US Embassy Spokesperson | Express News

فطرت عاشق

Well-known member
امریکا کی ایمبیسی کے ترجمان نے اسلام آباد میں منعقدہ مختلف ایونٹس کے بارے میں بتایا ہے جس میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر دکھبھل دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کو یقین دिलایا ہے کہ ایک اور کامیاب ہفتہ میں پہنچنا۔

ترجمان نے اسپیکر سیریز ’فریڈم 250: انٹرپرینیورز روڈمیپ‘ کا آغاز کیا جس میں برٹن سنو بورڈز کی شریک بانی اور چیئر ڈونا کارپنٹر نے امریکی ایکسچینج ایلومنا اور ایڈونچر ایتھلیٹ سمر خان کے ساتھ مکالمہ کیا۔ اسکے علاوہ انہوں نے پاکستانی حکومت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک نیا ایجوکیشن ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جو فنونی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دے گا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے 2025 انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام کے سابق شرکاء سے ملاقات کی اور توانائی سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک مختلف شعبوں میں امریکی ماہرین سے بننے والے قیمتی روابط کے بارے میں بات کی ہے۔

انہوں نے کراچی میں قونصل جنرل گڈمین کے انگریزی ایکسس پروگرام میں 200 طلبہ کی گریجویشن تقریب میں بھی شرکت کی ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو مہارت حاصل کرنے اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ترجمان نے پشاور میں قونصل جنرل ایکرٹ اور قونصل خانے کی یوتھ کونسل سے بات کی جس میں امریکی جدت کو پاکستانیوں اور امریکیوں کے لیے خوشحالی کو فروغ دینے پر بات کی گئی ہے۔

قونصل جنرل سینڈرز نے پنجاب میں امریکی تعاون سے چلنے والے یونیسیف کے ایک امدادی مرکز کا دورہ کیا جو سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کر رہا ہے اور تاریخی گھنٹہ گھر کی امریکی فنڈ سے بحالی کا افتتاح کیا ہے۔

اتernalChargeur Baker نے سرحدوں پر سفر کیا اور مقامی رہنماؤں سے ملاقات کی، زرعی اور کاروباری برادریوں سے رابطہ کیا اور اس اہم خطے میں امریکی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی ثقافتی روایات کی جانچ بینی کی۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ ایک اور متاثرکن ہفتہ منماں ہیں جب انہوں نے امریکی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔
 
ایمبیسی کے ترجمان کی گئی نئی شروعات بھرپور تھیں، انہوں نے ایسے کامیاب کیریئر کے راتوں کی بات کی جیسے اس ہفتے سے پہلے ہی وہی کہیں نہیں تھی 🤓، ایک بار پھر دیکھنا میرا شوق ہے کہ انہوں نے شائع کردہ اس لائٹ رپورٹ میں ان ایونٹس کے بارے میں بتایا ہے جس کی وہ سب کچھ سے منسلک کیا ہے، پہلے سے ہی یہ بات بھی لگ رہی تھی کہ انہوں نے کیا کیونکر نہیں تھا 🤔
 
اس ہفتے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بھرپور توجہ دی گئی ہے اور یہ بات بالکل صحت مند ہے۔ ایسے ہفتوں سے میری مانیٹنگ کرتا رہتا ہوں، جب ایمبیسی کے ترجمان ڈیپلمی کی توجہ دلائی دیتے ہیں تو یہ کہیں بھی ناکام ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔

اس سیریز میں پینٹسٹاپ کرسٹی اور اورینج اینڈی مائی گارڈن کو نظر انہوں نے بھی ایک ہفتے کیپچر بھی دیکھا، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ امریکی اور پاکستانی تعلقات کو بڑھانے کے لیے اپنی توجہ سے کام کرنا ضروری ہے۔
 
امریکا کی ایمبیسی اور پاکستان میں جس تعاون کا آغاز ہوا ہے وہ بہت اچھا ہے، ان میں سے ایک نئی تعلیم کا ورک شپ قائم ہونے والا ہے جس میں فنون اور اعلیٰ تعلیم دونوں شعبوں میں مل کر کام کیا جائے گا۔ اس طرح کی وہی منافقت کرتے ہوئے جو دنیا بھر میں ہوتی ہے، اس نئے ایجوکیشن ورک شپ سے ہمیں کام کا راستہ مل جائے گا۔
 
امریکا اور پاکستان کی تعلقات میں یہ ہفتہ بہت اچھا ہوگا، امریکی ایمبیسی کے ترجمان نے منعقدہ مختلف ایونٹس سے بات کی جس میں پاکستان اور अमریکہ کے تعلقات پر دکھبھل دی گئی ہے #AmrikiPakkaat

