یورپ پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دیکر بڑی غلطی کر رہا ہے: ایرانی وزیر خارجہ

بگلا

Well-known member
ایران کی جانب سے یورپی یونین نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں بہت بڑی غلطی ہوئی ہے اور یہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔

ایران کی جانب سے دوسرے ملکوں نے جو اس کے خلاف تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے وہ یورپ میں یہ عمل بھی نہیں دیکھ سکتا۔ یورپی یونین کا اس فیصلے کی وجہ بلاشُبہ امریکا اور اسرائیل کی غیرانسانی پالیسیوں کی اندھی تابعداری ہے۔

ایران کی جانب سے دوسرے ملکوں نے جو اس کے خلاف تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے وہ یورپ میں یہ عمل بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اب اس کی جانب سے اس طرح کی غلطی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا اقدامہ پھراسے بھی نہیں کر سکتے گئے۔

ایران کی جانب سے اس طرح کی غلطی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ ایک غیرمنطقی قدم رہا ہے جس کے نتیجے میں آسامہ ابدुल رازق سے لے کر امریکا اور اسرائیل تک تمام لوگوں کا دباؤ پیدا ہوگا۔
 
ایسے حالات میں یہ سوچنا ایک بڑی دھمکی ہو گیا ہے کہIran اور اس کی تحریک اس کے خلاف کو کیا ہوا ہے اور پھر انہوں نے ایسا لگائا ہے کہ یہ یورپی ملکوں کے پاس بھی اسی جہت کی تحریکیں ہیں اور وہ اس کو دہشت گرد قرار دیں گے۔ لگتا ہے کہ انہوں نے ایک جانب سے اس پر تنقید کرنے کی کوئی necessity نہیں دیکھی اور دوسری طرف اس طرح کی بھرپور مہم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے تمام ملکوں کا ایک بڑا تنाव پیدا ہوگا۔
 
اس فیصلے کی criticism کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو اس سے پہلے، اس کی وجہ کیا ہے؟ ایران کو یورپی یونین نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور اب وہ اس کی تلاجی میں دھلک دے رہے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جانب سے اس تحریک کی حمایت کرنے کے بجائے، اس کے خلاف تحریک کو دہشت گرد قرار دینے کے لیے یورپی یونین پر دباؤ پڑنا چاہتے ہیں?
 
انہیں پتھر پر پڑھنا چاہئے ان کو یہ نہیں سمجھا کہ پاسداران انقلاب ایک سیاسی تحریک ہے اور دہشت گردی کے ذریعے نہیں، یورپی یونین نے ایسے ملکوں کی طرح سے خود کو بھی دہشت گردی کا شکار بنایا ہوگا جسے اب وہ یورپ میں نہیں دیکھ سکتے گئے ، یہ وہی غلطی ہے جو انہوں نے افغانستان اور ایران کے خلاف کی تھی، اب وہ اپنی own جانب سے ایسا کر رہے ہیں۔
 
یہ ایک بڑا جھٹکا ہے، یہ ایران کو توئنٹر تانے دھنا نہیں دیا کہ یورپی یونین اس کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ ہوا ہے، وہ سب جانتے ہوں گے کہ ایران کے ساتھ اس کی پالیسیوں پر بلاشُبہ امریکا اور اسرائیل کی نazar تھی۔

سوشل میڈیا پر سب لوگ اسے ٹویٹ کر دیں گے اور یہ ایک دھارماں کا ماحول بن جائے گا، لیکن اگر آپ کچھ ڈھونڈ لیتے ہیں تو یہ سب کچھ ایک چیلنج ہے اور ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہئے جو اس کی پالیسیوں پر دباؤ پڑے گا۔
 
ایسا کہنے میں کچھ حد تک فائدہ ہو سکتا ہے کہ یورپی یونین نے ایک بڑی غلطی کی ہے، لیکن اگر دیکھو تو ایران کی جانب سے کیا ہوا ہے وہ بھی ایک گہرا غلط ہے। یورپی یونین کو اپنی طرف سے پھنسی ہوئی پالیسیوں کی بیداری کرنے کی जरور ہے، لیکن انہیں اس وقت کیا جائے گا وہ بھی ایک دیرپا سوال ہے 🤔
 
