امریکہ سے بعد ایسے ایک یونین جو یورپی ملکوں کی سرحدی معاملات میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس نے اپنے مظالم کو دنیا بھر میں پہچاننے کی قوت برقرار رکھی ہے، یہ یونین ابھی ایک غیر معمولی پیش رفت میں آ چکا ہے جس میں انہوں نے ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالاس نے اعلان کیا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے وزرائے خارجہ پر مبنی ہے اور اس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ کو دہشت گرد تنظیوں کی فہرست میں شامل کرنے پر تمام وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے۔
خاتون کاجا کالس نے ایک مختصر بیان میں یہ کہا کہ "جبر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انہوں نے اٹھایا ہے ایسی پابندی جو بلاشبہ دہشت گردی کی سطح پر انہی تنظیموں کو قائم کرے گا"۔
دنیا میں انسانی حقوق کے گروپوں نے اٹھایے ہوئے ان واقعات سے مخالفت کی ہے اور یہ بات صاف ہونے چکی ہے کہ دسمبر اور جنوری میں ہونے والی بدامنی کے ہفتوں کے دوران ہزاروں لوگوں، بشمول آئی آر جی سی کے مظاہرین کے ہاتھ سے مارے گئے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ کہا کہ یہ فیصلہ ایک ’اسٹنٹ‘ اور ایک ہے، جس سے ایران کے دوسرے ساتھی ملکوں میں سفارتی تعلقات کو متاثر نہیں ہوتا، اس لیے کہ پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا جانے کے بعد اور بھی ان سے تعلقات برقرار رہیں گے۔
ایران کی حکومت نے یہ فیصلے ’غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ’امریکہ اور صہیونی حکومت کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کی تقلید‘ پر مبنی ہے، جس میں پاسداران انقلاب کو قائم کرنا بھی شامل ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج سے الگ ایک متوازی سرکاری مسلح فوج ہیں جو خاص امور کی انجام دہی کے لئے کام کرتے ہیں اور براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہیں، جس نے انہی تنظیمیات کی بنیاد رکھی ہیں۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے یورپی یونین کا یہ فیصلہ ’اسٹنٹ‘ اور ایک ہی قرار دیا ہے جو کہ ایسے سے جھلکیوں میں رونما ہوا ہے جیسے کوئی سچائی نہیں کی گئی ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ’امریکہ اور صہیونی حکومت کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کی تقلید‘ پر مبنی ہے، جس میں پاسداران انقلاب کو قائم کرنا بھی شامل ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین نے اپنے آؤٹ پوائنٹ بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس سے ایران کو بھی متاثر ہونگے؟ دھمکاوں کی پالیسیوں پر یقین رکھنا نہیں چاہئیے، کچھ جھیلنے سے پہلے تو سوچنا چاہئیے
ایہ فیصلہ ایران کے ساتھ یورپی یونین کا تعلقات توڑنے کی طرف تaki rakha jata hai, lekin ye bhi sach hai ki Iran pasdaran e inqalab ko dastghir e dehshtgerd organization mein shamil karne par kya prabhav padega? Kya yeh safar Iran ke liye siddhti banega? Naya kya hoga ek desh ki duniya me?
