امریکہ یورپ کا سب سے بڑا تجارتی لین دین کرتا رہتا ہے، اسے یورپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں بناتا، یورپ اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ سب سے زیادہ تجارتی شراکت ہیں۔
امریکہ اور یورپ کی برآمدات کی تعداد میں فرق نہیں، دونوں ملکوں نے سال 2025 میں کل تقریباً 883 ارب ڈالر کی تجارت کی۔ آج بھی یورپ اور امریکہ کے درمیان لین دین رہتا رہا ہے، اس میں अमریکہ نے 347 ارب ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ یورپ نے 538 ارب ڈالر کی برآمدات کیں۔
یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان لین دین میں ایسا مظاہر ہوا ہے کہ یورپ کو 191 ارب ڈالر کی معاونت ملی ہے، جو اس ملک کے لیے ایک بڑی رینو ہے۔
چین اور یورپ کے درمیان تجارتی لین دین میں فرق ہے، کیونکہ چین پہلے سال 2025 میں 749 ارب ڈالر کی تجارت کی لیکن اس میں بھی امریکہ نے بہت زیادہ برآمدات کیں۔
ایسا مظاہر ہوا ہے کہ یورپ اور برطانیہ کے درمیان لین دین میں بھی ایسا فرق ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ان کی معاونت کو آگے بڑھاتا ہے، برطانیہ اور یورپ نے سال 2025 میں کل تقریباً 1 ٹریلین ڈالر کی تجارت کی۔
سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کے درمیان لین دین بھی ایک عجیب مظاہر ہے، اس میں یورپ نے سوئٹ زرلینڈ کو تقریباً 193 بلین یورو برآمد کیے اور سوئٹزرلینڈ سے 135 بلین یورو درآمد کیے گئے۔
ترکی اور یورپ کے درمیان لین دین بھی ایک حقیقی مظاہر ہے، اس میں یورپ نے ترکی کو تقریباً 112 بلین یورو کی اشیا برآمد کیں اور ترکی سے 98 بلین یورو مالیت کی اشیاء یورپ کو برآمد کیں۔
امریکا اور ہندوستان کے درمیان لین دین بھی ایک اہم بات ہے، ہندوستان اور یورپ کے درمیان تجارت میں فرق ہے، جو ابھی بھی ایک نئی شروعات کرتا رہتا ہے۔
یہ بات سچ میں چالaki hai ki دنیا میں تجارت کی پہلی نمائش کوئی انٹرنیٹ نہیں کرسکتی اور لین دین بھی اس طرح ہی رہا ہے۔ لیکن یورپ اور امریکہ کے درمیان لین دین میں بھی ایسا مظاہر ہوا ہے جیسا کہ یورپ کو 191 ارب ڈالر کی معاونت ملی ہے، یہ تو اس کے لیے ایک بڑی رینو ہے اور دنیا کی نوجوان نسلیں اس کا ان شئون سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ طاقت جنگ کی گزاری ہوئی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں لین دین بھی ایسی ہے جیسا کہ کوئی دوسرا نہیں بناتا۔ وہی معاونت جو امریکہ دی رہا ہے، یورپ کی لیے اچھی ہو گی۔ چीन کے ساتھ تجارت میں فرق ہے، اور برطانیہ کو معاونت ملنے کی ضرورت ہے تو وہ بھی یورپ کا ہو جائے گا۔
چین اور یورپ کے درمیان تجارتی لین دین میں بھی فرق ہے، اس میں چین نے پہلے سال 2025 میں 749 ارب ڈالر کی تجارت کی لیکن اس میں امریکہ نے زیادہ برآمدات کیں...
