جائے کہ وہ اپنے پیغامات اور مواد کو کم از کم جانب دوں۔ واٹس ایپ کو صارفین کی بھرپورSecurity کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے تاکہ انہیں اپنے سائبرsecurity کے حوالے سے ہمیشہ یقینی رہے
مرہمے، یہ بات کچھ متاثر کن ہو گی. میں سोचتا تھا یہ ایسا نہیں ہونا چاہئیے کہ گوسٹ پیئرنگ سائبر فراڈ کے خلاف احتیاطی تدابیر پر فوز نہیں کیا جاسکتا. لیکن ابھی یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ میرے اچھے دوست اس کی لاکھوں لوگوں کو چیلنج کر رہے ہیں...
واٹس ایپ کی ایسی خصوصیت تازہ ہوئی؟ میں پہلے سے یہاں نہیں تھا... اور ابھی ہیکرز اسے توڑ کر واٹس ایپ اکاؤنٹس کو خاموشی سے ہائی جیک کرتے ہیں؟ یہ بھی کچھ متاثر کن ہے...
ٹھیک ہے کہ وٹس ایپ کے صارفین کو یہ جاننے پر غور کرنا چاہیے کہ آپ کا अकاؤنٹ اس کیوں خطرناک ہوسکتا ہے؟ کبھی کبھار ان لوگوں نے بھی سمجھا ہوتا ہے کہ یہ ایسا ٹرول ہوا تو اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ اپنے پیغامات کو منسلک کر رہے ہیں اور ہیکر آپ کا اس پر قبضہ کر رہے ہیں تو یہ سب بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ لگتا ہے جیسے لوگوں کی انٹرنیٹ کے بارے میں کوئی سمجھ نہیں رکھتی، تو اس لیے اچھے لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر چلنا چاہیے۔