انہوں نے اسپیکر سیریز ’فریڈم 250: انٹرپرینیورز روڈمیپ‘ کا آغاز کیا جو ایک اچھا Move ہے کہیں تک یہ دیکھنا منافقت میں نہ آئے #InnovationPakistan

انہوں نے پاکستانی حکومت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک نیا ایجوکیشن ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جو فنونی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دے گا #EducationForAll

انہوں نے کراچی میں قونصل جنرل گڈمین کے انگریزی ایکسس پروگرام میں 200 طلبہ کی گریجویشن تقریب میں بھی شرکت کی ہے جو نوجوانوں کو مہارت حاصل کرنے اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کا مقصد رکھتا ہے #CareerGoals
 
اس میں انساف کی بات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت گہرے اور صحت مند ہیں، لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی ایک نئی سیریز قائم کر رہے ہیں جس کا مقصد تعلیم اور کاروبار میں پاکستانی اور امریکی لوگوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یہ منصوبہ بھرپور نئی کوشش ہے، اس سے نوجوانوں کو ایسی مہارت حاصل کرنے کی سہولت ملیگی جو ان کے معاشی مستقبل کو مضبوط بنائے گی اور وہ اپنے ملک میں सक्रین طور پر کام کرنے سے بھی ہٹ رہے ہیں، ایسی یونیونسف کے ایک ایمڈیٹیو سنٹر کو بنانے سے ان کے لیے بھی اچھی نئی نیت ملے گی۔
 
amerika ki embassy kaa trajmaan yahaan aaya hai, apne paas bahut cheezayin kee hain. woh islamabad mein bhi aaye hain aur alag-alag eventon ka maza le rahe hain. unhonein pakistaan aur america ke beech ki dosti ko mazboot karne ka maqa kaha.

mera khayal hai, ye sab eventon ek hi target banakar chalane jaate hain. joh pata lagta hai, America ki embassy apni cheezon ko bahut achi tarah prastut kar rahi hai. lekin, main yeh bhi maant sakta hoon ki kuch log yahan kaam karte samay america ke nakaab ki wajah se bekarar ho jaate hain.

mera khayal hai, america ki embassy ko apni cheezon ko thik dikhana chahiye. lekin, main bhi yaad dilata hun ki America ki embassy Pakistan ke liye ek bahut hi mahatvapoorn sthiti hai.
 
اس ایمبیسی ترجمان کی یہی پوزیشن بھی ہو سکتی ہے کہ وہ کسی ایونٹ میں شرکت کریں اور تین گیندوں کو سچا کرنے کی کوشش کریں تاہم اس پر ان کی بات چیت بھی دیکھنی چاہئیے، یہ رہا ایک حقیقی قیمتی تعاون جس میں دونوں طرف سے ذمہ دار ہونے کی کوئی شروعات نہیں کی گئی ہے۔

(Icon: 💬)
 
امریکا کی ایمبیسی کو یہاں تو کافی اچھا کھلایا جارہا ہے، لیکن وہ یہ واضح نہیں کر رہے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں میں کیا معیاری اور واضح منظور ہے۔ یہ سب کچھ جتنا کہیں بھی امریکا کو پاکستان سے ایک اچھا بھلایا دیکھنا ہو گا، مگر وہ یہ واضح نہیں کر رہے ہیں کہ کیا ان کی سرگرمیوں سے پاکستان کو فائدہ ہوسکے گا یا کس طرح۔
 
یہ بھی تو ایک ٹروپ ہو گیا ہے کہ امریکی ایمبیسی اور پاکستان کی دوسٹی اس پر کیسے لگتی ہو۔ واضح طور پر، یہ سب ایک چیلنج نہیں بھی، لیکن پھر بھی جس طرح سے انہوں نے شاپنگ میکس اور فیشن کو بہت خوش کر دیا ہے وہی سب کچھ ٹرول کیا جا رہا ہے
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ ایمیلیا نہیں اور یہ سب ایک ایسا چیلنج سٹریٹجی ہے جس کو ان کے ہر میٹنگ میں پھینک دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے وہ دوسروں کی بات کرتے ہیں اور پھر اپنی بات کرتے ہیں، پھر ان میں کوئی بات نہیں ہوتی تو وہ اس پر توجہ دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گیم ہے جس میں کلاسفائیڈ اور بلیٹنگ سیکسیڈ نے اپنا حصہ ڈالا ہوگا، اور اب اس پر لوگ تھم پڑتے ہیں۔
 
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے منعقد ہفتوں میں اس وقت تک برادری کے درمیان وثائق کی پہچان کی جائے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مزید قوی بنایا جاے۔ #AmrikiPakTajdar
 
اس کا مقصد تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے لیکن یہ بات بھی دکھائی دے رہی ہے کہ یہ کہانی ابھی بھی شروع ہوئی ہے... میں نہیں سمجھ سکا کا۔ پہلے تو یہ کہتی ہوگی کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے کا مقصد ان دونوں ممالک کی ترجمانی کرنا ہے... اور اب یہ کہتے ہیں کہ یہ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے... میں نہیں سمجھ سکا!
 