امریکہ اور یورپ کی تجارتی لین دین ایک حقیقی راتوں سے راتوں کی گئی چیز ہے، دونوں ملکوں نے اپنی طرفت کر دی ہے اور ابھی بھی ان کے درمیان ایک دوسرے سے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں।
امریکہ نے یورپ کو لین دین میں تقریباً 347 ارب ڈالر کی برآمدات کی ہیں، جو یورپ کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے، اس سے یورپ کو اپنے معاشی حالات میں بھی نئی رенو ملی ہے۔
لیکن چین اور یورپ کے درمیان تجارتی لین دین میں فرق ہے، کیونکہ چین پہلے سال 2025 میں 749 ارب ڈالر کی تجارت کی لیکن اس میں بھی امریکہ نے بہت زیادہ برآمدات کیں۔
امریکا کو اپنی تجارتی لین دین کے لیے ایک حقیقی شاندار ریکارڈ حاصل ہوا ہے، اس میں وہ ایسے ملکوں سے تعلقات بڑھا رہا ہے جس کی وہ اپنی تجارت کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
اس میں یورپ، برطانیہ، ترکی اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، جو ایک دوسرے سے معاونت کی طرف رہتے جارہے ہیں۔
یہ بات پچتی ہی آمریکی اور یورپی تعاون پر کہ ان میں سے کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو دوسرے کی معاونت کرتا نہیں، یہ تو دیکھ لیے ہی آمریکی 347 ارب ڈالر اور یورپی 538 ارب ڈالر کی برآمدات کر رہے ہیں، پھر بھی یہ بات ان کے تعاون پر مبنی نہیں ہو سکتی کہ اس کے نتیجے میں جو معاونت ملا اس کا یورپی ملکوں کو ایک بڑا فائدہ ہوا ہے، آمریکی اور یورپی تعاون پر یہ بات بھی پچتی ہے کہ یہ ان میں سے کوئی ایسا ملک نہیں جس کی تجارت اور معیشت اپنی ہی ترقی کرتے رہوں، اس لیے یہ دیکھنا جاری ہے کہ یہ تعاون کتنے ایمٹی میں نہیں پہنچ سکتا۔
یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اور یورپ کی تعلقات کیسے بڑھتی چلی گئیں، ابھی 10 سال پہلے تک ان ملکوں نے معاونت کی سیکھ لی تھی، اب ان کی تعلقات ایک نئی سطح پر ہوگئی ہیں جس میں ابھی بھی فرق پائے گئے ہیں، یورپ اور برطانیہ کے درمیان لین دین کا ایسا مظاہر ہوا ہے جیسے انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کی تعلیم دی ہو، سوئٹزرلینڈ اور یورپ کے درمیان بھی لین دین رہا جس میں یورپ نے سوئٹ زرلینڈ کو ایک عجیب مظاہر دیا ہے۔
اس تجارتی لین دین کی بات کی جا رہی ہے تو میں سوچتا ہoon کہ یہ بھی ایک جیسے جیسے سسٹم ہے، تاکہ کوئی نہ کوئی ملک اپنے لئے بہترین معاشی گatividhiyaan kar sake. لیکن جب میں دیکھتا ہoon کہ برطانیہ اور یورپ کے درمیان لین دین میں ان کی تعاون کی گاہت ہے تو میں سوچتا ہoon کہ اس پر کوئی سنس پکارتا ہے.
امریکہ اور یورپ کی یہ تجارتی لین دین دیکھتے ہی دل دلا دیا ہوا ہے۔ یہ دو طاقتوں کے درمیان ایسے تعاملات کی نشاندہی ہے جو دنیا کو نئی اور بہتر طرف لے جائیں گے۔
امریکہ اور یورپ کی تجارت میں بھی ایسی دیر و پیداوار کے ساتھ پیشرفت ہوئی ہے جو دنیا کو آگے بڑھانے میں مدد کرتے رہیں گی۔ یورپ اور अमریکہ دونوں کے درمیان تعاون سے دنیا کو نئے طرزے پر چلتے دیکھنے کو ملتا ہے۔
چین بھی اپنی جانب سے تجارتی لین دین میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن یورپ اور امریکہ کی طرح اس کے پاس پیداواری صلاحیتوں کا بھی ایسا ساتھ ہے جو دنیا کو نئی طرف لے جائیں گے۔
امریکہ اور یورپ کی تجارت کی تعداد میں فرق ہونے کے باوجود، یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ بڑی معاونت کرتے رہتے ہیں جو ان کی تجارت کو آگے بڑھاتی ہے۔
یورپ اور برطانیہ کے درمیان لین دین میں ایسا مظاہر ہوا ہے جیسا کہ یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے معاونت کرتے رہتے ہیں اور ان کی تجارت میں بھی یہ مظاہر ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو آپسی معاونت سے توجہ دلاتے رہتے ہیں۔
