US approves $6.5 billion military equipment sale to Israel | Express News

پی سی گیمر

Well-known member
امریکا نے اسرائیل کو $6.5 ارب کے عسکری سازوسامان فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو اس خطے میں ایک بڑی فوجی فروخت ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مختلف قسم کی عسکری سازوسامان فراہم کیا جائے گا، جو اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس فوجی فروخت کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو $3.8 ارب کے اپاچی ہیلی کاپٹر، $1.98 ارب کے نئے لائٹ وہیکلز شامل ہوں گے۔ اس عسکری سازوسامان میں اسرائیل کو نیمر آرمڈ پرسنل کیریئرز کے پاور پیکس، لاجسٹک سپورٹ اور دیگر عسکری آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فوجی فروخت سے اسرائیل کو موجودہ اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ خاص طور پر زمینی افواج کی نقل و حرکت، آپریشنل استادت اور لاجسٹک نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

امریکا نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی بھرپور حمایت پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کیا ہے، تاہم اس کے باوجود امریکا نے اس بڑے دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانون دانوں نے انکار کر دیا ہے۔
 
اس defence agreement ko dekhte hain to mera feeling kaisa hai? ye ek bada confusion hai, America ne kaha hai ki yeh Israel ke defense system me madad karegi, lekin Ghaza war mein America naye support se ne kaha tha. Yeh dabaawa jo America ne kaha hai ki Israel ke defense system ko mazboot karne ke liye, humari bhi khushi hai? Lekin inmein se ek baat to yeh hai ki kya Israel apni zindagi aur rastein ka sath dene wale logon ke saath milke nahi rakhti?

aur phir kya humein lagaana chahiye ki America Israel ko defense system dena kaisa sahi hai? Yeh sirf ek market deal ho jaata hai, bas yeh batao ki America ka yeh decision kaisi takraayi se liya gaya hai? Kuch logon ke hisab se America ne baaki countries ko bhi ye defense system dena shuru kar diya hai. toh mere pasand ka nahi hai kyunki yeh ek bada dabaawa hai jismein khelne mein koi garib nahi hai.

aur phir yeh to soch lena chahiye ki kya America ko Israel ke defense system me investment karna zaroori hai? Kuch logon ka khayal hai ki America ke liye yeh ek bada risk ho sakta hai, lekin mere pasand ka nahi hai kyunki humare desh mein bhi aise hi situations aaye hain jahaan humein khelna padta hai.
 
یہ فوجی فروخت واضح تھا کہ امریکا بھی اسرائیل کے ساتھ تعاون پر لگ گئی ہے اور وہ اس خطے میں کسی بھی صورت حال کو ایک جھٹلے بنانے کے لئے نہیں ہوتا ہے، ان سب لوگوں کے ساتھ جو وہ اس معاہدے میں شامل ہو گے وہ سب ایک ہی اور ایسے ہی نہیں ہوگے، اس لیے ایسے کہیں بھی سیکرٹی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت ہوگی اور وہ سب ایک ہی اور ایسے ہی نہیں ہوگے

مگر یہ بات تو کچھ سے بھی مختلف ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانون دانوں نے انکار کر دیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب اس معاہدے کے بارے میں بھی مختلف خیالات رکھتے ہیں اور اس لیے یہ بات بھی محسوس ہوتی ہے کہ وہ سب ایک ہی نہیں ہوگے
 
🤝 یہ بھی ریکارڈ ہونے والا معاہدہ تو اس کے ساتھ اسرائیل کی فوجی طاقت کو مزید مضبوط کرنے کے لئے ہے، لیکن یہ سوچنا ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ کیا ان تمام عسکری سازوسامان سے اسرائیل کو حقیقی سلامتی ملی گئی ہو؟

دنیا بھر میں بہت سی ایسی حالات ہیں جب لوگ اپنے ملک کی فوج کے لئے عسکری سازوسامان منگا رہے ہوتے ہیں، لیکن ان سارے سازوسامان کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے ملک کو حقیقی سلامتی بھی ملی نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ بات بھی سوال ہے کہ اسرائیل کی فوج کس طرح اپنی ایسی سلوک میں تازگی مل سکے گی۔
 
اس عسکری فروخت کا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا میں کوئی بات نہیں ہو رہی ہو۔ اسرائیل کیDefense Forces کو اس قدر بڑا defense budget ملتا ہے کہ وہ اپنے enemy کے ساتھ بھی اس طرح کی توسیع کر سکتا ہے جس سے دنیا کے دوسرے فوجوں کے budget کو کچھ نہ کچھ متاثر ہوتا ہے۔

اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں امن کی بحث کرنا مشکل ہے، جب تک کہ کسی نے اپنی فوج کو زیادہ متحرک نہ کر دیا ہو۔ اس پر منظر نامہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا دونوں نے ایسا معاہدہ کیا ہے جس سے دنیا کو تھکایا جا رہا ہے۔
 
اس معاہدے پر امریکی طرف سے دے گئی اجازت کو پھانسی دیتے ہوئے، یہ سچ تھا کہ اسرائیل کی Defense و Security کو بڑی فوجی فروخت سے عسکریت پسندوں کے حلقوں میں شہرت ملے گی... ہم ایسے ساتھ دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے اس معاہدے کی کبھی جان بھی نہیں پائی ہوگی... اور انhuman rights organisation bhi uski approval ko reject kardi hoon.
 
aise bhi kya hua? ye sab kuch kaafi saamanya cheez hai, lekin ek baat yaad rakhna chahiye ki Israel ko kis tarah ki suvidha di gayi hai. $6.5 arab dollar ka kharch karna bhi bahut jyada hai, aur yeh bhi sawal hai ki ye sab kitne begherar mehsoos hoga. toh meri rai yeh hai ki humein yeh sawaal puchna chahiye ki kya isse sambhaali kisi aur kshetra ko kaafi madad milegi?
 
