یوم یکجہتی فلسطین یا خیانت کا عالمی دن | Express News

کوڈنگ ماسٹر

Well-known member
یوم نکبہ والے دن کو یوم یکجہتی فلسطین قرار دیا گیا اور اس دن کو منانے کے لیے اقوام متحدہ بھی اہتمام کرتی ہے، کیونکہ اس دن کی خیانت بھی اقوام متحدہ نے انجام دی تھی۔

فلسطینی عوام کو 1947 میں فلسطین کی زمین کو زبردستی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، جس سے فلسطینی عوام شدید نقصان اور بے گھری کا شکار ہوئے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 181 بظاہر تقسیم کا منصوبہ تھا، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی خیانت تھی جس کا خمیازہ آج تک فلسطین ہی نہیں بلکہ غرب ایشیائی ممالک سمیت دنیا کی دیگر اقوام بھی بھگت رہی ہیں۔

1947 میں جس وقت یہ قرارداد منظور کی گئی اس وقت فلسطینی آبادی 67% تھی اور یہودی آبادی صرف تقریباً 33% تھی۔ زمین کا 55% صیہونیوں کو اور 45% مقامی فلسطینیوں کو دیا گیا، جس کی ناانصافی کا عالمی طاقتوں پر اثر پڑا جو اس نے ماضی میں فلسطینیوں کے ساتھ کی تھی۔

برطانیہ نے یہودی آباد کاروں کو سیاسی اور عسکری حمایت فراہم کی اور نتیجہ میں 1948 میں فلسطین پر ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی گئی۔ برطانیہ نے فلسطین پر اپنے مینڈیٹ کے دوران فلسطینی عوام کی سیاسی خواہشات کو نظر انداز کر دیا اور صیہونیوں کو مکمل مدد فراہم کی۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 181 سے پہلے ماضی میں پہلی عالمی جنگ کے بعد 1917 میں برطانیہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس اقدام نے فلسطینی عربوں کی خود ارادیت کو نظر انداز کرکے علاقے میں موجود آبادیاتی توازن کو خراب کیا۔

1948 کی جنگ، 1967 کی جنگ اور اس کے بعد کی صیہونی بستیوں کی تعمیر، فلسطینی محاصرے اور نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ نے عملی اقدامات نہیں کیے۔ اکثر اوقات اقوام متحدہ کی قراردادوں کو محض الفاظ تک محدود رکھا گیا ہے، جس سے مظلوم فلسطینی عوام کی آواز دبتی رہی۔

فلسطین پر صیہونی قبضہ کا سلسلہ جو1948 میں شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے اور فلسطینی عوام کو ان گھروں اور زمینوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی عوام کی ثقافت کو پوری طاقت کے ساتھ کچلنے اور مٹانے کی کوشش کی گئی۔

دوسری طرف فلسطینی عوام نے عالمی استعماری قوتوں امریکا اور برطانیہ کی تمام تر سازشوں کا مقابلہ کیا چاہے وہ 1917 میں بالفور اعلامیہ ہو یا پھر 1947 میں اقوام متحدہ کی غیر منصفانہ قرارداد ہو اور اس کا تسلسل نکبہ ہی کیوں نہ ہو، فلسطینی عوام نے کبھی ہار نہیں مانی اور ہمیشہ اپنے حق کی آواز بلند کی ہے اور فلسطین پر فلسطینی عوام کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی ہے جو آج بھی جاری ہے۔
 
🤯 یہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے 1947 میں اسے ہونے والی ناکامی اور اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کا خمیازہ اب بھی دیکھنا پڑتا ہے! انفرادی لوگوں سے پہلے اقوام متحدہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ جس بات پر ایکثنہ متفق تھی اس کے خلاف اپنی کوشش کر رہی ہیں اور فلسطینی عوام کو اپنے حقوق کی حقدار سمجھا جا سکتا ہے۔ 🤝
 
