ڈونلڈ ٹرمپ حادثہ سے بال بال بچ گئے

اس ایکسپریشن کو بھی دیکھتے ہیں کہ امریکہ نے سوانہی اقدار کی توڑ پھوڑ کر دہشت گردی کی صورت حال میں گہری رٹلائی کی ہے۔ لگتا ہے جیسا کہ امریکہ نے کہا ہے کہ آئین پر تنقید کے ذریعے سوشل میڈیا پر گول بھارتیں کھانے لگنے دے، واضح طور پر ہی نہیں بلکہ ایسی بات ہو رہی ہے جو سوشل میڈیا پر بھارتیوں کے ذریعے کر دی جاتی ہے اور اس کا مقصد واضح طور پر انہیں تھوٹ دینا ہے۔
 
ameriki sead donalda tramp ko switzerland len de ki ranway hone wali proas mein tekniki talqat karne aur vaapas marna ka faisla karna padha, jabki unke tajra mein khariji hoti thi 🚨

woh apni air force one key man ko ye bataye ki agar vaapas jaana hoga to unhein us tajra mein sair karna padega aur is tarah se pehle sadar ke naye tajra mein ranway hona ka prayas kar raha hai

ise lekar woh vait hus se kah rahe the ki agle waqt proas mein funkshunal faila hone ki sthiti mein vaapas jaana padega, iske baad wo unse ye bataye karte hain ki sadar tramp ek naye tajra mein ranway karega aur apni takreer ka mahol rahayish ki jahat mein ghatna hoga

vait hus se keh rahe the ki air force one ko vaps jaai nay basand baas diya gaya hai, iske baad unhone mahanvaati poliyion par talqat ki aur ye bhi bataye karte hain ki amrika ko green land par kontrul prapt karne ka zaroori hai
 
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کی سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہونے والی پرواز میں فنی دریافت کرنے اور واپس مڑنے کا فیصلہ، یہ تو بھارپور ہے۔ لگتا ہے کہ اس نئے طیارے میں روانگی کرنا ایک بڑی بات ہوگے، پھر بھی ماحولاتی پالیسیوں پر تنقید کرنا تو ان کی پوری کوشش کو بالکل نہیں سمجھتا ہوں۔ وائٹ ہاؤس کی یہ تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اس جگہ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، اور ابھی تک نہیں سمجھا گیا کہ یہ کس طرح ممکن ہوگا؟

امریکی صدر کی سوئٹزر لینڈ میں روانگی کے بعد سے ملک میں ایسی ہی ماحولاتی پالیسیوں پر تنقید کی جائ رہی ہے، اور یہ بات بھی لگتے ہیں کہ واپس جانا اور نئے طیارے میں روانگی کرنا، یہ تو ایک دوسرے کے مقابلہ میں ہو گا۔
 
اک دہائی سے ہو رہا ہے کہ ایسے حالات ہونے سے پہلے تھے جب کسی صدر کو پرواز میں واپس جانا پڑتا اور اس میں ناانصاف کا واقعہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایئر فورس ون کو بھی اس قسم کی تباہی سے نکلنا پڑتا ہے اور اب یہ بات پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے کہ امریکہ کو اپنی پروازوں کی صلاحیت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
 
واپس
Top