چین اور یورپ کے درمیان لین دین میں بھی فرق ہے، کیونکہ چین کو امریکہ کی تجارت سے زیادہ معاونت مل رہی ہے جو اسے ایک بڑا رینو ہے۔
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان لین دین میں بھی ایسا مظاہر ہوا ہے جیسا کہ یہ دونوں ملک ایک دوسرے سے معاونت کرتے رہتے ہیں اور ان کی تجارت میں بھی یہ مظاہر ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو آپسی معاونت سے توجہ دلاتے رہتے ہیں۔
اس وقت کی دنیا میں تجارتی لین دین کا پہلا مقام امریکہ پر رہتا ہے، اس کو اس کی بھرپور کارکردگی اور معاشی قوت کا شکر گزارنا چاہیے
امریکہ اور یورپ کی ملنے والی تجارت میں ایسا مظاہر ہوا ہے جو دوسری دنیا میں بھی ایسی ہی فرق کو دکھاتا رہتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اورنگیز نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ تجارتی لین دین میں ایسی مظاہر ہوتے رہتے ہیں جو دنیا کو ایک دوسرے سے الگ کرتے رہتے ہیں
ایسا نظر آتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے درمیان تجارتی لین دین میں کوئی خاص فرق نہیں، دونوں ملکوں نے سال 2025 میں کل تقریباً 883 ارب ڈالر کی تجارت کی ہے۔ لیکن چینیہ اور یورپ کے درمیان لین دین میں بھی فرق ہے، کیونکہ چین نے پہلے سال 2025 میں زیادہ تجارت کی ہے لیکن اس میں بھی امریکا نے بہت زیادہ برآمدات کی ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ یورپ اور ایشیا کے درمیان لین دین میں کوئی خاص فرق نہیں، دونوں ممالک نے اپنے اپنے معیار پر تجارت کی ہے لیکن ابھی بھی ایسا مظاہر ہوا ہے کہ یورپ کو چین سے 191 ارب ڈالر کی معاونت ملی ہے جو اس ملک کے لیے ایک بڑی رینو ہے۔
لین دین کی تاریخ کے پچیس سالوں میں، انسانوں نے اسی سچائی کو جانتے ہوئے کہ تجارت کی دنیا میں دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا کیا جائے تو زیادہ تراخی اور سمجھتے ہوئے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بات ایک یاد رہنے والی ہونا چاہئے کہ جب ہم کسی دوسرے ملک سے معاونت یا تجارت کرتے ہیں تو اس میں ایسی چیزوں کی بھی رہنی چاہئے جو اس خطے کے لیے بہترین ہوجائیں۔
آج کی تجارت کی دنیا میں، یورپ اور امریکہ جیسے ملک جو دوسرے ساتھ ایسی معاونت کر رہے ہیں ان میں بھی یقیناً ان کی طرف سے بھی ایسا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ لیکن اس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ یہ لین دین میں ایسی چیزوں کو شامل کرتی ہے جو اس خطے کی ترقی اور Development Ko ہم بھی ان کے ساتھ تعاون کرتے رہنا چاہئے۔
امریکا اور یورپ کی لین دین میں ایسا مظاہر ہوا ہے جو ایک دوسرے سے پھول پوٹنا اچھا ہوتا ہے ان دونوں کے درمیان لین دین میں یورپ کو بہت سارے ڈالر کی معاونت ملی ہے، جس سے اسے ایک نئی رینو مل گئی ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان لین دین میں بھی ایسی وجہ ہے جو لوگوں کو پوچھنے پر مجبور کر دیتا ہے، کیونکہ چین نے سال 2025 میں 749 ارب ڈالر کی تجارت کی لیکن اس میں بھی امریکا نے بہت زیادہ برآمدات کیں۔
برطانیہ اور یورپ کے درمیان لین دین میں بھی ایسی وجہ ہے جو دوسرے ملکوں کو بھی پوچھنے پر مجبور کر دیتا ہے، اس نے سال 2025 میں کل تقریباً 1 ٹریلین ڈالر کی تجارت کی۔
سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کے درمیان لین دین میں بھی ایسی وجہ ہے جس سے لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا، اس نے سوئٹزرلینڈ کو تقریباً 193 بلین یورو برآمد کیے اور سوئٹزرلینڈ سے 135 بلین یورو درآمد کیے گئے۔
ترکی اور یورپ کے درمیان لین دین میں بھی ایسی وجہ ہے جس سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیونکہ ترکی کو تقریباً 112 بلین یورو کی اشیا برآمد کیں اور ترکی سے 98 بلین یورو مالیت کی اشیاء یورپ کو برآمد کیں۔