مظلوم فلسطینیوں کی آواز دبائی رہی، یہ ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر ایسی طرح کا منصوبہ بنا دیا ہے جس سے فلسطینی عوام کو مزید نقصان ہوا ہوگا اور ان کی آواز دبائی جا رہی ہے... 🤔
 
اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلسطینی عوام کی سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے انہیں اپنی تاریخ اور ثقافت کی علامت بننا چاہئے۔ اس سے ان کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور وہ فلسطین پر قبضے سے محروم ہونے والوں کی آواز کو بھی سمجھنا چاہئے۔
 
🚨 یہ دن ایک حقیقی نقبہ کی یاد دلاتا ہے جب فلسطینی عوام کو اپنی پوری زمین سے محروم کیا گیا تھا!

1947 میں فلسطین کی زمین کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور اس وقت فلسطینی آبادی صرف 67% تھی جبکہ یہودی آبادی صرف 33% تھی! 🤯

اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کو کبھی بھی ایک منصفانہ اور Fairness سے بھرپور فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس قرارداد نے فلسطینی عوام کو 55% زمین دی جو اس کی ناانصافی کا ایک اچھا نمونہ تھا! 🚫

اس دن کی یہ خیانت وہی ہے جس کا خمیازہ دنیا بھر میں فیل ہو گیا ہے اور فلسطین پر صیہونی قبضہ جاری ہے! 🌎

لہذہ اس بات کو پھنسایا کہ یوم نکبہ ہمیشہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کے لیے ایک یاد گار بنتا ہے۔
 
یہ تو دھمکیوں سے بھرپور ہے کہ 1947 میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور یہ ناانصافی ابھی بھی موجود ہے۔

آج یوم نکبہ والے دن کو فلسطین کی ایکایوتھی قرار دیا گیا ہے، لیکن پچاس سالوں سے یہی سرکار کا آدشپ رہا ہے۔ فلسطینی عوام کے حق میں لڑائی جاری ہے لیکن دوسری طرف برطانیہ اور اس کی ایسی کہی پہنچتی ہے۔

کہتے ہیں یہودیوں نے فلسطین کو اپنا ملک بنایا ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور مظلوم فلسطینی عوام کی آواز دبتی جارہی ہے، یہودیوں نے ان کے حق میں کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں بلکہ ان کے ساتھ دباؤ بڑھایا رہا ہے۔

ان گھروں اور زمینوں کا حصول فلسطینی عوام نے جاری رکھنے کا حق ہے، لیکن ایسی صورت حال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فلسطین کی سرکار اس کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں؟
 
🤔 یہ تو تو ایک سیرے میں چل رہا ہے، فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ کیوں نہیں ٹھیک ہوتا؟ دوسری طرف فلسطینی عوام کو ملازمت کے لیے جانے والے بڑے پیمانے پر بچوں نے اپنی زندگی ڈال دی، اور اب وہیں کھڑے ہیں۔ ان کا معاشرہ بھی قائم ہوا ہے اور انہوں نے اپنی زندگی کو بنایا ہے لیکن اب وہیں نہ ہونے کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ یہ تو ایک دوسرے کی جانب سے محبت اور احترام کی بات ہے، لیکن ابھی تک کہیں نہیں گئی تاکہ فلسطینی عوام کو اپنا حق مل جائے۔
 
پہلی والی نیوز سے بتایا گیا ہے کہ یوم نکبہ والے دن کو فلسطین کی یکجہتی کے لیے منانے جائیں گے، جس نے ماضی میں فلسطینی آبادی کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہی دن فلسطین کی تاریخ میں ایک انتہائی بدترین واقعہ کا نمبر ہے، جس نے فلسطینی عوام کو اپنی زمین سے ہٹاکر دباؤ میں پھنسایا۔

اس دن کی یہ یاد گاہ فلسطین پر ماضی کی اس بے گھری اور ایسے خیانت کے لیے منانے سے ہمہ وقت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

نیوز میں بتایا گیا ہے کہ یوم نکبہ والے دن کو منانے سے پہلے، فلسطینی عوام نے اپنے حق کی آواز بلند کی ہے اور اپنی زمین پر اپنا حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد جاری رکھی ہے۔