یہ کام بہت غلط ہے، آسمان میں پانی نہیں پائیں گے۔ پاسداران انقلاب کی جگہ اس وقت تک کچھ نہیں ہوا ہو گا جتنا کہ یورپی یونین نے اسے دہشت گرد قرار دیا ہو گا۔ آسمان میں پانی پانی گھٹنے دوگنا بھی نہیں کیا جائے گا۔ یورپی یونین نے اس کی جانب سے دوسرے ملکوں نے جو تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے وہ اس کا ایسا ہی کیا جائے گا۔
 
یہ بہت غلطی ہے 🙅‍♂️، ایران کو ان انقلابی وحدانیت کی تحریکوں سے کھل کھل منفی اثر پڑتا ہے جو یورپی یونین کا یہ فیصلہ بہت بدترین انداز میں ایران کے خلاف توجہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے। یورپی ملک ان تحریکوں کو دہشت گرد قرار دینے کی بجائے ان کے حقوق اور انسانی حقوق پر زور دینا چاہیے، ایران نے بھی اس میں اپنی جانب سے تحریکی جماعتوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے جو ابہام اور جھگڑوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
 
ایسا ہیں یہ فیصلہ تو نہیں آتا بلکہ اس پر فخر کرنا بھی نہیں چاہیے کہ آمریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہوا پھوئی ہے۔ ایران کی جانب سے یہ فैसलہ تو ان کے لئے بڑی غلطی ہے جس کا نتیجہ آسامہ ابدول رازق جیسے لوگوں پر دباؤ پڑے گا...
 
ایران کی جانب سے یہ فیصلہ تو بھی نہیں آتا، یہ ایک غلطی ہے جس کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں آ سکتا۔ یورپی یونین کی جانب سے کسی بھی ملک کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے قبل دوسرے ملکوں کو اس کے متعلق باضابطہ معلومات دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے پھراسے کو بھی ایک نئا منظر پیش کیا جائے گا تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ تمام ملک اس سے لے کر ایران تک کیسے React ہون्गے۔
 
ایران کی جانب سے یورپی یونین کو پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے نے اس وقت کی پلیٹ فارم پر ابھر کر رکاوٹ ڈالی ہیں۔ یہ ایسا لگتا ہے کہ ایران کی جانب سے کوئی سیاسی گھلتی بھری ہوئی پالیسی نہیں ہے جس سے اس نے یورپی یونین پر یہ فیصلہ لیا ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ ایران نے صرف اپنے اپنے منصوبے کو سامنے لانے کے لیے اس کے خلاف تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے، اب اس نے اسی طرح کے تحریکوں کو یورپی یونین کے خلاف بھی شروع کر دیا ہے۔
 
میری بات یہ ہے کہ ایران کو اس طرح کی غلطی سے آنکھیں لگ رہی ہیں، وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور یہ تو انتہائی غلطی ہے، یہ ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہئیے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں کو تبدیل کر سکیں اور آسامہ ابدول رازق جیسے لوگوں سے دباؤ ہٹا سکے۔

یہ بھی غلطی ہے کہ وہ اس عمل کو نہیں کرتے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں کو تبدیل کر سکیں اور آسامہ ابدول رازق جیسے لوگوں سے دباؤ ہٹا سکے، ان کے لیے یہ ایک غیر منطقی قدم ہے جو پھر اسے بھی ناکام کر دے گا۔

سورۃ ہے ان کے لیے نہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں کو بدل کر آسامہ ابدول رازق جیسے لوگوں سے دباؤ ہٹائیں، ان کی پالیسیوں کو بدلنا چاہیے تاکہ وہ ایک نئے راستے پر آ سکیں اور آسامہ ابدول رازق جیسے لوگوں سے دباؤ ہٹائیں، ایسی صورت حال میں ان کی جانب سے غلطی کرنا تو بے حقدار ہے۔
 