تمام یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو $6.5 ارب کے عسکری سازوسامان فراہم کر رہی ہے، لیکن اس سے پوچھنا چاہئے کہ ایسے سارے سامان کی ضرورت کیوں ہے؟ اسرائیل کو $3.8 ارب کے اپاچی ہیلی کاپٹر بھی ملا گيا، جو کہ زمینی افواج کی نقل و حرکت میں مدد دیتا ہے تو لہذا اس سے بچوں اور خواتین کو نقصان پہنچنا چاہئیے۔
 
یہ ایک بڑی فوجی فروخت ہے۔ اسرائیل کو اس معاہدے سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا، بل्कہ یہ امریکا کی دفاعی پالیسی کی ایک اور جانب پر چل رہی ہے۔ اسرائیل کی فوج کو بہتر weaponry اور سامان فراہم کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات نہیں کہ اس سے ان تمام معاملات میں ایک حل مل جائے گا جو دنیا کو لے رہے ہیں۔ غزہ جنگ کے بعد انکار کر دیے گئے یہ معاہدے، اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا کی ناکام پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔
 
اس بڑے معاہدے کا یہ فیصلہ میرے لئے کافی غمزائی کا مواقع بن گیا ہے، تھوڑی سے عرصہ پہلے نہیں بھی اس طرح کی عسکری سازوسامان کی فراہمی اور ایک دوسری جگہ ان پر روکاوٹ لگی تو ہو گی، یہ معاہدہ بھی ایسی ہی سیرے میں آ رہا ہے، امریکا نے اپنی حمایت کو ایک ایسے معاہدے میں دکھایا جو اسرائیل کی فوج کے لیے ایک بڑا عطیہ ہو گا؟ انhuman rights organisationon ne bhi inkar kar diya hai, to kya yeh baat zaroor sahi hai.
 
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ بحث و مبادلاتاہت فراہم شدہ اس معاہدے کے بعد، نہ صرف امریکا کے ساتھ تعلقات متاثر ہوگئے ہیں بلکہ ایسے ملکوں کے ساتھ بھی تعاملات میں بدلाव آیا ہے جو اس معاہدے کو مذاق میں لینے پر تیار تھے۔

امریکے کی طرف سے اس معاہدے کے تحفیز سے اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، لیکن یہ بات بھی لازمی ہے کہ اس معاہدے سے انسانی حقوق اور قانون کا تنقید کرتے سائنسدانوں کی نظر بھی اس پر ملوث ہے۔

اس معاہدے سے سیکورٹی چیلنجز کو جھیلنے میں اسرائیل کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، لیکن اس کا تعلق ایک خاص خطے پر بھی ہے اور یہ بات سچ ہے کہ ایسے معاہدوں کی بنیاد ان خطوں پر رکھی جاتی ہیں جو دنیا کے تناظر میں خاصی قابل توجہ ہیں۔
 
اس بات پر مینے THINK Kیا ہے کہ اسرائیل کو یہ سارے سامان ملنے سے وہ اچھی طرح سے منسلک ہو گیا ہے؟ نا ہی وہ اپنی فوجی پالیسیوں پر انکار کر رہے ہیں، نا ہی وہ ایسے لوگوں کی بات سونگھ رہے ہیں جو اس خطے میں رہتے ہیں۔ میرے خیال میں اور پوری دنیا میں یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے معاملات میں توازن برقرار رکھنا چاہئے، نا ہی وہ کسی ایسے ملک کی طرف سے بھرپور حمایت کی وجہ سے اس خطے میں ماحول کو خراب کرنا چاہئے۔
 
[ GIF: ایک پیٹی بچے کی جو کہتا ہے "اچھا تو ہوا، اب اس Israel کو bhi America ki baahar aata hai" ]
[ GIF: ایک چہرے پر جو کہتا ہے "America jo kaam karta hai woh hamesha sahi nahi hota" ]
[ GIF: ایک نوجوان جسے پھنڈا ہوا ہوا کہتا ہے "America ne Israel ko kitna paisa diya?!?" ]
 
اس معاہدے کیnews کوپھینے میں کچھ بات تھی? ایسے سے لگتا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی سامان فراہم کرنے کی منظوری دی ہے، لیکن اس بات پر کوئی تفصیلی بات نہیں کی جاسکتی کہ یہ معاہدہ انسانوں کی جان سے نکلے، یا نہیں کہ یہ سے کون سے مسائل پیدا ہو کر ان کا حل نہیں پاتے ۔
 
اس defence deal ki baat karte samay mujhe laga ki Israel ko America se kitna saavdhaani aur behtareen tareeke se suvidhaa prapt kar raha hai. Yeh sab $6.5 arab tak pahunch gayaa hai jisase Israel ki defense system ko mazboot banane mein madad milegi.

Lekin yeh sawal hota hai ki ye money America ke liye kitna laagatdeeh hai? Aur kya yeh money Israel ki economy par kaafi aakar ka prabhaav de raha hai. mujhe laga ki Israel ko America se defense deal karne ke baad apni defense system ko mazboot banane ke liye bahut saavdhaani bhi rahi hogi, kyunki America ko yeh money America ki economy par bhi lagataar aakar de raha hai.

Yadi America Israel ke liye defense deal karta hai toh America ko apni foreign policy mein kya badlaav karna hoga? Aapke andar yeh sawal hota hai. 🤔
 
واپس
Top