امریکا کی ایمبیسی کے ترجمان نے بھی کیا ہو گیا تو یہ تو کچھ نئی توجہ لے کر آ رہا ہے۔ انھوں نے وہی سرگرمیاں جاری کی ہیں جنھیں ابھی پورے ملک میں ساتھ دیکھنا شروع کیا گیا تھا، انھوں نے یوتھ کو ساتھ لے کر بھی کام کیا ہے جو اچھا ہے…
 
امریکا کی ایمبیسی کا یہ کام سچ میں ایک اچھا کوشش ہے لیکن اس پر بات کرتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ امریکا کی ایمیبیسی نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر دکھبھل دی ہے لیکن یہ کیا اسے ہر کسی کی ذمہ داری نہیں? ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سچ میں ایک اچھا کام کیا ہے لیکن اس پر بات کرنا یہی ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
 
یہ لائے پھر کہیں نہیں، مگر ایم بی دیس کی ترجمان ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ایک سال میں اٹھارہ بار دنیا کا دورہ کر لیڈرشپ کا نام لینے والے بن جاتے ہیں...

آج امریکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہروں میں بھی ان کی ملاقات ہوئی، یہ سب ایک اچھا کردار ادا کر رہے ہیں... لیکن کیوں نہیں کہیں یہ چرچا نہیں ہوتا؟

اس میں شامिल ہونے والے لوگ سب کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنی اقدار بھی بتاتے ہیں... لیکن نوجوانوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ ان کی ترجمان سے پیسہ کیسے ملتا ہے؟

انہوں نے ایک اچھا کردار ادا کیا ہے... لیکن اسی وقت میں یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ قونصل جنرل گڈمین کی انگریزی ایکسس پروگرام میں 200 طلبہ کی گریجویشن تقریب میں ان کا کردار نہیں تھا...

یہ ہوا نہیں تو اس پر کوئی بات کہی جا سکتی؟
 
امریکا کی ایمبیسی نے اسلام آباد میں بھی کیا ہے اس سے پہلے کراچی اور پشاور میں بھی، ابھی کچھ ہفتوں میں انہوں نے ہر جگہ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس سے پہلے کی ہفتوں سے انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر چارچہ کیا تھا جس میں کچھ نئے منصوبوں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ اچھا دیکھتے ہیں انہوں نے یقین دیڑھتا ہے کہ اگلی ہفتہ میں بھی کچھ نئے منصوبوں سے ملن گے جو پورے ملک میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط کرنے میں مدد करें گی۔

اس بات کی بھی یقین دلا دیا گیا ہے کہ انہوں نے 2025 انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام کے سابق شرکاء سے ملاقات کی اور امریکی ماہرین کے ساتھ قیمتی روابط بنانے کے بارے میں بات کی ہے۔ اس سے پتا چalta ہے کہ انہوں نے امریکی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے اور اس سے پاکستان کے مختلف شعبے میں بھی مدد ملेगی۔
 
امریکا کے ایمبیسی کے ترجمان نے دیہات کی طرف بھی سفر کیا اور لوگوں سے مل کر ان کے ترجھے علاقوں میں وہنچر کا حل تلاش کیا ہے 📊

ایک دوسرا بات یہ ہے کہ امریکی ایکسچینج اور ایڈونچر ایتھلیٹ سمر خان نے اس سیریز میں شریک بانی کی حیثیت سے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر پھیپھڑا ڈالا ہے 🚀

تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک اچھی سی ملاقات سے بہتر کچھ نہیں ہوتا، اور پاکستان اور امریکہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اپنے لوگوں کی ترقی کے لیے اس طرح کے پروگرام میں بھرپور شراکت داری کرنی چاہیے۔
 
میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک بھالے منظر نامہ ہے، امریکی ایمبیسی نےPakistan میں کتنے اہم روپ کو لایا ہے؟ انٹرپرینیورز روڈمیپسے شروع کرکے پھیلتے ہوئے ایجوکیشن ورکنگ گروپ تک، یہ سارے کوشش کیوں کیا گیا؟ اور اس میں کیا فرقپنہ ہوا ہے؟
 
امریکا کی ایمیسیز کے ترجمان نے ان ہفتوں سے مناظر لگے ہیں جن میں شفقت اور تعاون دکھایا جارہا ہے، وہ کبھی بھی ایسا نہیں کیا ہو سکتا۔ یہ سب ان امریکی مہارتوں اور رہنماؤں کے ثقافتی تبادلے کی وجہ سے ہوا جس نے اپنے وقت میں بھی ایسی پہچان بنائی ہوئی ہے۔
 
واپس
Top