اس دن کو منانے سے پہلے، فلسطینی عوام نے کبھی ہار نہیں مانی اور ہمیشہ اپنے حق کی آواز بلند کی ہے اور فلسطین پر فلسطینی عوام کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی ہے جو آج بھی جاری ہے۔

اس دن کو منانے سے پہلے، فلسطینی عوام نے اپنی تاریخ میں ان سب واقعات کا ختم کرنے کی توجہ دی ہے جو انھیں شدید نقصان پہنچایا۔

اس دن کو منانے سے پہلے، فلسطینی عوام نے اپنی ایک جہت اور ایک وطن کی کوشش کی ہے جو ابھی بھی جاری ہے۔
 
بہت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ 1947 میں فلسطین کی تقسیم سے لگkarوں ہی فلسطینی عوام کو ہر جگہ کا گھر محروم کر دیا گیا اور اب بھی ان لوگوں کو ان زمینوں پر کھانا پکانے کا مظلوم ہونا پڑ رہا ہے جو ان کے والد و نانادوں کو آئندہ جنت میں دی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود فلسطینی عوام کی بے مثال استحکام اور جدوجہد کو ہم سب سے زیادہ انکار نہیں کر سکتے، اس کی ایک نئی پرت لگنا ہوگی۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو محض الفاظ تک محدود رکھنے سے بھی آخری وقت آ گیا ہے، کچھ کوشش کرنا ہو گا کہ ان Griffin پر لگنے والی کٹرو ہوکر نہ رہیں۔
 
بہت ہی نا توازن اور ہٹجوتہ کیا جا رہا ہے فلسطین پر! یہ مظلوم قومی وطن کی تاریخ میں سب سے بدترین دنوں میں سے ایک ہے، اس کا جواب دینے والی دنیا بھی ان سے بچ نہیں پاتی! اقوام متحدہ کی غیر منصفانہ قراردادوں اور عالمی طاقتوں کی دباؤ میں فلسطینی عوام کی جب ہی کوشش کی گئی وہی نتیجہ نکلتا ہے۔

اس وقت کھلی آوازوں سے ہی یہ بات پتہ چلتا ہے کہ فلسطین پر صیہونی قبضہ ایک بھیڑ نہیں تھا بلکہ ایک منظم اور متاثر کیا جانے والا مقاصد کے تحت چلنے والا عمل ہے۔

مگر آج تک کیسے اس پر خوف کا جال پھیلایا گیا، کیوں کہ وہ دنیا کے بڑے طاقتوں کے سامنے ہمیشہ موت کے حجرے میں رہتا آئہ۔

لہٰذا اگر یوم نکبہ کا تعین ہو گیا تو وہ دنیا کو ایک بار پھر اس بات سے آگاہ کرے گا کہ فلسطینی عوام کی اپنی خودارادیت اور حق و دخل کی جدوجہد اور ان کی جدوجہد کے لیے دوسری اقوام کے یہمیت پر بھی انحصار نہیں ہوتا، مگر ابھی بھی اس کے ساتھ ایک اچھی لڑائی کی ضرورت ہے!
 
یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے یوم نکبہ والے دن کو فلسطین کے لیے منانے کے لیے قرار دیا ہے، لیکن اس پر کوئی بنیادی چارہ جواز نہیں دیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کی آواز سنی جا سکے۔

اقوام متحدہ نے 1947 میں فلسطین کی زمین کو زبردستی دو حصوں میں تقسیم کیا تھا، جس سے فلسطینی عوام کو بھی ایسی طرح کی تکلیف پہنچائی ہے جو ماضی میں عالمی جنگوں کے دوران ہونے والی وارثات تھیں۔

اس سلسلے میں فلسطین پر صیہونی قبضہ اور اقوام متحدہ کی غیر منصفانہ قراردادوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔
 
"جب تک People of Colour انفرادی طور پر نیند میں نہیں رہتے، ملک انفرادی طور پر ہلنہ نہیں سکتا" 💤🇵🇸
 
