یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی تعیناتی شروع کردی

توٹی ہوئی علاقائی نہروں سے لے کر امریکہ کے کنٹرول میں آؤٹساڈز تک، سب کچھ ایک دھمپ ہی ہے اور یہ دھمپ ٹرمپ کی پالیسی سے شروع ہوئی ہے! اب یہی نہیں، توسیع کا سفر بھی شروع ہوا ہے اور اس میں سب کو اپنی فوجی موجودگی کی تعینات سے آگاہ کرنا پڑ گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ٹرمپ کے لیے ایک بھاری چیلنج ہوگی اور اس پر اس کی فوجی ناک آگے بڑھے گی، مگر یہاں تک کہ یورپی ممالک نے اپنا موقف یقینی بنایا ہے تو وہ جیت گئے ہوںگی! 😏
 
سفید لوگوں نے یہ سچا مظاہرہ کیا ہے، امریکہ فوجی موجودگی لانے کی کوشش کر رہا ہے اور اب یورپی ممالک نے جو بھی کیا ہے وہ سب ایک جملہ میں لگایا ہوا ہے۔ دہرتی مینوں پر فوجی موجودگی لانے کی بات سے پوری دنیا ناقص ہو گئی ہے، اب ایک ایسے وقت کا انتظار کیا جاسکتا ہے جب یورپی ممالک اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
 
اس مضمون کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ امریکا، اس پر یورپی ممالک کی موجودگی سے خوفزدہ تھی اور اب وہ ان کے ساتھ جنگ لگای رہے ہیں۔

اس بات پر یقین ہے کہ یورپی ممالک نے ایسی صورتحال کو پہچانا ہے جس میں وہ امریکہ کی مدد سے اس خطے میں فوجی موجودگی کو ختم کر سکتے ہیں۔

یورپی ممالک نے بھی یہ بات تصدیق کی ہے کہ وہ ایسے معاملات کا حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں امریکہ کے خوفات کو پورا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ اس وقت سے میں یوں سوچتا ہوں کہ اور ناکام ہونے والی جنگوں کی واقفیت کیسے پوری کی جاسکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سینیٹ میں بات کرنے والے لوگوں کو اپنی بات پر چیلنج کرنا چاہیے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ جو بھی بات ہوتی ہے اس میں کسی نہ کسی طرح سے امریکہ کی طرف جھوٹ پھونکنا چاہیے۔
اس طرح کے معاملات میں فوجی موجودگی کیسے قائم کی جاسکتی ہے، یہ بات اس وقت کے سے زیادہ حقیقی نہیں لگتی اور پچھلے صدیوں میں بھی اس طرح کے معاملات ہوئے تھے جس سے سینیٹ کو مشکل آ گیا تھا۔
اس بات پر یقین کرنے والے لوگ یہ کہیں نہیں رہتے کہ فوجی موجودگی نہیں پوری طور پر قائم ہوسکتی ہے اور اس سے بھی وہ کسی بھی فوجی کارروائی میں ذمہ دار رہتے ہیں۔
 
یہ تو بہت حیران کن situations ہے، ایسے میں یورپی ممالک نے ایسی اتھکی بات کی ہے جو پوری دنیا کو دیکھ رہی ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں، اس سے یہ نتیجہ ہوسکتا ہے کہ ٹیکسٹائل اور پانی کی جگہ لڑائیوں میں ہر رات سونے کا چیلنج رہے گا، اور یہاں تک کہ امریکہ کی طاقت بھی ان کے سامنے نہیں آئی بلکہ اس کا ایسا ہی مقصد دیکھ رہا ہے جو اور بھی خطرناک بن جاتا ہے
 
واپس
Top