امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوری حملے سے باز رہنے پر دباؤ کا ذاتی طور پر شکر ہیں، اور اس نے اس بات کو یقینانہ بنایا ہے کہ ایران نے مظاہرین کی پھانسی دینے کی منصوبہ بندی کو بالآخر منسوخ کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ خود کو اس فیصلے پر قائل کیا تھا، اور ایران کی حکومت کو اس بات کے لیے شکریہ دیتے ہوئے لکھتے ہوئے کہ انہوں نے مظاہرین کی پھانسی دینے والی منصوبہ بندی کو منسوخ کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی Iran کے حامیوں کو بھی شکر ہیں۔
حالانکہ وائٹ ہاؤس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حکومت نے مظاہرین کی پھانسی دینے والی منصوبہ بندی کو بالآخر منسوخ کر دیا تھا، تاہم اس حوالے سے ابہام ہوتا جاتا ہے کیونکہ Iran کے حامیوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایران میں مظاہرین کو قتل کرنے والی منصوبہ بندی کو کبھی سے نہیں تصدیق کیا تھا۔
کہلاتا ہے کہ Iran کی حکومت نے ان مظاہرین کو قتل کرنے کے منصوبۂ کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے حامیوں نے ایسا نہیں کیا تھا اور Iran کے اس فیصلے پر انہوں نے شکریہ دی ہے کہ وہ مظاہرین کی پھانسی دینے والی منصوبۂ کو منسوخ کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ خود کو اس فیصلے پر قائل کیا تھا، اور ایران کی حکومت کو اس بات کے لیے شکریہ دیتے ہوئے لکھتے ہوئے کہ انہوں نے مظاہرین کی پھانسی دینے والی منصوبہ بندی کو منسوخ کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی Iran کے حامیوں کو بھی شکر ہیں۔
حالانکہ وائٹ ہاؤس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حکومت نے مظاہرین کی پھانسی دینے والی منصوبہ بندی کو بالآخر منسوخ کر دیا تھا، تاہم اس حوالے سے ابہام ہوتا جاتا ہے کیونکہ Iran کے حامیوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایران میں مظاہرین کو قتل کرنے والی منصوبہ بندی کو کبھی سے نہیں تصدیق کیا تھا۔
کہلاتا ہے کہ Iran کی حکومت نے ان مظاہرین کو قتل کرنے کے منصوبۂ کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے حامیوں نے ایسا نہیں کیا تھا اور Iran کے اس فیصلے پر انہوں نے شکریہ دی ہے کہ وہ مظاہرین کی پھانسی دینے والی منصوبۂ کو منسوخ کر دیا تھا۔