امریکا سے مل کر ایک یونین جو یورپی ملکوں کی سرحدی معاملات میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس نے اپنے مظالم کو دنیا بھر میں پہچاننے کی قوت برقرار رکھی ہے، لیکن اب وہ ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے جو کہ ایسے سے نہیں ہے کہ اس کو ہم ایسے لوگ بھی جانتے ہیں جن کی زندگی ’دہشت گردی‘ میں گزارنا پڑا ہو، اور وہ بھی دوسری جانب سے کہتے ہیں کہ اس کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا گیا ہے جو کہ ہمیشہ یہ بات سمجھنے کی اور پہچاننے کی کوشش میں نہیں آئے ہیں
ایسے سے جب وہ ان کے ’دہشت گردی‘ پر مبنی مظالم کو دنیا بھر میں پہچاننے کی قوت برقرار رکھی ہے، تو یہ بات ہمیشہ ہو جاتی ہے کہ دوسری جانب سے اس پر تنقید اور مخالفت کی گئی ہے، لیکن اب اس بات کو بھی سمجھنا چاہئے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا گیا ہے جو کہ ایک پابندی کی جانب سے ہے اور اس کی واضح رائے کے لئے یورپی یونین نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے
اس بات کو بھی سمجھنا چاہئے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا جانے سے پوری دنیا میں ایسی نئی سرحدی معاملات کی پیدا ہو گئی ہیں جو یورپی ملکوں کے لیے نئے طور پر پेश کر رہی ہیں اور اس سے ایسے مظالم کو پہچاننا مشکل ہو گئا ہے جو یورپی ملکوں کی سرحدی معاملات میں اہم کردار ادا کر رہے تھے
اس نئے فیصلے سے تو یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ بات بھی صاف ہونے چکی ہے کہ یہ فیصلہ کتنا زیادہ روادار ہے یا نہیں ؟ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے سفارتی تعلقات کو متاثر نہیں ہوتا، لیکن یہ بات بھی صاف ہونے چکی ہے کہ کتنا ٹھوس اور زیادہ روادار اس فیصلے کے پچھلے کی جائے گا ؟
اس وقت کے سیاسی معاملات میں ایسے دہشت گرد تنظیموں کو قائم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، جس سے شہری زندگی کو متاثر نہیں ہوتا، لیکن یہ بات صاف ہونے چکی ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم کو قائم کرنا بھی ایسی سے مشکل نہیں ہوتا جس کا اثر شہری زندگی پر پڑتا ہو ، اس لیے یہ بات صاف ہونے چکی ہے کہ کتنا بھلے لئے وہ فیصلہ ہوا جو یہ ہوا ہے ؟
ایک سے زیادہ نیند نہیں لینا چاہئے اور ایسی باتوں کے تنگ آنے سے بچنا چاہئے جو انساف کی طرف لے جاتی ہیں। یورپی یونین کا فیصلہ نہایت حتیجہ واضح ہے اور اس پر توجہ دی جانی چاہئے، کیونکہ ایسا کیا جانا ہوا ہے؟ ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا وہی بھرپور کارروائی تھی جس سے ان کے معیاروں کی گھنٹیوں میں پہچان لی جا سکتی ہے...
یہ دیکھا جائے تو یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے تو اس کی بات صاف ہو گئی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر مبنی ہیں۔
ایران کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’غیر منطقی‘ ہے، لیکن اس سے ان کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے اس کا استعمال ایسے حالات میں کرنا چاہیے جب وہ اپنی جانب سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
یورپی یونین کے اس فیصلے نے ایران کو پہچانتا ہوا ہے اور وہ اس کی پرستش کرنے لگے ہیں۔ یہ ایک نا sane عمل ہے جس کا اہل نہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین نے ایک ایسا فیصلہ لیا ہے جو ان کے مظالم کو دنیا بھر میں پہچاننے کی طاقت دکھاتا ہے اور Iran کی سرحدی معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے
ایسا نہیں کہ وہ اس کی پوری سادغریت کو دیکھ رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی گروپوں نے اٹھایے ہوئے ان واقعات سے مخالفت کرنے لگے ہیں
یہ ایک ایسا علاج ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ نہیں دیتا، اور اس سے یہ بات صاف ہونے چکی ہے کہ ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا جانا تو ناقابل معاملہ ہیں
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی بہت متاثر ہو گئی ہے، اور اس سے ایران کے دوسرے ساتھی ملکوں میں سفارتی تعلقات پر اثر پڑا ہوا ہے
اس کی وضاحت کرتے ہوئے، Iran ki Government ne kaha hai ki yeh faisla 'ghair manatiq, ghair zameedaran aur badiyat par muba'it' hai, jo ki ek political strategy hai jo ki apne foreign policy ko affect karta hai