یہ فیصلہ کہلائی کہ ایران کی جانب سے پاسداران انقلاب کو یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، ایک بڑی غلطی ہوئی ہے! اس میں ایرانی حکومت کی ذمہ داری ہونا چاہئے، نہ کہ یورپی یونین کو۔

جب ایران کے خلاف تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا تو اس کا اقدامہ نہیں تھا اور اسی طرح یہ فیصلہ بھی نہیں ہے! یورپی یونین کی جانب سے ایسا کوئی دباؤ نہیں ہوتا کہ اس پر ان کے خیالات چلنا پڑ سکتے ہیں۔

اس فیصلے کی وجہ بلاشُبہ امریکا اور اسرائیل کی غیرانسانی پالیسیوں کی اندھی تابعداری ہے! یہ ایک جھوٹی پالیسی ہے جو کہلائی جا رہی ہے، نہ کہ ایران کو۔
 
ایسا کیوں کیا جائے گا؟ پاسداران انقلاب ایک سیاسی جماعت ہیں جو یہاں لڑائی لڑ رہی ہیں اور اس پر دہشت گرد قرار دینا ایسا محض توہین کا کام ہے، وہ لوگ جنہیں وہ دہشت گرد سمجھتے ہیں ان کی باتوں کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے اور اس سے پوری جماعت پر دباؤ پڑتا ہے، یہ یورپ کے لئے بھی کچھ نہیں ہو گا بلکہ اس کی جانب سے یہ فیصلہ کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیئے گئے عمل کی نتیجے کی طرف بھی توجہ دی جائے، مگر اس میں یورپ کو ہمیشہ پہلے سے توہین کا شکار ہونے دیتا ہے۔
 
یہ واضح طور پر ایک غلطی ہے۔ ایران کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اوراس سے نتیجہ ملتا ہے۔ آسامہ ابدول رازق کا دباؤ اس طرح سے کیسے کمزور کیا جائے گا؟ یورپ کو اپنی جان بھی اچھی طرح سمجھنی پڑی ہو گی۔ وہ ہمیشہ اس بات پر توجہ نہیں دیا کرے گا کہ انہیں اپنے آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ انہوں نے کیا کرکے اور اس سے کیسے خلاف کار محسوس ہوتا ہے۔
 
یہ سوچنا ایک بھرپور غلطی ہے کہ کسی ملک کو دوسرے ملک کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جائے گا اور اس پر پورا عالمی نظام اٹھ کر انکار کرے گا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ کسی کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جائے تو اس کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور عالمی نظام میں ایسی پالیسیوں کو مقبولیت نہیں مل سکتی۔

مثلاً یہ بات تو واضح ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایسے تحریکوں پر دہشت گرد قرار دیا جاتا رہا ہے جو ان کے خلاف ہیں اور اس سے انکی جانب سے بھی یہ نتیجہ نکلا ہے۔ اور اب ایران کی جانب سے دوسرے ملکوں پر ایسی پالیسی کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ کیسے چلے گا؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جائے گا تو اس کی جانب سے ایسی پالیسیوں کی بھی پابندی نہیں ہوتی۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک سیاسی گیم پلیئنگ کی بات ہے جہاں تمام دوسرے ماحول میں اپنی سے بہتر بات کرنا نہیں ہوتا۔ یورپی یونین کے اس فیصلے کی وجہ سے اب آسامہ ابدुल رازق جیسے لوگ دباؤ میں آئے گئے ہیں، حالانکہ وہ ایک سیاسی اور معاشی جرم کے لیے جانا جاتا ہے۔

وہ لوگوں نے اپنی حقیقت سے بچنے کی کوشش کی ہے جو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہیں اور وہ اس طرح کی غلطیوں سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ بالکل سچ تھا تو اس کے بعد ایران نے اس organisation کو دہشت گرد قرار دیا تھا، لیکن وہ نہیں کیا گیا ہے۔
 
واپس
Top