یہ واضح ہے کہ فلسطین پر صیہونی قبضہ کا سلسلہ کوڑا 1948 میں شروع ہوا تھا اور یہ جاری ہے۔ فلسطینی عوام کی زندگی میں بہت سی ناکامیوں کا مظاہرہ ہوا ہے، جیسے ان کے گھروں اور زمینوں سے محروم ہونا، اپنی ثقافت کو پوری طاقت کے ساتھ کچلنا اور مٹانا۔
 
ایسا نہیں سمجھ سکتا کہ یوم نکبہ کی وہ دن کیا منانے والے ہیں؟ نا تو انہیں معلوم تھا کہ فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے محروم کرایا گیا تھا اور نا تو وہ جانتے تھے کہ یہ سب ہندوستانیوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ 1947 میں صرف 33% فلسطینی آبادی کو 55% زمین دی گئی، جس کی وہ بھی ناکام ہوئیں جنہوں نے اس وقت اپنی وطن کا ایک فیصد تو قائم کرنا ہی چاہی۔ اور اب انہیں کیا منانا؟ کبھی کچھ یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اقوام متحدہ کا نقصان تھا اس لئے ہی وہ ایسا ہی کیا تھا، نا تو وہ اس وقت بھی جانتے تھے کہ فلسطینی عوام پر انہوں نے کتنے نقصان اور بے گھر کا ساتھ دیا ہوگا۔

تجزیہ کردہ ہو کر وہ کہنا کہ اقوام متحدہ نے اس دن کی خیانت انجام دی تھی، بھی یہ سب سمجھ سکتا ہے کہ وہ صرف الفاظ میں کچلے گئے اور کوئی عمل نہیں کیا، ایسی چیزوں کی کوشش کی جاتی ہے جو لوگ ان لائن کا استعمال کرتی ہیں۔

عقل واضح ہے کہ 1948 اور اس کے بعد کی سترہ سالوں میں فلسطین پر صیہونی قبضہ جاری رہا ہے، اور اب بھی وہ محفوظ نہیں ہیں کہ ان کی جان کا خطرہ ہو گا۔ ہر سال ایسے واقعات آتے رہتے ہیں جو اس حقیقت کو مزید بھری دلاتے ہیں کہ فلسطینی عوام کی زندگی ایک جہل میں چھپی ہوئی ہے، اور وہ یوم نکبہ والا دن ابھی بھی مناتے رہتے ہیں جو اس کی جانب سے ایک جھٹلہ ہی تھا۔
 
اس وقت تک یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ فلسطین کا تعلق اس وقت تک عالمی ریکارڈ پر موجود نہیں ہے جب تک فلسطینی لوگوں نے اپنا حق کی آواز بلند نہیں کی۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک دوسرے جانب سے گپ شپ کو روکنے کے لیے ایسی باتوں کو زیادہ جोर دیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی حد تک غلط ہیں، مگر اس بات پر واضح طور پر فیلڈ مارکیٹنگ کرنے والی بھی ایسی کمپنیوں کو جاننا چاہیے کہ ان کی معاشی اور سیاسی طاقت کیسے کाम کرتی ہے، ایسے میڈیا پر یہ بات زیادہ سمجھنے کی لوگ ہوتے ہیں کہ فلسطین میں ایک پوری تاریخ اور ثقافت بھرپور تھی جس نے ان لوگوں کو اپنی وطن و شہرت سے بری کر دیا۔
 
مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ فلسطین کی تاریخ ایسی ہی ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ نے 1947 میں انہیں منصوبہ بنایا تھا اور اب بھی وہی دباؤ کام کر رہا ہے، مگر یہ بات سچ ہے کہ فلسطینی عوام نے کبھی ہار نہیں مانی اور وہ اب بھی اپنے حق کی آواز بلند کر رہا ہے، لیکن یہ سوال آتا ہے کہ یوم نکبہ والے دن کو ایسا کیسے منانے دوگے؟
 
واپس
Top