آج کے وقت ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا یہ سچ ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کے ساتھ پوری طرح ایک ساتھ رہتے ہیں، لیکن یہ سوچنا تھوڑا سا بھی نہیں کہ ہم کس طرح ایسی اقدامات پر مبنی پالیسیاں تیار کر رہے ہیں جو دنیا میں غلط فہمی پیدا کر دیتی ہیں اور ایران کو بھی اس طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں وہ دنیا کی سطح پر اپنے آپ کو دھمکی کے طور پر پیش کرنا پڑتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یورپی یونین نے ایران سے ایک بدترین معاملات پر گہرایاب کی پہچان لی ہے اور ابھی انہوں نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، یہ بات سچ ہے کہ ایران میں جہلت بہت زیادہ ہے اور اس طرح کی تھوڑی سی بات اٹھانے پر بھی ملک انہی دہشت گرد تنظیموں سے پہلے ہی ٹوٹ گیا ہوتا ہے، لگتا ہے کہ یورپی یونین نے اس فیصلے میں اپنی خود کھو دی ہے اور اب ان کا معاملہ بھی یہی ہوجاتا ہے
ارناکلیٹ کے بعد یہ ایک بہت دیر سے بات ہو رہی تھی کہ ایران کی حکومت نے اپنی ملکی سرگرمیوں پر انحصار کرنا پڑسکتا ہے، لیکن اب یہ فیصلہ اس بات کو دکھانا چاہتا ہے کہ وہ کتنا ہی مہانمائی اور غیر معمولی پیشرفت کی طرف توجہ دی رہی ہے، لیکن یہ بھی بات ہے کہ انہوں نے اس فیصلے پر بات کرنے سے پہلے اپنی ملکیت کو جھلکیوں میں رونما کیا ہوا تھا، اور اب وہ یہ بات کھیل رہے ہیں کہ انہوں نے اس فیصلے پر اتفاق کیا ہے یا نہیں، جس سے لوگ مجھے لگتا ہے کہ وہ اچھی طرح پریشانی میں ہیں
امریکی ساتھیوں کا یہ فیصلہ ایک اچھا قدم ہوگا لیکن وہ اس کو ملکی مفاد کے لئے کیے ہوئے یہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، ایران کی حکومت کو یہ فیصلہ بھی ایک اچھا قدم ہوگا لیکن وہ اس میں کسی بھی طرح سے توازن نہیں بنا سکتی۔ یورپی یونین نے اپنی جانب سے ایسے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے جو ایران میں دہشت گردی کے حوالے سے ہو رہے ہیں، لیکن وہ اس کو ایسے طریقے سے نہیں کیا ہے جس سے ایران کی حکومت کو بھرپور اعتماد ہو۔ یہ ایک اچھا کام ہوگا اگر ایران کی حکومت اپنی جانب سے بالترتیب دھمکیاں نہیں دیں اور آئین کی شرائط کو سمجھے، لیکن وہ یہ کیسے کر سکتی ہے؟
اس فیصلے کا یہ معینہ اچھا نہیں لگ رہا، مگر اس کی دھمکیوں سے ایک ہی بات واضح ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا گیا ہے اور یہ فیصلہ ناقصیسی کی طرف بڑھ رہا ہے
بھارتی فلموں میں اس طرح کی گنجائش نہیں دیکھی جاتی ، حالاں کہ ایران کے پاسداران انقلاب کو دنیا بھر میں ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا گیا ہے لیکن ان کے اراکین ابھی بھی ساتھ مل کر فوجی اور سفارتی کام کرتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایران میں یہ ساتھیوں کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس لیے اسے فوج اور سفارتی کام کے لئے الگ دیکھا جاتا ہے۔
ایسا تو لگتا ہے کہ اس واقعات سے ایران کے پاسداران انقلاب کے مظالم کو دنیا بھر میں پہچاننے کی قوت برقرار رہی ہو گی۔ اگر صہیونیت اور امریکہ کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے انہوں نے یہ فیصلہ لیا تو واضح طور پر یہ ان کی جدوجہد کو مینے چلا دیا ہو گا۔
یہ ایک بڑا حربہ ہے اور اس کا علاج یہی نہیں ہو گا، یہ ساتھی ملکوں کی سفارتی تعلقات کو بھی متاثر کرگا اور ایران کے ساتھ تعامل کو بھی چیلنج کھوج گا!
ایک بات واضح ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کے تحریکوں نے اس فیصلے سے مخالفت کی ہے اور یہ بات صاف ہونے چکی ہے کہ دسمبر اور جنوری میں ہونے والی بدامنی کے ہفتوں کے دوران ہزاروں لوگوں کو مارا گیا تھا!
اب یہ سچائی کا علاج ہوسکتا ہے یا نہیں، لیکن اس کی آگہی ضروری ہے اور یہ پالیسی اپنی جگہ پر ہونا چاہیے!
یہ ایک حقیقی اور خطرناک صورتحال ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی ٹریڈنگ پارٹنر امریکہ نے ایک یونین کو ایران کے دہشت گردوں کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی سیاسی حالات بہت مشکل ہیں اور ہمیشہ کسی نئے تیزاب کی تیارتیں رکھتے ہیں جو دنیا کو ایک نئے جھنڈے میں لے جاتی ہیں، لیکن یہ بات کو یقیناً تسلیم کرنا چاہیے کہ ایران کے دہشت گردوں کے ساتھ سرحدی معاملات میں یورپی یونین کی رائے ایک نئے ماحول کا آغاز ہو گیا ہے جو دنیا کو ایک اور خطرناک راستے پر لے جاتا ہے